سینٹ سے انتخابی ترمیمی بل مجریہ2017متفقہ منظور/ ختم نبوت سے متعلق شقیں اصل شکل میں بحال

خبر کا کوڈ: 1577484 خدمت: پاکستان
مجلس سنای پاکستان

ریڈیو پاکستان کے مطابق بل کے تحت انتخابی ایکٹ 2017 میں نئی دفعہ 48 اے کو شامل کرکے جنرل الیکشن آرڈر 2002 کے آرٹیکل سیون بی اور سیون سی کی شقوں کو بحال کیاگیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ریڈیو پاکستان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سینٹ نے جمعہ کے روز الیکشن ترمیمی بل 2017 کی متفقہ منظوری دے دی جس کا مقصد ختم نبوت سے متعلق شقوں کو اپنی اصل شکل میں بحال کرنا ہے۔

بل کے تحت انتخابی ایکٹ 2017 میں نئی دفعہ 48 اے کو شامل کرکے جنرل الیکشن آرڈر 2002 کے آرٹیکل سیون بی اور سیون سی کی شقوں کو بحال کیاگیا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اور انصاف زاہد حامد نے کہاکہ قادیانیوں یا لاہوری گروپ کوبدستور غیرمسلم ہی تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص خود کو ووٹر لسٹ میں بطور مسلمان اندراج کراتا ہے تو کوئی بھی دوسرا شخص نظرثانی حکام کے روبرو اسے چیلنج کرسکتا ہے جہاں متعلقہ شخص کو ختم نبوت کے حلف نامے پر دستخط کرنا ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ اگر متعلقہ شخص اس حلف نامے پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے تو اسے غیر مسلم تصور کیا جائے گا اور اس کا نام مسلم ووٹرز کی فہرست سے نکال کر غیرمسلم ووٹرز کی فہرست میں شامل کر لیا جائے گا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری