پرامن طریقے یا طاقت کے استعمال سے مظاہرین کو ہٹایا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

خبر کا کوڈ: 1576758 خدمت: پاکستان
اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ فیض آباد انٹر چینج پر دھرنے میں موجود مذہبی جماعتوں کے مظاہرین کو پرامن طریقے یا طاقت کے استعمال سے کل تک ہٹایا جائے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز نے یہ حکم شہری عبدالقیوم کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا، مذکورہ درخواست کی سماعت کے دوران ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کیپٹن (ر) مشتاق اور ڈی آئی جی آپریشن بھی عدالت میں موجود تھے۔

عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران اپنے حکم میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ مظاہرین سے فیض آباد کا علاقہ خالی کرائے۔

عدالت نے انتظامیہ کو ہدایات کیں کہ پرامن طریقے یا طاقت کا استعمال کرتے ہوئے، جیسا بھی ممکن ہو اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج کو مظاہرین سے خالی کرایا جائے۔

جسٹس شوکت عزیز نے اپنے ریمارکس میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک اختیارات کا استعمال نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اختیارات کے استعمال میں ناکام رہی ہے۔

جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ ہمارے دین میں تو حکم ہے کہ جنگ کے دنوں میں بھی بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو کچھ نہ کہیں۔

عدالت نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنے اور مظاہروں کے لیے جگہ مختص کی جا چکی ہے، ’دھرنے اور مظاہرے کے لیے ڈیموکریسی اینڈ اسپیچ کارنر مختص کیا گیا ہے‘۔

جسٹس شوکت عزیز نے ریمارکس دیئے کہ کوئی بھی شہری اپنے آزادی اظہار رائے کے حق کے استعمال میں یہ خیال رکھے کہ اس سے دوسرے شہری کو تکلیف نہ ہو۔

انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ گذشتہ روز پارلیمنٹ نے آئین میں ترمیم کی جانے والی ختم نبوت کی مذکورہ شقوں کو اپنی اصل شکل میں بحال کردیا ہے جس کے بعد مظاہرے اور دھرنے کا جواز ہی نہیں۔

اس موقع پر ڈی سی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ دھرنے میں شریک افراد نے پتھر جمع کیے ہوئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کے پاس 10 سے 12 ہتھیار بھی ہیں۔

ڈی سی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ دھرنے میں 1800 سے 2 ہزار کے قریب افراد شامل ہیں جبکہ جمعے کی نماز کی ادائیگی کے بعد یہ تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انتظامیہ کو آپریشن کے لیے 3 سے 4 گھنٹوں کا وقت درکار ہے جبکہ جمعے کی نماز کے کچھ دیر بعد ہی اندھیرا پھیل جاتا ہے اور اندھیرے میں آپریشن سے نقصان ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے فیض آباد انٹر چینج پر جاری دھرنا ختم کروانے کے احکامات پر عمل درآمد کے اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس کی صدرات ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) مشتاق احمد نے کہ۔

اجلاس میں ڈی آئی جی آپریشن، ایس ایس پی اور دیگر افسران شریک ہوئے، جس میں اے آئی جی اسپیشل برانچ کیپٹن (ر) محمد الیاس بریفنگ دی۔

اجلاس سے جڑے ذرائع کے مطابق دھرنے کے شرکاء کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر آخری وارننگ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ تحریری وارننگ سے دھرنے کا شرکا کو رات 10 بجے تک کا وقت دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تنبیہ کے باوجود رات 10 بجے تک اگر فیض آباد خالی نہ ہوا تو پھر اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں آپریشن ہوگا جس میں پولیس کے ساتھ ایف سی اور رینجرز کو بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ دھرنے کے شرکاء کے خلاف آپریشن رات میں کرنا ممکن نہیں ہوسکتا جبکہ یہ 18 نومبر کی صبح ہی متوقع ہے۔

گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے آئین میں ختم نبوت کی شق کو مبینہ طور پر تبدیل کرنے والے ذمہ داروں کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مذہبی جماعتوں کے مظاہرین کو فیض آباد انٹر چینج جاری اپنا دھرنا فوری ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک لبیک پاکستان کے مجلسِ شوریٰ کے رکن جواد کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ختم نبوت سے متعلق آئینی ترامیم کے ذمہ داروں کو سزا دلانے اور معاملے کی تحقیقات پر راجہ ظفر اللہ حق کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کے لیے درخواست جمع کرائی گئی تھی۔

مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز نے دھرنے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ عدالت میں آگیا ہے تو خدا کا خوف کریں، بزرگ، بچے، ملازمین اور طالب علم دھرنے سے متاثر ہو رہے ہیں، دھرنا ختم کریں تاکہ عوام کی مشکلات ختم ہوں، بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 29 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی تھی۔

خیال رہے کہ سنی تحریک اور تحریک لبیک پاکستان یا تحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان کے سینکڑوں رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں نے اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر گذشتہ ایک ہفتے سے دھرنا دے رکھا ہے۔

دھرنے میں شامل دونوں مذہبی جماعتوں کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ حال ہی میں ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میں کی جانے والی تبدیلی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرتے ہوئے معطل کرے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں 50 لاکھ لوگ مقیم ہیں جن میں سے تقریباً 5 لاکھ کے قریب افراد روزانہ جڑواں شہروں کے 16 داخلی اور خارجی راستوں کو استعمال کرتے ہیں۔

راولپنڈی کے مقامیوں کی بڑی تعداد روزانہ مختلف وجوہات کی بنا پر اسلام آباد کا سفر کرتی ہے، کچھ لوگ تعلیم جبکہ کچھ لوگ روزگار کے لیے وفاقی دارالحکومت پہنچتے ہیں، اس ضمن میں انہیں اسلام آباد ہائی وے کا روٹ استعمال کرنا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے وفاقی دارالحکومت میں دھرنا یا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے تو انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت کو کنٹینرز لگا کر سیل کردیا جاتا ہے۔

مذہبی جماعت کی جانب سے دیے جانے والے حالیہ دھرنے میں اب تک ایک بچے کی ہسپتال نہ پہنچے کے باعث ہلاکت ہوچکی ہے، جاں بحق بچے کے والدین نے مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کروایا تاہم ابھی تک ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

سٹرک بند کر کے مرضی کے فیصلے مسلط کرنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ شہریوں کو پریشانی سے بچانے کے لیے کسی بھی شخص یا تنظیم کو سڑک بند کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری