امریکی اقدام مسلم امہ پر حملہ ہے، قومی اسمبلی میں قرارداد منظور

خبر کا کوڈ: 1595029 خدمت: پاکستان
پاکستان نیشنل اسمبلی

قومی اسمبلی میں امریکی صدر کی جانب سے بیت المقدس کو صہیونی دارالحکومت قرار دینے کی شدید مزمت کرتے ہوئے اس قدام کو مسلم امہ پر حملہ قرار دیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے نے ڈان نیوز کے حوالے سے بتایا ہےکہ، قومی اسمبلی میں امریکا کی جانب سے اپنا اسرائیلی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے خلاف قراداد مذمت منظور کرلی گئی ہے۔

قومی اسمبلی میں امریکی حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ فوری طور واپس لےلیں۔

وفاقی وزیر برائے کشمیر امور اور گلگت بلتستان برجیس طاہر نے قرارداد پڑھتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ تنازعات اور جنگ میں گھرا ہوا ہے، یہ فیصلہ امت مسلمہ پر براہ راست حملہ ہے۔

قرارداد میں امریکا کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی) کو متحرک کرے کہ وہ امریکا کے اس فیصلہ کے خلاف سخت سفارتی اقدامات اٹھائیں۔

بعد ازاں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے اس معاملے پر ایک بحث کا آغاز کیا، جس میں زیادہ تر ارکان اسمبلی نے امریکا مخالف تقاریر کیں اور امت سے اس معاملے پر متحد رہنے کی درخواست کی کیونکہ اس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں افراتفری پھیلے گی۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی ( پی کے میپ) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کرنے میں جلدی کی جیسا کہ ارکان کو اس معاملے پر ترکی میں منعقد ہونے والے او آئی سی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

محمود اچکزئی نے اسمبلی کی جانب سے اس قرارداد کو منظور کرنے کو مضحکہ خیز قرار دیتے پوچھا کہ جو ایوان ملک کا آئین نہیں بچا سکتا وہ فلسطین کو کیسے بچائے گا۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ جب ایک بین الاقوامی معاملے پر تبادلہ خیال ہورہا تھا تب ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد ایوان سے غیر حاضر تھی۔

بحث کے آغاز میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید نوید قمر نے خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنا ایک سنگین غلطی ہے، ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے امت مسلمہ کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بڑا اقدام اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کا یہ اقدام دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

نوید قمر نے کہا کہ لگتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ فیصلہ صہیونیوں کو مطمئن کرنے کے لیے کیا ہے کیونکہ وہ امریکی انتخابات میں بہت پیسہ خرچ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے امت مسلمہ کو ایک بڑا چیلنج دے دیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر نہ صرف مسلم ممالک بلکہ برطانیہ اور ان کے اپنے اتحادیوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اس فیصلہ پر تحفظات کا اظہار کیا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ امریکی صدر نے یہ فیصلہ 1995 میں امریکی کانگریس کی جانب سے پاس کردہ قانون کے استعمال کرتے ہوئے کیا، ماضی میں کسی امریکی صدر نے ایسا اقدام نہیں اٹھایا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس سے دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر بدامنی پھیلے گی۔

تحریک انصاف کے رہنما نے زور دیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرنا چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو 13 دسمبر کو ترکی میں منعقدہ او آئی سی کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے۔

جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ف) کے رہنما مولانا امیر زمان نے تجویز دی کہ امریکا کو ایک مضبوط پیغام بھیجنے کے لیے تمام مسلم ممالک کو امریکی سفارتکاروں کو ملک سے باہر نکال دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا اعلان کرے کہ پاکستان امریکا کی دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں مزید شراکت دار نہیں رہے گا۔

دریں اثناء لندن سے اپنے بیان میں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے امریکی فیصلے پر کہا کہ اس سے ہمیں ایک جھٹکا لگا اور ہمارے لیے یہ بہت مایوس کن ہے۔

امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی درجنوں قرار دادوں کے ساتھ ساتھ سابق امریکی صدور کی پالیسیوں کی خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوری ایران سمیت دنیا کے مختلف مسلم ممالک حتی بعض غیر مسلم ملکوں بھی نے امریکی اقدام کی شدید مزمت کی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری