بنگلادیش؛ سن71 کے جنگی جرائم میں ملوث جماعت اسلامی کے مزید 6 رہنما ؤں کو سزائے موت

خبر کا کوڈ: 1581829 خدمت: دنیا
بنگلادش

خیال رہے بنگلادیش میں گزشتہ سال کی طرح جماعت اسلامی کے رہنماوں کو پھانسی دینے کا سلسلہ پھر سے شروع ہوا ہے جس میں اس جماعت کے 72 سالہ امیر مطیع الرحمان کو بھی تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے جماعت اسلامی کے 6 ارکان کو 1971ء کی پاکستان کیخلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر موت کی سزا سنادی۔

بنگلہ دیش میں ایک عدالت نے مذ ہبی سیاسی جماعت جماعتِ اسلامی کے جن 6 ارکان کو جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم پر سزائے موت کا حکم دیا ہے ان میں ایک سابق رکن پارلیمان، جماعت اسلامی کے ابو صالح محمد عبدالعزیز بھی شامل ہیں۔

انگریزی زبان کے اخبار 'دا ڈیلی سٹار' کے مطابق ان ملزمان کیخلا ف تین الزامات تھے جن میں لوٹ مار کرنا، ضلع گائے بندھا کے موجامالی گاؤں میں ایک ہندو کے قتل، چھاتر لیگ (عوامی لیگ کی طلبہ جماعت) کے رہنما کے قتل اور پانچ یونینوں کے چیئرمین اور اراکین سمیت 13 افراد کا قتل شامل ہے۔

یاد رہے گزشتہ سال بھی جماعت اسلامی کے امیر 72 سالہ مطیع الرحمان نظامی کو 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر پھانسی دیدی گئی تھی۔

2010 میں قائم ہونیوالے جنگی جرائم کے ٹربیونل نے مطیع الرحمان نظامی کے علاوہ جماعت اسلامی کے دیگر اہم رہنماؤں کو بھی پھانسی کی سزا سنائی تھی جن میں سے عبدالقادر ملا، قمر الزماں سمیت کئی افراد کو تختہ دار پر لٹکایا بھی جا چکا ہے۔

واضح رہے بنگلہ دیش میں گزشتہ چند برسوں میں لبرل، سیکولر، غیرملکیوں اور مذہبی اقلیتوں کے قتل کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں جبکہ حکومت اس کا الزام اسلامی شدت پسندوں پر عائد کرتی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری