پاکستانیوں کیلئے بڑی خوشخبری؛ خارجہ پالیسی روس اور چین کی جانب موڑنے کا امکان

خبر کا کوڈ: 1593675 خدمت: پاکستان
خواجہ آصف

وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی وزیر دفاع کے دورے کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے مقابلے میں روس اور چین کی جانب موڑنے کا اشارہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکا کے گرد گھومتی رہی ہے، تاہم اب اس پر نظرثانی اور اسے روس اور چین کی جانب موڑنے کا وقت آگیا ہے۔

اسلام آباد میں پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کے دوران خواجہ آصف نے ممکنہ پالیسی شِفٹ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چین ہمارا پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ ہماری مشترکہ دیوار ہے، جبکہ روس بھی ہمارا اچھا دوست ہوسکتا ہے، تاہم ہم جب تک اقتصادی طور پر مضبوط نہیں ہوجاتے ہماری آزاد خارجہ پالیسی نہیں ہوسکتی۔‘

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’امریکا، پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا ہے، اب ہمیں سفارتی چوکی کو تجارتی چوکی میں بدلنا ہے جس کے لیے اسلام آباد کو ہر صورت اپنے تعلقات درست اور بہتر کرنے ہوں گے۔‘

انہوں نے افغانستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان میں امن ہمارے لیے انتہائی اہم ہے، تاہم امریکا کو پاکستان کے ساتھ تعلقات کو افغانستان کی عینک کے بغیر دیکھنا ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنے تمام پڑوسی اور دیگر ممالک سے امن کے ساتھ رہنا چاہتا ہے، ہم افغانستان میں امن چاہتے ہیں، افغان جنگ ہمارے لیے بوجھ تھی اور بوجھ ہے جس کا ہم اب تک نقصان اٹھا رہے ہیں۔‘

تاہم انہوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم صورتحال سے نمٹنے اور ٹکڑوں کو سمیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں مذہبی انتہا پسندی شامل ہے، جس کے نتائج قوم کو بھگتنے پڑ رہے ہیں۔‘

پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ’چند پڑوسی ممالک نے منصوبے پر اعتراض کیا لیکن ہمارا اس حوالے سے دوسرا موقف ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ یہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر منصوبہ ہے۔‘

سعودی عرب اور ایران سے تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’ہم دونوں سے تعلقات میں تصادم سے گریز کرتے ہوئے غیر جانبداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایران کے ساتھ ہماری طویل سرحد ہے جبکہ افغانستان کے ہماری مشترکہ دیوار، ثقافت اور زبان ہے، تاہم اس کے باوجود پاکستان کو مشرقی اور مغربی سرحدوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔‘

فیض آباد انٹرچینج دھرنے سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اپنے گھر کو بھی درست کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ اسلام آباد دھرنا اچھی مثال نہیں تھی۔‘

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری