تحریک لبیک جلالی گروپ کا بھی دھرنا ختم کرنے کا اعلان

خبر کا کوڈ: 1589677 خدمت: پاکستان
تحریک لبیک

راناثناءاللہ کے استعفے سے متعلق کمیٹی تشکیل دی جائےگی جبکہ ڈاکٹر اشرف جلالی کا کہنا ہے کہ ایک ماہ میں کچھ نہیں ہوا تو دوبارہ نکلیں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پنجاب اسمبلی کے باہر تحریک لبیک جلالی گروپ کی جانب سے دیا جانے والا دھرنا مذاکرات کی کامیابی کے بعد ختم کردیا گیا، راناثناءاللہ کے استعفے سےمتعلق کمیٹی تشکیل دی جائےگی، ڈاکٹر اشرف جلالی کا کہنا ہے کہ ایک ماہ میں کچھ نہیں ہوا تو دوبارہ نکلیں گے۔

تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک جلالی گروپ کی جانب سے پنجاب اسمبلی کے باہر دیا جانے والا دھرنا حکومت سے مذاکرات کے بعد ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے، حکومت اورتحریک لبیک یارسول اللہ کےدرمیان تحریری معاہدہ طے پاگیا۔

اس سے قبل دھرنا قائدین اورحکومت میں مذاکرات کا آغاز وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کےاستعفے سے مشروط کیا گیا تھا، مذاکرات میں حکومت کی جانب سے خواجہ سعد رفیق اورمیاں مجتبیٰ شجا ع الرحمان جبکہ دھرنا قائدین میں مفتی عابد جلالی ،میاں ولیدشرقپوری اور دیگر شامل تھے۔

مذاکرات میں طے پایا کہ راناثناءاللہ کے استعفے سے متعلق ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس کے فیصلے کے بعد رانا ثناءاللہ کے مستعفی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد تحریک لبیک جلالی گروپ کے قائد اشرف آصف جلالی دھرناختم کرنے پر راضی ہوگئے، اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے اشرف آصف جلالی کا کہنا تھا کہ سات روز سے دھرنےمیں بیٹھے کارکنان کا شکرگزارہوں۔

اشرف جلالی نے کہا کہ اگر ایک ماہ میں کچھ نہیں ہوا تو ہم دوبارہ نکلیں گے، راناثناء اللہ سے متعلق صرف استعفیٰ کی نہیں غداری کی بھی بات کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ راناثناءاللہ کو وضاحت ہمارے پاس آکر کرنی چاہیے بیرون ملک جاکر نہیں، ان کے استعفےکا مقدمہ خواجہ حمیدالدین پرچھوڑ دیا ہے، خواجہ حمیدالدین نے3دسمبرتک راناثناءاللہ کا استعفیٰ مانگا ہے۔

آئین سے غداری کا مقدمہ بھی خواجہ صاحب کی عدالت میں چھوڑدیا، حکومت نےشہداء،زخمیوں اور گرفتارافراد کی فہرستیں دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ25نومبر کو شہدائےختم نبوت پرپہرا دیتے ہوئے جانیں قربان کیں، انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کو خود کو مسلمان ظاہر کرنے پر3سال کی قید کی سزا ہے، راناثنااللہ کےبیان سےشکوک وشبہات نےجنم لیا، ان جیسے بےخبرلوگ کرسیوں پرمسلط ہیں۔

تحریک لبیک جلالی گروپ کے سربراہ اشرف جلالی کا مزید کہنا تھا کہ زاہد حامد کے استعفےسے ختم نبوت پرڈاکہ ڈالے جانے کا مسئلہ حل نہیں ہوگا،

اب تک ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم کا معاملہ چھپاہواہے کہ ختم نبوت پرڈاکہ ڈالنے والے کون لوگ تھے؟ اس کے کون ماسٹر مائنڈ تھے اور کون سہولت کاری میں ملوث تھا؟

انہوں نے کہا کہ زاہدحامد کو استعفے کے بعد بیرون ملک سفیر کی بڑی نوکری مل رہی ہے، حکومت نے20دن میں ذمہ داروں کو بےنقاب کرنے کا وعدہ کیا تھا، زاہد حامد کااستعفیٰ ہمارےچھ مطالبات میں سے ایک مطالبے کاچوتھا حصہ تھا،
اشرف جلالی نے کہا کہ پنجاب کی مساجد میں چاروں طرف اسپیکر کھلوانے کابھی وعدہ ہوا تھا، ہمارےمطالبات پورے نہیں ہوئے تھے،اس لیے دھرنا دیا،

مذاکرات میں خصوصی حصہ لینے پرعلماومشائخ کا شکرگزارہوں، ہماری طرف سےمعاہدے پر ڈاکٹر آصف جلالی نے دستخط کیے، جبکہ حکومت کی جانب سےمجتبیٰ شجاع نے دستخط اوراس کے گواہ خواجہ سعدرفیق ہیں۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں تحریک لبیک خادم حسین رضوی گروپ کے درمیان معاہدہ طے پا جانے اور دھرنا قائدین کی جانب سے اسلام آباد کے علاوہ دیگر شہروں سے دھرنے ختم کرنے کی ہدایت کے باوجود پنجاب اسمبلی کے باہر بیٹھے تحریک لبیک کے دوسرے گروپ نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری