یمن میں 8 میلین افراد شدید قحط کا شکار، قوام متحدہ

اقوام متحدہ کے رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 میلین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں۔

فاجعه در یمن

تسنیم خبررساں ادارے نے المنار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ''جیمی میگ گیلک''کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 میلین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یمن تباہی کے دھانے پر ہے انسانی بنیادوں پر فوری طور پر امداد رسانی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اگر چہ یمن کے خلاف محاصرے میں جزوی طور پرکمی آئی ہے اور بعض جگہوں سے امداد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اس کے باوجود حالات قابو سے باہر ہیں اور 8 میلین سے زائد یمنی شہری شدید قحط کا شکار ہیں انہیں فوری طور پر خوراک اور دیگری ضروری اشیا پہنچانے کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: محاصرے کی وجہ سے جو ممالک امداد کرنا چاہتے ہیں وہ کرنہیں پاتے ہیں،  تیل، خوراک دوائی کی شدید قلت ہے کئی میلین انسانی بھوک اور مہلک قسم کی بیماریوں کا شکار ہیں۔

اقوام متحدہ کے اہلکار کا کہنا ہے کہ لاکھوں یمنیوں کو اس وقت ایک وقت کھانے کی تلاش ہے۔

اگر فوری طور پر ادویات، پینے کا پانی اور خوراک نہ بھیجا گیا تو انسانی جانوں کا ضیاع ہوسکتا ہے۔

 یاد رہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے 26 مارچ سنہ 2015 سے یمن کے مفرور صدر عبدربہ منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانے اور اس ملک پر اپنا تسلط جاری رکھنے کے لئے نہتے عوام کے خلاف جارحیت شروع کر رکھی ہے۔

یمن پر سعودی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں بے گناہ افراد مارے جاچکے ہیں نیز لاکھوں افراد بے گھر بھی ہو گئے ہیں۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری