امریکیوں کیلئے افغان مسلمانوں کا خون سستا/ فضائی حملے میں مزید 10 شہریوں کی جان لے لی

خبر کا کوڈ: 1580051 خدمت: دنیا
جنگنده آمریکایی

مشرقی افغانستان میں امریکی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے بمباری کرکے 10 عام شہریوں کو ہلاک کردیا ہے تاہم افغان رہنما ہمیشہ کی طرح امریکی جارحیت پر منہ بند رکھے ہوئے ہیں۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، صوبہ ھلمند کے سرکردوں کا کہنا ہے کہ تازہ ترین امریکی حملوں میں کم از کم 10 افغان شہری جاں بحق ہوئے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک سینیئر امریکی اور نیٹو کمانڈر نے اعلان کیا تھا کہ ھلمند کے مختلف علاقوں میں پوست کی کاشت والے علاقوں پر بمباری کی گئی ہے۔

افغان عوام کے سرکردوں کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیاروں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کم ازکم 10 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے موسی قلعہ نامی علاقے میں شدید بمباری کرکے 10 عام شہریوں کو خاک وخوں میں غلطاں کردیا ہے۔

افغان سینیٹ میں صوبہ ھلمند کے نمائندے «هاشم الکوزی» کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی طیارے نے ایک رہائشی مکان پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں کئی بچے اور خواتین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

خیال رہے کہ افغانستان میں غیر ملکی فضائی حملے پہلی بار نہیں ہوئے بلکہ اس قسم کے حملے پھلے بھی ہوتے رہے ہیں، اس قسم کے حملوں میں عام شہری ہی شہید ہوتے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ایک سال سے افغانستان میں طالبان کی طاقت میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور کئی علاقوں پر طالبان نے قبضہ کرلیا ہے جن میں صوبہ ھلمند کے کئی علاقے جیسے سنگین اور مارجہ بھی شامل ہیں۔

افغان عوام کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی حملے افغانستان کے امور میں واضح مداخلت ہے اور اس قسم کے حملوں کے خلاف افغان عوام نے مظاہرے بھی کئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری