یمنی سابق صدر کے قتل پر سعودی عرب کا رد عمل

خبر کا کوڈ: 1592764 خدمت: اسلامی بیداری
علی عبدالله صالح

یمن میں آل سعود کے سفیر نے سابق صدر علی عبدالله صالح کے قتل کے بارے میں رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے سابق صدر کے قتل کے بارے مین رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب یمن قوم کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حوثی غدار اور خیانت کار ہیں یہ سب کچھ ایران کے کہنے پر کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کی وزارت داخلہ نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ سابق صدر علی عبد اللہ صالح کی ہلاکت کے بعد صنعا ایک نئی سازش سے پاک ہوگیا ہے۔

دوسری طرف سابق صدر علی عبد اللہ صالح کے قتل پر انصاراللہ کے سربراہ نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جارح طاقتیں یہ سمجھ رہی تھیں کہ جنگ کے محاذ پر فوج اور عوامی رضاکار فورس کے مصروف رہنے کی وجہ سے یمنی فوج ملک کے اندر کے فتنوں اور سازشوں کا مقابلہ نہیں کرسکے گی اور یوں وہ فتنے کی آگ پورے یمن میں پھیلا دیں گے  لیکن عبداللہ صالح کے ذریعے کھڑا کیا گیا فتنہ تین دن سے بھی کم عرصے میں پوری طرح کچل دیا گیا۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2015 میں جب سعودی اتحاد نے یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت شروع کی تھی اس وقت سے اب تک ملک میں 8670 افراد شہید اور 49960 زخمی ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ جنگ اور یمن کے محاصرے کی وجہ سے ملک میں تقریباً 27 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہو چکے ہیں اور یمن میں دنیا میں خوراک کا سب سے بڑا بحران ہے۔

سعودی حکام ایک ایسی حالت میں ایران پر الزام لگارہے ہیں کہ آل سعود روزانہ کی بنیاد پر اس ملک پر بمباری کررہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری