سید علاء الدین حسین کے روضہ مبارکہ کی اسلامی طرز تعمیر + ویڈیو اور تصاویر

آپ کو یاد ہوگا کہ گزشتہ تحریر میں ہم نے مذہبی سیاحت کا ذکر کیا تھا آج ہم اسی سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارہ تسنیم: دنیا بھر میں مذہبی سیاحت کا سلسلہ صدیوں پرانا ہے۔ تمام ادیان اور مذاہب کے لوگ دنیا بھر میں مذہبی ثقافت، تہذیب اور تاریخ سے آشنائی حاصل کرنے کے لئے دور دراز علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ مذہبی سیاحت کا بنیادی مقصد مذہبی تجربات حاصل کرنا ہے۔

اس سے قبل کی تحریر میں ہم نے اسلامی جمہوریہ ایران کے شہر شیراز میں واقع خوبصورت اور قدیم مسجد کے بارے میں کچھ مختصر معلومات قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی تھی۔

آج ہم اپنے معزز قارئین کو شیراز میں موجود ایک اور سحرانگیز مذہبی مقام سے روشناس کرانے جارہے ہیں جو فن تعمیر میں لاثانی ہے۔

ایک نکتہ کا ذکر ضرروی سمجھتے ہیں کہ مذہبی سیاحت اور زیارات میں تھوڑا سا فرق ہے وہ یہ کہ زیارت میں آپ کا مقصد صرف اس روضے یا حرم مبارک تک پہنچ کر اللہ پاک کے حضور صاحب قبر کا واسطہ دے کر راز و نیاز کرنا ہوتا ہے جیسے شیعیان حیدر کرار آئمہ اطہار علیہم السلام کی زیارات کی غرض سے مدینہ منورہ، نجف، کربلا، کاظمین، سامرا اور مشہد وغیرہ کا سفر کرتے ہیں اور روضوں پر حاضری دینے کے بعد واپس ہوجاتے ہیں لیکن مذہبی سیاحت میں زیارت کے علاوہ اس مقدس مکان کی تاریخ، طرز تعمیر اور دیگر خصوصیات کے بارے میں جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ایران کے صوبہ شیراز عام سیاحت کے علاوہ مذہبی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ اس صوبے میں متعدد تاریخی مساجد کے علاوہ کئی امام زادوں کے مزار بھی موجود ہیں۔

اس شہر میں امام موسی کاظم علیہ السلام کے فرزند جناب سید علاء الدین کا مقبرہ بھی موجودہے جو فن تعمیر میں اپنی مثال آپ ہے۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ حضرت علاء الدین المعروف سید علاء الدین حسین امام موسی کاظم علیہ السلام کی بلا فصل اولاد میں سے ہے یعنی ان کا اصلی بیٹا ہے یا پوتا یا نواسا وغیرہ نہیں۔ تاریخ میں ملتا ہے کہ سید علاء الدین حجاز کی سرزمین مقدس سے ایک قافلے کی شکل میں امام رضا علیہ السلام سے ملاقات کرنے کی غرض سے خراسان کی طرف روانہ ہوئے تو مامون کے کارندوں کو پتہ چلا کہ فرزند امام موسی کاظم علیہ السلام ایک بڑے کاروان کے ساتھ خراسان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے فوری طور پر مامون کو اطلاع دی، حاکم وقت نے کرسی اور حکومت کو بچانے کے لئے سینکڑوں مسلح افراد  پر مشتمل ایک فوجی دستہ روانہ کردیا اور کہا: "جہاں کہیں بنی ہاشم کا کاروان ملے وہی انہیں روک دیا جائے اور کسی بھی صورت میں خراسان آنے کی اجازت نہ دی جائے۔"

اس کے علاوہ مامون کا حکم نامہ پورے ملک میں بیھجا گیا اور جب حکومتی اہلکاروں کو بنی ہاشم کے قافلے کی شیراز کے قریب پہچنے کی اطلاع ملی تو قتلغ خان نامی شخص کی قیادت میں 40 ہزار کا لشکر تیار کیا گیا اور بنی ہاشم کے قافلے کو دھمکی دی کہ خلیفہ وقت کا حکم ہے کہ بنی ہاشم کا قافلہ یہاں سے خراسان کی طرف نہیں جاسکتا لہذا یہی سے واپس ہوجائیں۔

سید علاء الدین کی سربراہی میں بنی ہاشم کے اس قافلے نے واپس جانے سے انکار کردیا جس کے نتیجے میں دونوں گروہوں کے درمیان ایک خونی جنگ ہوئی اور بنی ہاشم کے جوانوں نے قتلغ خان کے لشکر کو بدترین شکست دے کر فرار ہونے پر مجبور کردیا، جب حکومتی اہلکاروں کو شکست کا سامنا ہوا تو انہوں نے بنی ہاشم کے قافلے سے کہا: "تم کہا جارہے ہو حضرت امام رضا علیہ السلام کا انتقال ہوا ہے، اس جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے بنی ہاشم کے قافلے میں سستی بلکہ پھوٹ پڑ گیا اور قافلے میں سے بعض افراد سید علاء الدین کی سربراہی میں احمد بن موسی، سید امیر، محمد وغیرہ رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیراز پہنچنے میں کامیاب ہوئے، انہیں کسی محب اہل بیت شخص نے پناہ دی اور ایک سال تک دن رات عبادت میں مشغول رہے کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ امام زادے کہاں ہیں لیکن ایک دن قتلغ خان کے جاسوسوں کو معلوم ہوا کہ ایک شخص نے کئی امام زادوں کو پناہ دے رکھی ہے۔

203 ھ کو حکومتی جلادوں نے نہایت بے دردی سے ان کو شہید کیا، شہادت کے بعد محبان اہل بیت نے ان کے قبر پر ایک نہایت خوبصورت گنبد بنائی اور کچھ۔ مدت کے بعد حکومتی اہلکاروں نے مسمار کرکے وہاں ہر قسم کی آمد و رفت پر پابندی عائد کردی۔

صفوی حکومت کے دور میں یہاں دوبارہ گنبد تعمیر کروائی گئی تاہم کچھ مدت کے بعد ایک بار پھر مسمار کردی گئی۔

مزار کی موجودہ عمارت صفوی بادشاہ، شاہ اسماعیل کے دور میں بنائی گئی یعنی '' 891 ھ ق سے 926 ھ ق'' تک مزار پر تعمیراتی کام جاری رہا اور 923 میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔

قاجاری دور میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے مزار کی عمارت اور گنبد کو شدید نقصان پہنچا جس کے بعد میرزا ابوالحسن خان مشیرالملک نے ایک بار پھر نہایت خوبصورت طریقے سے گنبد بنانے کا حکم دیا۔

ایران میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد اس روضہ مبارکہ کو مزید وسعت دے کر اس کی نہایت دلکش انداز میں مقبرے کی تزئین و آرایش کی گئی ہے، اس میں زائرین کی سہولت کے لئے دو بڑے ہال بھی بنائے گئے ہیں۔

مزار شریف میں بڑا عالیشان صحن بنا ہوا ہے۔ جہاں سال بھر عقیدت مندوں کی حاضری کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ عام دنوں اور بالخصوص جمعۃ المبارک کو یہاں ہر وقت زائرین کا ہجوم لگا رہتا ہے۔

ترتیب و پیشکش: غلام مرتضی جعفری

سب سے زیادہ دیکھی گئی سیاحت خبریں
اہم ترین سیاحت خبریں
اہم ترین خبریں