متحدہ مجلس عمل کو بحالی سے پہلے ہی بقاکے لالے پڑ گئے

خبر کا کوڈ: 1579508 خدمت: پاکستان
ایم ایم اے

تحریک انصاف کی کامیاب سیاسی حکمت عملی کے باعث متحدہ مجلس عمل کو بحالی سے پہلے ہی بقا کے لالے پڑ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق جماعت اسلامی اورجے یو آئی میں متعدد ایشوز پر پائی جانے والی خلیج اور جماعت اسلامی کے پی ٹی آئی اتحاد سے الگ ہونے کے عندیہ کا حل نکالتے ہوئے پی ٹی آئی نے مولانا سمیع الحق سے سیاسی معاملات طے کر لیے۔جمعیت علمائے اسلام (س) کے مضبوط ووٹ بینک اور افرادی قوت کے باعث کے پی کے میں اگلا سیاسی منظر نامہ بھی پی ٹی آئی کے حق میں جانے کے امکانات روشن ہو گئے۔ انتخابات 2018ء کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کے تحت ایک بار پھر متحدہ مجلس عمل کو بحال کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے جس میں چھ بڑی مذہبی جماعتیں شامل ہیں ۔ 9 نومبر کو منصورہ میں آخری اجلاس بھی ہوچکا جس میں ایم ایم اے کی بحالی کیساتھ ساتھ دیگرسیاسی و مذہبی جماعتوں کو اس اتحاد میں شامل کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق 6 جماعتوں میں جمعیت علمائے اسلام (سمیع الحق گروپ) شامل نہیں تھا تاہم اس جماعت کی نمائندگی برقرار رکھنے کے لیے سیاسی حکمت عملی کے تحت جمعیت علمائے اسلام (سینئر) کو شامل کیا گیا تھا اور سینئر کی جگہ (س) لکھنے سے بظاہر یہی محسوس ہوتاہے کہ اس اتحاد میں سمیع الحق کی پارٹی شامل ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ ایم ایم اے بحالی کے لیے مولانا سمیع الحق کو ساتھ ملانا تو دور کی بات خود اتحاد میںشامل دو بڑی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن گروپ) اور جماعت اسلامی بھی تاحال ایک صفحے پر متفق نہیں ہو سکیں، دوسری جانب ملک بھر کی دیگرمسالک کی چھوٹی تنظیموں اور مذہبی جماعتوں نے الگ الگ سیاسی پارٹیاں اور اتحاد بنانے کا اعلان کر دیا۔

ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے کامیاب حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے جماعت اسلامی کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کی صورت میں مذہبی ووٹ کو قائم رکھنے اور مذہبی طبقے کو ساتھ ملانے کے لیے عمران خان اور وزیراعلیٰ کے پی کے نے مولانا سمیع الحق کو اپنے ساتھ اتحاد پر راضی کر لیا اور اگر سمیع الحق صوبے میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سامنے آجاتے ہیں تو ان حالات میں ایم ایم اے کی بحالی کے امکانات معدوم ہو جائیں گے۔ واضح رہے ملک بھر میں بعض مذہبی طبقات کی جانب سے مولانا سمیع الحق کے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے تاہم سیاسی طورپر اس فیصلے کو پی ٹی آئی کا بہترین فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری