علامہ احمد اقبال رضوی:

مطالبات منظور نہ ہوئے تو وزیراعلیٰ ہاوس پنجاب کا گھیراو کریں گے

خبر کا کوڈ: 1573365 خدمت: پاکستان
سید احمد اقبال رضوی

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر محب وطن قوتوں کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر محب وطن قوتوں کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پر کاربند ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں حقیقی معنوں میں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے لیکن حکمران غیر ملکی آقاؤں کے اشارے پر چلتے ہوئے پاکستان میں انتشار کی سیاست کو ہوا دے رہے ہیں۔

علامہ احمد اقبال نے مزید کہا کہ ملت تشیع نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور آئندہ بھی ملک کے وسیع قومی مفاد میں امن و بھائی چارے کی فضا کو برقرار رکھے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

علامہ احمد اقبال  کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی رہنما سید ناصر عباس شیرازی کے لاپتہ ہونے نے پنجاب حکومت کے سیکیورٹی کی برقراری کے تمام دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت کا رویّہ ناقابل قبول ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے رہنما نے مزید کہا کہ ملت تشیع سے تعلق رکھنے والے لاپتہ افراد کے لئے اہم نے ابھی تک پر امن راستہ اختیار کیا ہے، لیکن حکومت ہمارے صبر کا امتحان نہ لے۔

انہوں نے علاقے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام اور عراق میں داعش کی شکست کے ساتھ ہی امریکہ اور اس کی آلہ کار حکومتیں افغانستان میں دھشت گرد گروہ داعش کو منظم کرنے کی کوشش کررہی ہیں، کہا کہ پاکستان میں بھی دہشت گرد گروہ داعش کے خطرات منڈلا رہے ہیں لیکن حکومت محب وطن شہریوں کو پریشان کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنما نے کہا کہ پنجاب کی حکومت خاص طور پر اس صوبے کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ دہشت گرد تنظیموں کے ایجنڈے پر کام ہوئے ملک میں قائم اتحاد بین المسلمین کی فضاء کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں علامہ احمد اقبال نے ناصر عباس شیرازی کو لاپتہ کیئے جانے میں پنجاب حکومت کے وزیر قانون کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناءاللہ نے ہمیشہ محب وطن شہریوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما نے آخر میں ملت تشیع کے مسلمہ قانونی حقوق کے حصول تک جدوجہد جاری رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیو ایم کی قیادت اعلی حکومتی عہدیداروں سے رابطے میں ہے اور اگر ہمارے مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو لاہور میں وزیر اعلی ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا اور اس کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلا دیا جائے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری