اسلام آباد دھرنے کا اختتام: دو مغوی پولیس اہلکار زخمی حالت میں بازیاب

خبر کا کوڈ: 1586224 خدمت: پاکستان
تحریک لبیک دھرنا

اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج پر دھرنا دینے والے مذہبی جماعتوں کے مبینہ ارکان کی جانب سے اغوا کیے گئے دو پولیس اہلکار دھرنا ختم ہونے کے بعد سوہن میں سڑک کے قریب سے مل گئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دونوں پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (ڈی ایچ کیو) ہسپتال سے اغوا کیا گیا تھا تاہم جس وقت یہ ملے تو ان اہلکاروں کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور ان پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔

دونوں اہلکار پولیس کی پیٹرولنگ ٹیم کو ملے جنہیں علاج معالجے کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق پولیس اہلکاروں کو اندرونی چوٹیں آئی ہیں جبکہ سب انسپکٹر اسلم حیات کی الٹی کہنی میں فریکچر ہوا ہے، دونوں اہلکاروں کو پلاسٹک کی تاروں، ٹنڈوں اور لاٹھیوں سے مارا گیا اور ان کے جسموں پر اس کے زخم بھی موجود ہیں۔

تاہم لیگل میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی تشدد اور زخموں کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکے گا جس کے بعد گنج منڈی پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں قانون کی مزید دفعات کو شامل کیا جائے گا۔

سٹی سرکل کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہا کہ ایس آئی اسلم حیات اور امانت علی کو اغوا کاروں کی جانب سے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ انہیں اغوا کے بعد فیض آباد دھرنے میں ایک خیمے میں رکھا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں اہلکاروں کی صحت اب بہتر ہے اور پولیس ان کا بیان ریکارڈ کرے گی۔

پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کی جانب سے اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ہفتے کو ہونے والے آپریشن میں قتل کیے گئے لوگوں کے پوسٹ مارٹم کے لیے لاش کے ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں موجود تھے۔

مذہبی جماعتوں کا ایک گروہ ہسپتال کے مردہ خانے میں داخل ہوا اور ایس آئی سے بحث کی اور مظاہرین جو چاہتے تھے اس پر لکھنے سے انکار کیا، جس کے بعد انہوں نے پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنایااور گاڑی میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔

اس کے بعد مظاہرین دوسرے پولیس اہلکار کی جانب متوجہ ہوئے اور اسے بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور مردہ خانے سے باہر لے آئے جبکہ ان اہلکاروں کے ساتھ موجود پولیس کانسٹیبل جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہوا۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس نے تحقیقاتی یونٹ سے تعلق رکھنے والے ایس آئی اسلم اور ان کے اسسٹنٹ امانت علی کے اغوا کا نوٹس لے لیا۔

دریں اثناء صادق آباد پولیس نے ہفتے کے تشدد کے واقعے میں 7 افراد کے قتل اور مختلف زخمیوں سے متعلق مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا۔

اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) انسپکٹر ذوالفقارعلی کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں قتل، اقدام قتل، اغوا، تشدد اور دیگر آٹھ دفعات شامل کی گئی ہیں تاہم دہشت گردی کے الزامات نہیں لگائے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق مظاہرین نے مشتعل ہو کر دکانوں، پولیس اور نجی گاڑیوں کو آگ لگائی، اس کے علاوہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد لوگوں کی اموات ہوئیں اور کافی زخمی بھی ہوئے جبکہ جواب میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

ایف آئی آر کے مطابق پر تشدد واقعات میں 15 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کانسٹیبل وقاص احمد کو مظاہرین نے اغواء کیا تھا۔

ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ کچھ لوگ شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر کی گئی فائرنگ سے ہلاک ہوئے تاہم پولیس کی جانب سے مذہبی جماعت کے کسی اہم رہنما یا کارکن کو مقدمات میں نامزد نہیں کیا گیا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری