پینٹاگون نے کارروائی کیلئے حقانی نیٹ ورک کو لشکرِ طیبہ سے علیحدہ کیا

خبر کا کوڈ: 1579228 خدمت: پاکستان
پنتاگون

امریکا کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے جبکہ لشکرِ طیبہ کو چھوڑنے کا فیصلہ کرنے میں امریکی محکمہ دفاع نے اہم کردار ادا کیا۔

خبر رساں ادرے تسنیم کے مطابق چند روز قبل امریکا نے دفاعی بل منظور کیا تھا جس میں حقانی نیٹ ورک کو لشکرِ طیبہ سے علیحدہ کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کی افواج کے ساتھ مل کر صرف حقانی نیٹ ورک کا خاتمہ کرنے کے لیے مشترکہ کارروائی کا فیصلہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2 امریکی دفاعی عہدیدار، سیکریٹری دفاع جیمز میٹس اور جوائنٹ چیف آف اسٹاف چیئرمین جنرل جوزف ڈنفرڈ آئندہ چند روز میں اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں۔

جنرل جوزف ڈنفرڈ اپنے دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے جبکہ امریکا کے سیکریٹری دفاع جیمز میٹس 3 دسمبر کو اسلام آباد آئیں گے۔

گزشتہ ہفتے جمعرات (16 نومبر) کو کانگریس نے ایک بل پاس کیا جس میں پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد دینے کی منظوری دی گئی جو پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے تاہم امریکا نے منظور کی جانے والی امداد کا آدھا حصہ روک لیا۔

اس حصے کے روکنے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ پوری امداد کے حصول کے لیے اسلام آباد کو ملک میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف عملی کارروائی کرنی ہوگی جس کے بارے میں امریکا الزام عائد کرتا ہے کہ اس گروپ کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں موجود ہیں۔

خیال رہے کہ نیشنل ڈیفنس اتھورائیزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) 2018 کی پیش کردہ ابتدائی دستاویزات میں حقانی نیٹ ورک اور لشکرِ طیبہ کا نام شامل تھا، تاہم حتمی بل کی منظوری کے وقت اس میں سے لشکر طیبہ کا نام نکال دیا گیا تھا جبکہ حقانی نیٹ ورک کا نام رہنے دیا گیا تھا۔

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے ذرائع کے مطابق بھارتی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ این ڈی اے اے 2018 سے لشکر طیبہ کا نام نکالنے میں پنٹاگون نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مذکورہ کمیٹی کے افراد سے ملاقات کے بعد پینٹا گون حکام نے اصرار کیا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی امریکا کی اولین ترجیح ہونی چاہیے جبکہ لشکرِ طیبہ کو پاکستان کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بھارت کو اس بل سے لشکرِ طیبہ کا نام نکالنے پر شدید مایوسی ہوئی تاہم نئی دہلی مجموعی طور پر امریکا کی نئی پالیسی سے مطمئن ہے۔

یاد رہے کہ 2016 سے جب سے یہ شرط اس بل کے ساتھ منسلک ہوئی ہے، پاکستان کولیشن سپورٹ فنڈ کی صورت میں 75 کروڑ ڈالر گنوا چکا ہے۔

تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پینٹا گون کی جانب سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے لشکرِ طیبہ کا نام حذف کرنا، واشنگٹن کی اسلام آباد کو اپنی جانب رکھنے کی خواہش کا اظہار ہے۔

اسلام آباد کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کی موجودگی کے الزامات اور ان کے خلاف کارروائی کے مطالبے کو مسترد کرنے کے باوجود واشنگٹن میں موجود پالیسی ساز پاکستان کو اس اہم خطے میں ایک اہم ریاست دیکھتے ہیں۔

امریکی پالیسی ساز اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں پاکستان، افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں کو سامان پہنچانے کے لیے چھوٹا ترین زمینی راستہ فراہم کرتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری