امام خامنہ ای کا عالمی وحدت اسلامی کانفرنس سے خطاب؛

فلسطین آزاد ہوگا/ آج امریکہ و اسرائیل "فرعون" ہیں

خبر کا کوڈ: 1593888 خدمت: ایران
دیدار شرکت‌کنندگان در اجلاس محبان اهل بیت (ع) و مسئله تکفیری‌ها با امام خامنه‌ای

امام خامنہ ای نے فرمایا: "یہ جو وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قدس کو مقبوضہ فلسطین کا دارالحکومت اعلان کریں گے، ان کی کمزوری اور ناتوانی ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اہل تشیع کے چھٹے امام حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ایران کے اعلی حکام اور عالمی وحدت اسلامی کانفرنس میں شریک مہمانوں نے رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای سے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔

اس ملاقات میں اسلامی جمہوریہ ایران کی تینوں قوا کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

امام خامنہ ای نے اس ملاقات میں مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد کو ان کی طاقت اور قدرت کا مظہر قرار دیتے ہوئے فرمایا: "مسلمان باہمی اتحاد اور یکجہتی  سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمن کی سازشوں کو ناکام بناسکتے ہیں۔"

رہبر معظم کے دفتر اطلاعات و نشریات کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی نے ایران، اسلامی امتوں اور دنیا کے تمام آزاد افراد کو اس عید سعید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا: اسلام کے عظیم الشان پیغمبر، تمام انسانوں کے لئے خدا کی رحمت ہیں اور ان کی پیروی کرنے سے قوموں کو استکباری طاقتوں، طبقاتی اختلافات، ظالمانہ چوہدراہٹ اور دوسرے رنج و مصائب سے چھٹکارا ملے گا۔

انھوں نے کامیابی کے لئے استقامت اور پائیداری کے بارے میں خدا کے الہی پیغمبروں اور اُن کے پیروکاروں کو دیئے گئے فرامین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج بھی اسلام کے عظیم الشان پیغمبر کے راستے پر استقامت دکھاتے ہوئے دنیا کے بدمعاشوں کے بڑی ساشوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے امرکا، صہیونی حکومت اور ان طاقتوں کے دم چھلوں کو آج کی دنیا کا لقب دیا اور امت اسلامی میں اُن کے اختلاف پھیلانے اور جنگ ایجاد کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: بعض امریکی ساستدانوں چاہتے یا نا چاہتے ہوئے یہ گمان کرتے ہیں کہ مغربی ایشیا میں جنگ اور جھڑپ ہونی چاہیے تاکہ صہیونی حکومت امن سے رہے اور اسلام کا خون رستا پیکر ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہوسکے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے علاقے کے بعض حکمرانوں کی امریکی مطالبات کی پیروی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ کو مسلمان حکومتوں سے اختلاف کا کوئی شوق نہیں اور جیسا کہ ایران کے اندر، وحدت اور اخوت کو قائم کیا ہے، دنیائے اسلام میں بھی وحدت اور اتحاد قائم کرنے کا قائل اور اُس کے درپے ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ((ڈٹے رہنے )) کو وحشتی شدت پسندوں کے مقابلوں میں کامیابی کا راز سمجھتےہوئے کہا: ان سے مقابلہ کرنا، اسلام پر ہونے ظلم اور تحریف سے مقابلہ ہے اور آج جو بھی اس کے درپے ہے وہ امریکا اور صہیونیوں کے آلہ کار ہیں اور ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔

انھوں نے اسلامی امتوں کی وحدت اور صہیونیوں اور دوسرے دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کو  دنیائے اسلام کی دردوں کا علاج اور طاقت اور عزت تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے کہا: آج فلسطین کا مسئلہ، اسلامی امتوں کے سیاسی مسائل میں سرفہرست ہے اور سب کی ذمہ داری ہے کہ فلسطین عوام کی آزادی اور نجات کے لئے کوشش اور جدوجہد کریں۔

رہبر انقلاب نے، اسلام دشمنوں کے اس دعوے کو کہ قدس صٰہیونی حکوت کا دار الخلافہ ہے، اُن کی ناتوانی اور بے بسی جانتے ہوئے مزید کہا: بے شک  عالم اسلام اس سازش کا مقابلہ کرے گا اور صہیونیوں کو اس کام سے ایک بڑا ضربہ لگے گا اور بے تردید عزیز فلسطین بالآخر آزاد ہوکر رہے گا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے ایرانیوں کی شجاعت، بصیرت اور استقامت کی قدر دانی کرتے ہوئے کہا: پوری دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے دوست اور ایران کے دشمن جان لیں آئندہ آنے والی مشکلات آخری چار دھائیوں میں پیش آنے والی مشکلات سے کمتر ہوں گی اور ایرانی عوام زیادہ ہمت کے ساتھ اُن تمام کو ناکام بنائے گی اور عزت اسلامی کے پرچم کو بلند ترین چوٹیوں پر لہرائے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی کے خطاب سے پہلے، صدر نے دنیائے اسلام کو درپیش موجودہ مشکلات کو قرآن اور وحی سے دور کا نتیجہ سمجھتے ہوئے کہا: آج علاقے کے مسلمان افراد دہشت گردی اور استکبار اور صہیونیوں کے حامیوں ک مقابلے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اب دشمن کسی نئے چال چلنے کی فکر میں ہے۔ 

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری