شیعہ رہنماوں کی لدھیانوی سے ملاقات، مسرور جھنگوی کی تصدیق اور ایم ڈبلیو ایم کی تردید


شیعہ رہنماوں کی لدھیانوی سے ملاقات، مسرور جھنگوی کی تصدیق اور ایم ڈبلیو ایم کی تردید

سیاسی حکومتوں کی ناکامی کے بعد عسکری قیادت شیعہ سنی قیادت کو ایک چھت تلے بٹھانے اورفرقہ واریت کامسئلہ حل کرانے کے لیے فریقین سے تجاویزطلب کرلی ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے شیعت نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیاسی حکومتوں کی ناکامی کے بعد عسکری قیادت شیعہ سنی قیادت کو ایک چھت تلے بٹھانے اورفرقہ واریت کامسئلہ حل کرانے کے لیے فریقین سے تجاویز طلب کرلی ہیں فریقین ابتدئی مرحلے میں دونوں فریقین صحابہ کرام، ازواج مطہرات، اہل بیتؑ کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی تجویز دی ہے۔

مذاکرات کے اگلے مرحلے میں دیگر نکات بھی طے کیے جائیں گے شیعہ اوراہل سنت کے رہنماء کارکنوں کے سخت ردعمل کی وجہ سے ملاقات میں طے پانے والے نکات بتانے گریزاںہیں۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں شیعہ سنی تنازعہ ختم کرانے اورفرقہ واریت کے خاتمے کے لیے عملی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے اور ملک میں پہلی مرتبہ یہ کوشش مقتدرہ اداروں کی طرف سے کی گئی ہے طویل عرصے کی بیگ ڈور مشاورت کے بعد چنددن قبل اسلام آباد میں ایک چھت تلے شیعہ سنی قیادت کو اکھٹا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ ا جلاس اسلام آبادمیں منعقد ہوا جس میں کالعدم سپاہ صحابہ المعروف اہل سنت والجماعت کے سربراہ احمدلدھیانوی، بدنام زمانہ دہشت گرد اورنگزیب فاروقی، گلگت سے تعلق رکھنے والے قاضی نثار احمد اور شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سیکرٹری جنرل و اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن علامہ عارف حسین واحدی، علامہ حمیدحسین امامی، مجلس وحدت مسلمین کے نمائندے علامہ امجد عباس نے شرکت کی، جبکہ اس اجلاس میں ان کے علاوہ دربار عالیہ حق باہو کے سجادہ نشین پیر سلطان فیاض الحسن، انصارالامہ پاکستان کے سربراہ مولانافضل الرحمن خلیل، اہل حدیث رہنماء علامہ سیدضیاء اللہ شاہ بخاری، ڈاکٹر عبدالغفور راشد، پاکستان علماء کونسل کے سیکرٹری جنرل علامہ شاہنوازفاروقی، معروف دانشورعلامہ زاہدالراشدی، جمعیت علماء پاکستان کے رہنماء قاری زواربہادر، صاحبزادہ سعیدالرشیدعباسی و دیگر شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملکی صورتحال پر غور کیا گیا اور قومی وحدت کے لیے تمام اختلافی معاملات باہمی گفت وشنید اور قانون سازی کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیاگیا۔

اجلاس میں شریک رہنماوں نے اس بات پر اتفاق کیاہے کہ شیعہ سنی معاملات کو آئینی و قانونی طریقے سے حل کیاجائے گا۔

اس موقع پر دونوں اطراف کی قیادت نے اس بات کا اعتراف کیاہے کہ شیعہ سنی تنازعے کی وجہ سے ملک وقوم کانقصان ہواہے۔

اس معاملے کو جلد از جلد حل ہوناچاہیے، دونوں اطراف کی قیادت نے مقتدر اداروں پر اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ ہم فوج اور دیگر اداروں پر یقین کرتے ہیں اگر اس طرف مسئلے کے حل کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو ہم اس کا کھلے دل سے خیرمقدم کریں گے۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ عسکری قیادت کی طرف سے دونوں اطراف کی قیادت کو ایک چھت تلے بٹھانا نہایت بڑا اقدام ہے۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان نے مسرور جھنگوی کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجلس وحدت کے کسی بھی مرکزی، علاقائی اور ضلعی عہدیدار نے ایسی کسی میٹنگ میں شرکت نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امجد عباس نامی فرد کا مجلس وحدت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری