تہران میں فلسطینی سفیر کی عالم اسلام سے فلسطین کی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھانے کی اپیل

خبر کا کوڈ: 1594732 خدمت: اسلامی بیداری
صلاح زواوی سفیر فلسطین در تهران

تہران میں متعین فلسطینی سفیر نے عالم اسلام سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام مسلم امہ کے اعلیٰ سربراہان فلسطین کی آزادی کے لئے کردار ادا کریں۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں متعین فلسطینی سفیر کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے نتائج سنگین ہوں گے۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالم اسلام کے تمام سربراہان پر زور دیا کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لئے اپنی جدوجہد اور جہاد میں تیزی لائیں۔

تہران میں فلسطین کے سفیر صلاح الدین زواوی نے فلسطین کے موضوع پر تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت پورے عالم اسلام اور تمام فلسطینی گروہوں کی دشمن ہے اور قدس کی غاصب صیہونی حکومت کی مکمل نابودی تک اس کے خلاف فلسطینی گروہوں کی جدوجہد جاری رہےگی۔

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے احکامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ عالم اسلام کے سربراہان او آئی سی اجلاس میں ٹرمپ کو سخت پیغام دیں گے۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ تمام اسلامی ممالک کو اپنے ہتھیاروں کا رخ صیہونیوں کی جانب موڑ لینا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا: "امریکی صدر کی جانب سے جاری احکامات کے بارے میں صرف مذمتی بیان یا مظاہرے کرنا کافی نہیں ہیں بلکہ اسلامی ممالک کے سربراہان کی یہ شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لئے اپنا کردار ادا کریں، اسلحہ اٹھائیں، پیسہ خرچ کریں اور سیاسی طور پربھی جو ممکن ہوسکے، کریں۔

انہوں نے کہا: "فلسطینیوں نے صیہونیوں کے خلاف جنگ میں دسیوں ہزار شہیدوں کی قربانی دی ہے اور اپنی قوم، تاریخ اور دین کے لئے جدوجہد کی ہے اور اس وقت بھی مسلم امہ کی نمائندگی میں صیہونیوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے ہمیشہ فلسطین کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "امام خمینی رہ فلسطین کے آئندہ اور اس ملک کو درپیش مسائل سے واقف تھے جس کی وجہ سے انہوں نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے نام سے منانے کا حکم دیا۔

صلاح الدین زواوی نے کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر، صدر مملکت اور وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والے بیانات کا بھی شکر گزار ہوں جو ہمیشہ فلسطین کی آزادی کے لئے نہایت اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

سفیر کا مزید کہنا تھا کہ غاصب صہیونی حکومت نے ایک نئے اسرائیل کا نقشہ تیار کرلیا ہے جس میں شام، عراق، اردن سعودی عرب اور فلسطین کے کئی علاقے شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صہیونی حکومت کے تیار کردہ نئے نقشے کو مسلم امہ تک پہنچایا جائے تاکہ سب غاصبوں کے ناپاک ارادوں سے آگاہ ہوجائیں۔

انہوں نے عالم اسلام کے داخلی مسائل کو حل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا: "میری 2 تجاویز ہیں، ایک یہ کہ عالم اسلام کے دس بڑے ممالک جیسے ایران، مصر، سعودی عرب ملائشیا، ترکی، پاکستان وغیرہ مکہ، تہران یا قاہرہ میں مل بیٹھہ کر تمام مسائل کا حل نکالیں۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ عالم اسلام دینی درسگاہیں خاص کر الازھر، حوزہ علمیہ قم اور نجف کے علمائے دین آپس میں بیٹھ جائیں اور فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف اقدامات کریں کیونکہ دین اسلام ہی ہم سب کا مشترکہ دین ہے۔

انہوں نے کہا: "آج اسرائیل پہلے سے زیادہ غیرمحفوظ ہے جس کی وجہ سے سالانہ بڑی تعداد میں لوگ مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر اپنےممالک منتقل ہورہے ہیں، لہذا ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ تمام یہودی اپنے اپنے ممالک واپس چلے جائیں اور سرزمین فلسطین پر ایک بھی صہیونی باقی نہ رہے۔

انہوں نے شام اور عراق میں داعش کی نابودی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "عالم اسلام میں تکفیریوں کی نابودی کے بعد مسلم امہ کے درمیان اتحاد اور اتفاق کا نیا دور شروع ہوجائے گا اور فلسطین قرآن پاک کے سائے تلے آزاد ہوگا۔"

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری