مفتی منیب الرحمن کا اسلام آباد میں جاری مذہبی جماعتوں کے دھرنے کی حمایت کاعلان

خبر کا کوڈ: 1577124 خدمت: پاکستان
منیب الرحمان

رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین نے مذہبی جماعتوں کے دھرنے کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا: تحریک لبیک کی قیادت کو سلام پیش کرتا ہوں، اسلام آباد دھرنے کے خلاف حکومت نے کوئی ایکشن کیا تو حالات بند گلی کی طرف پہنچ جائیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ممتاز عالم دین، مفتی اعظم پاکستان اور رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین  مفتی منیب الرحمن بھی تحریک لبیک کی حمایت میں میدان میں آ گئے ،حکومتی الٹی میٹم پر مسلم لیگ ن کی حکومت کو  متنبہ  کرتے ہوئے  کہا ہے کہ کوئی بھی غیر حکیمانہ اور سخت اقدام کیا گیا تو ممکن ہے کہ حالات بند گلی کی طرف پہنچ جائیں گے جہاں سے نکلنا سب کے لئے دشوار ہو جائے ۔

تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک اور دیگر مذہبی تنظیموں  کے فیض آباد دھرنے کی کشیدہ صورتحال پر اپنے ویڈیو پغام میں رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین  مفتی منیب الرحمن کا کہنا تھا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائدین اور کارکنان نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے جو دھرنا دے رکھا ہے، میں پوری قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ نازک صورتحال سے دوچار ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایکشن کا حکم دیا ہے لیکن میں حکومت پاکستان کو متنبہ کرتا ہوں کہ کوئی غیر حکیمانہ اقدام نہ کیا جائے ،ایسا نہ ہو کہ ہم ایسی بند گلی کی طرف نکل جائیں کہ جہاں سے سب کے لئے نکلنا دشورا ہو جائے۔

انہوں نےعلامہ خادم حسین رضوی اور انکے تمام رفقا اور کارکنان کی عظیمت و استقامت کو سلام پیش کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ راجہ ظفر الحق پر مشتتمل جو کمیٹی با اختیار ہو کر علامہ سید حسین الدین شاہ اور ڈاکٹر ساجد الرحمن سے اس وقت تک مذاکرات کرے کہ جب تک کسی متفقہ نتیجے پر نہ پہنچ جائیں تاکہ اس مشکل صورتحال سے ہم سب پر امن طریقے سے نکل سکیں اور کوئی جانی یا ایسا نقصان نہ ہو کہ جس کی تلافی سب کے لئے مشکل ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان داخلی اور خارجی اعتبار سے انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار ہے ،اس صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ تدبر ،تحمل ،حکمت عملی اور دانش مندی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔

انہوں نے راجہ ظفر الحق سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکومت سے مکمل اختیار لے کر اس دو رکنی کمیٹی سے مذاکرات کریں تاکہ جب درمیانی صورت نکل آئے تو پھر تحریک لبیک کی قیادت کے ساتھ مل کر حتمی فیصلہ کیا جائے

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری