افغان عوام مہاجرت پر مجبور کیوں؟ + اینفوگرافیک

خبر کا کوڈ: 1574786 خدمت: دنیا
ارگ ریاست جمهوری افغانستان

"ایشیا فاؤنڈیشن" نے افغانستان کی موجودہ صورت حال پر تحقیق کے بعد کہا ہے کہ سو میں سے 61 فیصد افغانوں کو اس پر یقین ہے کہ افغانستان صحیح سمت پر گامزن نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کی رپورٹ کے مطابق "ایشیا فاؤنڈیشن" برائے بین الاقوامی ترقی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کی گئی تحقیقات کی بنیاد پر 61 فیصد افغانوں کا نظریہ  ہے کہ ملک غلط سمت پر گامزن ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سو میں سے 33 فیصد لوگوں نے ملک کی موجودہ صورت حال کے حق میں رائے دی جبکہ سو میں سے 6 چھ فیصد نے اس بارے میں کوئی رائے نہیں دی۔

تاہم ایشیا فاؤنڈیشن کی رپورٹ گزشتہ سال کی نسبت اس سال ترقی میں اضافےکو ظاہر کرتی ہے۔

پچھلے سال 29 فیصد لوگوں کو اس بات کا یقین تھا کہ افغانستان صحیح سمت میں چل رہا ہے اور سو میں سے 66 فیصد عوام کی رائے یہ تھی کہ ملک صحیح راستے پر گامزن نہیں ہے۔

بہت سے مسائل گزشتہ سال کی نسبت اس سال لوگوں کی توقعات کو بڑھانے کا باعث بنے ہیں جن میں افغانستان کے عوام کی امید کی سطح میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ اضافہ 51 فیصد تعمیری بحالی، 26.7 فیصد حکومت کو بہتر بنانے، 14.9 فیصد خواتین کے حقوق، اور 11.6 فیصد معیشت کو بہتر بنانے کی وجہ سے امکان پذیر ہوا ہے۔

ایشیا فاؤنڈیشن نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ 70.6 فیصد افراد نے ملک میں جوان طبقے کےلیے سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری کو قرار دیا ہے اور کابل سمیت ملک کے مرکزی شہروں میں 76.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا ہے کہ بے روزگاری نوجوانوں کےلیے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

یہ ایسی صورت میں ہے کہ 38.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا ہے کہ  وہ مناسب موقع پر افغانستان کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان  میں 41.2 فیصد مرد اور 36.3 فیصد خواتین ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ شہریوں کی بڑھتے ہوئے عدم تحفظ اور سول شہریوں کے قتل عام کی وجہ سے ملک سے ہجرت کرنے کی خواہشات کو تقویت ملی ہے۔

افغانستان ترک کرنے والوں میں 77 فیصد ناامنی، 55 فیصد بے روزگار ی اور 26 فیصد نے کمزور حکمرانی کو اپنے افغانستان سے نکلنے کی دلیل قرار دیا ہے۔

افغانستان میں مہاجرین کے امور کے وزیر سید حسین عالمی بلخی کے مطابق دیس چھوڑکر یورپ کے راستے میں ہلاک ہونے والے پناہگزینوں میں سو میں 12 فیصد افغانی پناہگزین ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری