امام خامنہ ای کا جنرل قاسم سلیمانی کو جوابی خط

خبر کا کوڈ: 1580625 خدمت: ایران
دیدار طلاب حوزه‌های علمیه استان تهران با مقام معظم رهبری

شام، عراق اور دیگر ممالک کے مجاہدین کو خدا کے سپرد کرتا ہوں ۔۔۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے رہبر معظم کے دفتر اطلاعات و نشریات کے حوالے سے بتایا ہے کہ امام خامنہ ای نے جنرل سلیمانی کی جانب سے داعش کے خاتمے پر مبارکباد دینے کے جواب میں جوابی خط لکھا ہے۔
 
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس بریگیڈ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے اپنے خط میں رہبر انقلاب کو داعش کی نابودی پر مبارکباد پیش کی تھی۔
 
امام خامنہ کی آفیشل ویب سایٹ نے جنرل قاسم سلیمانی کے جواب میں ارسال کئے گئے رہبر معظم کے خط کو نشر کیا ہے جس کا متن من و عن پیش خدمت ہے؛
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام کے پرافتخار جنرل اور مجاہد فی سبیل اللہ کمانڈر حاج قاسم سلیمانی دام توفیقاتہ
 
اپنی پوری طاقت کے ساتھ خداوند تبارک و تعالٰی کا شکر ادا کرتا ہوں کہ آپ اور آپ کے مختلف سطح کے عظیم مجاہد دوستوں کی جانثارانہ محنتوں کے نتیجے میں یہ برکت ہمیں نصیب ہوئی کہ اس دنیا کی طاغوتی قوتوں کے ہاتھوں کا لگایا ہوا شجرہ خبیثہ، آپ جیسے نیک بندوں کے ذریعے شام اور عراق میں اپنی نابودی کو پہنچ چکا ہے۔ یہ صرف داعش جیسے بدنام ظالم گروہ پر ایک کاری ضرب نہ تھی، بلکہ (اس) خبیث سیاست پر ایسی محکم ضرب تھی کہ جس کا ہدف اس خطے میں داخلی جنگ کو وسعت دینا اور صیہونی حکومت کے مقابلے میں ہونے والی مزاحمت (مقاومت) کو نابود کرنا تھا۔ انہوں نے ان ظالم گمراہ گروہوں کے لیڈروں کے ذریعے خطے کی خود مختار حکومتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ یہ امریکہ کی سابقہ اور موجودہ حکومت اور ان کی خطے میں موجود اتحادی حکومتوں پر ایک کاری ضرب تھی کہ جنہوں نے مل کر اس گروہ کو بنایا اور ان کی مکمل حمایت کی، تاکہ اپنی نحس طاقت کو مغربی ایشیا کے علاقے تک پھیلا سکیں اور اس طریقے سے غاصب صیہونی حکومت کو اس علاقے پر قابض کر دیں۔
 
آپ نے اس مہلک سرطانی ناسور کو تباہ کرکے نہ صرف دنیائے اسلام بلکہ پوری انسانیت اور تمام اقوام کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ یہ خدا کی مدد تھی اور (آپ کا یہ کام اس آیت) "و ما رمیتَ اذ رمیت و لکن الله رمی" کا مصداق تھا کہ جو آپ اور آپ کے مجاہد دوستوں کو ان کی دن رات کی محنت کے بدلے انعام دیا گیا۔ میں انتہائی محبت سے آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تاکید بھی کرتا ہوں کہ دشمن کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔ جنہوں نے ایک عظیم سرمایہ کو خرچ کرکے اس خطرناک سازش کو تیار کیا، وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ان کی کوشش ہوگی کہ اس فتنہ کو خطے کے کسی اور حصہ میں شروع کریں یا کسی اور شکل، نئی صورت اور نئے انداز میں اسی کام کو دوبارہ انجام دیں۔ اپنے حوصلہ کو بلند رکھنا، ہوشیار رہنا، وحدت کو پامال نہیں ہونے دینا، تمام خطرناک بچ جانے والے عناصر کا خاتمہ، بصیرت افزا فرہنگی کام اور خلاصہ، ہر قسم کی ضروری تیاری (انجام پائے اور ان مسائل) سے غفلت نہ برتی جائے۔ آپ کو اور عراق، شام اور دوسرے ممالک کے تمام مجاہدین کو خدا کے سپرد کرتا ہوں، آپ سب کو سلام پیش کرتا ہوں اور آپ کیلئے دعاگو ہوں۔
 
والسلام علیکم و رحمت اللہ
سید علی خامنہ ای
30 آبان ماہ 1396
    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری