امریکی اتحاد کے ساتھ معاہدے کے بعد الرقہ سے 250 داعشی دہشتگردوں کے فرار کا انکشاف

خبر کا کوڈ: 1573955 خدمت: دنیا
داعش

امریکی حمایت یافتہ فورسز نے رقہ پر قبضے کے وقت 250 داعشی دہشتگردوں کو محفوظ طریقے سے شہر چھوڑنے کی اجازت دی۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بتایا ہےکہ  بی بی سی کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ رقہ پر قبضے کے وقت امریکی حمایت یافتہ فورسز نے 250 داعشی دہشتگردوں کو محفوظ طریقے سے شہر چھوڑنے کی اجازت دی تھی۔

ان دہشتگردوں  نے فورسز سے اجازت لی کہ معاہدے کے مطابق غیر مسلح ہونے کی صورت میں 4000 سے زیادہ داعشی سول شہریوں کے ہمراہ رقہ شہر کو چھوڑدیں گے۔

دہشتگردوں کے ہمراہ رقہ چھوڑنے والے عام شہری داعشی دہشتگردوں کے اپنے خاندان ہی تھے، رقہ میں تھوڑی پوچھ گچھ کے بعد فورسز سے اجازت لی گئی تھی کہ وہ تقریبا 100 بسوں کے ذریعے شہر کو چھوڑ دیں گے۔

اس سلسلے میں یہ بھی واضح ہوا ہےکہ رقہ شہر کی آزادی کے موقع پر درجنوں غیرملکی داعشی دہشتگرد 10 ٹرکوں کے ذریعے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کے ہمراہ رقہ سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

یہ غیر ملکی جنگجو شہر چھوڑنے کے فورا بعد مختلف علاقوں میں تقسیم ہوگئے اور ان میں سے بعض تو ترکی کی سرحدبھی  عبور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

واضح رہے کہ امریکی  اتحاد نے رقہ پر کنٹرول کے وقت کہا تھا کہ غیر ملکی داعشی دہشتگردوں کو کسی صورت شہر چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ عسکریت پسند ہتھیار ڈال دیں یا پھر موت قبول کرلیں۔

اس کے علاوہ شواہد موجود ہیں جس کے تحت امریکی اتحاد میں شامل بعض کرد اور عرب کمانڈروں نے داعش کے ساتھ معاہدے کے بعد رقہ شہر سے درجنوں دہشتگردوں کو نکلنے کی اجازت دی تھی۔

یاد رہے کہ رقہ شہر 2013 میں دولاکھ آبادی پر مشتمل شام کی حکومت کے کنٹرول سے نکل گیا تھا اور حکومت مخالف گروہ  القاعدہ کے ساتھ وابستہ النصرہ اور شامی ڈیموکریٹک فورس نے اس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جبکہ داعش نے سال 2014 کے شروع میں رقہ پر کنٹرول حاصل کرکے اسے اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

روس، امریکہ اور چند دیگرممالک نے کافی عرصہ تک رقہ میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور بالآخر اس شہر کو امریکہ کی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورس نے آپریشن کے ذریعے داعش کے قبضے آزاد کرالیا۔

شامی ڈیموکریٹک فورس نے آج سے تین ہفتے پہلے فتح کا اعلان کیا تھا کہ رقہ شہر کو داعشی دہشتگردوں سے مکمل طور پر صاف کردیا گیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری