مزاحمت و استقامت فلسطینی قوم کی تہذیب بن چکی ہے، حماس

خبر کا کوڈ: 1578044 خدمت: اسلامی بیداری
گفت و گو با سامی ابوظهری

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ مزاحمت و استقامت فلسطینی قوم کی تہذیب و ثقافت بن چکی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حماس کے ترجمان سامی ابوزہری نے کہا کہ استقامت فلسطینی عوام کی ایک تہذیب اور کلچر میں تبدیل ہوچکی ہے اور حماس نے استقامت کوکسی ایک جماعت کے کارنامے تک ہی محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اس کو فلسطینی عوام کی زندگی کا حصہ اور کلچر بنادیا ہے۔

حماس کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جو لوگ استقامت کا راستہ روکنے اور فلسطین کے مسلح گروہوں کو نہتا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ غلط خیالوں میں ہیں اور ان کا یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ استقامتی تحریک انتہائی قوی اور طاقتور ہے۔ حماس کے ترجمان اور سینیئر رہنما نے کہا کہ حماس کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرےگی اور ہمیشہ اپنے اس اصول پر باقی رہے گی۔

ان کا کہناتھا کہ جب تک پوری سرزمین فلسطین آزاد نہیں ہوجاتی تحریک حماس فلسطینی کاز کی حمایت جاری رکھے گی۔ حماس کے ترجمان نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اس تحریک نے شہید عزالدین قسام بریگیڈ تشکیل دی ہے کہاکہ کہ قسام بریگیڈ صرف ایک فوجی بازو نہیں ہے بلکہ ایک مکمل فوج ہے جس کا کام فلسطینی سزمین کو آزاد کرانا ہے۔

انہوں نے حماس اور الفتح کے درمیان ہونے والے حالیہ مفاہمتی سمجھوتے کے بارے میں کہا کہ حماس کی کوشش ہے کہ وہ قومی اور داخلی سطح پر تعلقات کو محفوظ رکھے اور ساتھ ہی وہ قومی آشتی کے عمل کو پورا کرنے کی اپنی کوشش بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری