پاکستان: ایران کیساتھ قریبی روابط کے باوجود سعودی اتحاد کیساتھ تعاون جاری رکھیں گے

خبر کا کوڈ: 1589135 خدمت: پاکستان
ڈاکٹر فیصل

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ پاکستان، ایران کے ساتھ قریبی روابط قائم رکھتے ہوئے سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی فوجی اتحاد کے ساتھ تعاون کرے گا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ’پاکستان نے اسلامی فوجی اتحاد کو اپنے تجربات سے فائدہ پہنچانے کی پیشکش کی ہے، فوجی اتحاد کے وزرائے دفاع کے پہلے اجلاس میں اہم چیزیں زیرغور آئیں، شدت پسندی سے نمٹنے اور میڈیا مہم پر بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون اور مشترکہ مشقوں کی تجویز بھی زیر غور رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اجلاس میں پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے بارے میں اقدامات کو اجاگر کیا اور اس قسم کی کوششوں میں مدد اور تعاون کا اعادہ کیا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ایران نے پاکستان کی اتحاد میں شمولیت پر اعتراض اٹھایا، ترجمان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطح پر قریبی روابط قائم ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطہ اس وقت ہوا جب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تفصیلی مشاورت کے لیے ایران کا دورہ کیا۔

بھارت کا کروز میزائل تجربہ

ڈاکٹر فیصل نے بھارت کے حالیہ کروز میزائل تجربے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’میزائل ٹیکنالوجی کے نگراں گروپ (ایم ٹی سی آر) کی رکنیت کے بعد بھارت کی جانب سے کروز میزائل تجربات اور دفاعی تیاریوں میں اضافہ خطے کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ بھارت کا ’براہ موس‘ کروز میزائل کا تجربہ بھارت کے خطے کے حوالے سے جارحانہ عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہے، جبکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلحے پر قابو پانے کے بارے میں اس کے بیانات صرف زبانی دعوؤں پر مبنی ہیں۔

ترجمان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق رپورٹس پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کا جواب موصول ہوگیا، تاہم کلبھوشن کی اہلیہ سے ملاقات کے معاملے پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

وزیر اعظم کا دورہ روس

ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی حکومت کے سربراہوں کی کونسل (سی ایچ جی) کے 16ویں اجلاس میں شرکت کے لیے روس میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم، روسی ہم منصب ڈی اے میدویدیو کی دعوت پر روس گئے ہیں۔

پاکستان رواں سال کے اوائل میں تنظیم کا مستقل رکن منتخب ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا پروسیس کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، ہارٹ آف ایشا ۔ استنبول پروسسیس کا ساتواں وزارتی سطح کا اجلاس جمعہ کو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں وزیر خارجہ خواجہ آصف پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔

پاک ۔ امریکا تعلقات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ ’افغانستان اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکا اور پاکستان کی سوچ میں فرق ہے، اس خلا کو پُر کرنے کی غرض سے دونوں ملکوں کے درمیان قریب تعاون اور رابطے جاری ہیں، جبکہ اس سلسلے میں امریکی وزیر دفاع کا پاکستان کا دورہ بھی متوقع ہے۔‘

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری