سعودی عرب، ایرانی فوج اور سپاہ سے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتا؛ نیشنل انٹرسٹ

خبر کا کوڈ: 1590233 خدمت: ایران
تقابل ایران و عربستان تقابل عربستان و ایران

نیشنل انٹرسٹ نے لکھا ہے کہ سعودی فوج جدید اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجود ایران کو شکست نہیں دے سکتی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق «محمد ایوب» مشی گن یونیورسٹی کے پروفیسر نے لکھا ہے: سعودیہ مسلسل ٹرمپ کو ایران سے جنگ کے لیے اکسا رہا ہے، سعودیہ چاہتا ہے کہ امریکہ اپنے آخری سپاہی کے مرنے تک ایران کا مقابلہ کرے۔

سعودیہ کے پاس تیل کے سب سے بڑے ذخائر ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ایران کے اثرورسوخ کو کم نہیں کر سکا۔

سعودیہ کی وہابی فکر کی ترویج نے الٹا نتیجہ دیا ہے، کیونکہ داعش اور دوسرے گروہ خود سعودیہ کے لیے ایک خطرہ بن گئے ہیں۔ ممکن ہے وہ کچھ عرصے تک انہیں کنٹرول کر لین پر آخر کار وہ ان کے لیے بھی خطرہ بن جائینگے۔

ایران حزب اللہ کے تمام امور میں مداخلت نہیں کرتا جس کی وجی سے دونوں میں احترام کا رشتہ ہے، اور حزب اللہ لبنان میں مستقل طور پر عمل کرتے ہیں، جبکہ سعودیہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔

ترکی، قطر کے بحران سے پہلے ہی ایران کے قریب ہو چکا ہے، عمان کی 40% آبادی شیعہ ہے اور عمان بھی کویت کے بعد سعودیہ سے دور ہو کر ایران کے قریب ہو رہا ہے۔

محمد بن سلمان یزید ابن معاویہ کی راہ پر چل رہے ہیں اور شیعیت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور اس کام کے لیے وہ ایران کے اتحادی حزب اللہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ جو سعودیہ کے مقابلے میں ایک چھوٹا گروہ ہے، اور سعد حریری کا سعودیہ میں مستعفی ہونا اسی کام کا آغاز تھا۔

حریری کا قصور اتنا تھا کہ انہوں نے حزب اللہ کے ساتھ سیاسی اتحاد کر کے حکومت تشکیل دی تھی اور اس لئے حزب اللہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہے تھے اور یہ سب سعودی مفادات کے خلاف تھا۔

محمد بن سلمان کا مقصد ہے کہ ایران کو کمزور بنا کر سعودیہ کو خلیجی ممالک کا سربراہ بنا دیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری