شام سے فوجی انخلا کا ارادہ نہیں رکھتے، واشنگٹن

اگرچہ روسی صدر نے شام سے فوجی انخلاء کا حکم جاری کیا ہے لیکن وائٹ ہاؤس جو کہ ہمیشہ کی طرح مسلمان ممالک کو غیر مستحکم کرنے کے درپے ہے، کا کہنا ہے کہ شام سے اپنے فوجی دستوں کو واپس بلانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

تجمع مقابل کاخ سفید

تسنیم خبررساں ادارے نے المنار کے حوالے سے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ شام سے اپنے فوجی دستوں کو واپس بلانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکی فوج پوری طاقت کے ساتھ شام میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ داعش کے خاتمے تک کارروائی جاری رکھے گا۔

امریکی وزارت دفاع کے ترجمان ایرک کا کہنا تھا کہ روس کا شام سے اپنے فوجی دستوں کے انخلا کا اعلان امریکی اقدامات اور ترجیحات کو متاثر نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی وزارت دفاع نے گزشتہ مہینے اعلان کیا تھا کہ شام میں موجود فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے اور کل امریکی فوجیوں کی تعداد 1720 ہوجائے گی۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ نے گزشتہ ماہ لکھا تھا کہ امریکی حکام شام میں داعش کی شکست اور خاتمے کے بعد بھی فوجی دستوں کو واپس نہیں بلائیں گے۔

یاد رہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شام سے فوجی دستوں کو بتدریج واپس بلانے کا اعلان کر دیا ہے۔

پیوٹن کے مطابق روس اور شام نے دہشت گردوں کو شکست دے کر اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے، اس لیے فوج کے سربراہ کو روسی دستوں کے بتدریج انخلا ء کا حکم دیا ہے۔

روس اور شام کی افواج دو سال کے اندر اندر اعلی عسکری توانائی کے حامل بین الاقوامی دہشت گردوں کو شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں اور اگر دہشت گردوں نے پھر سر اٹھایا تو روس ان پر ایسی کاری ضرب لگائے گا کہ جس کا انھوں نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری