کپوارہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان کی شہادت کے بعد پرتناو ماحول/ پر نم آنکھوں اور رقت آمیز مناظر کے ساتھ سپرد لحد

بھارتی فوج کے ہاتھوں 22 سالہ نوجوان کی شہادت کیخلاف ان کے آبائی گاﺅں ٹھنڈی پورہ کپوارہ میں ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پرجمع ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ بٹہ پورہ سمیت بعض دیگر مقامات پر مشتعل نوجوانوں کی سنگباری کے بعد پولیس اور فورسز نے ٹیر گیس شیلنگ کردی۔

کپوارہ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوان کی شہادت کے بعد پرتناو ماحول/ پر نم آنکھوں اور رقت آمیز مناظر کے ساتھ سپرد لحد

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایس ایس پی کپوارہ نے کہا کہ قصورواروں کو سزا دی جائے گی تاہم سرینگر میں تعینات دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے دعویٰ کیا کہ معصوم آصف اقبال فوج اور جنگجوﺅں کے درمیان ہوئی شبانہ جھڑپ کے دوران کراس فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا۔

ٹھنڈ کے باوجود ٹھنڈی پورہ میں لاتعداد لوگوں نے 22سالہ نوجوان آصف اقبال کی نماز جنازہ میں شرکت کی جس کے بعد سینکڑوں اشکبار آنکھوں کی موجودگی میں معصوم نوجوان کی میت سپرد لحدکی گئی۔

شہید نوجوان کے اہل خانہ نے بتایا کہ 22 سالہ آصف اقبال ولد محمداقبال بٹ ساکن ٹھنڈی پورہ کپوارہ جو کہ سومو گاڑی چلاتا تھا، کو سنیچر کی رات تقریباً ساڑھے 11بجے ایک فون کال آئی جس میں اسے ایک بیمار کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جوں ہی آصف بیمار کو اسپتال لے جانے کی غرض سے اپنی سومو گاڑی لے کر اپنے گھر سے روانہ ہوا تو نزدیک میں تعینات فوجیوں نے اس پر فائرنگ کردی۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ آصف کو شدید زخمی حالت میں کرالپورہ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے سری نگر منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی نوجوان آصف اقبال سری نگر پہنچائے جانے سے قبل ہی راستے میں سوپور کے نزدیک دم توڑ گیا۔

ادھر دفاعی ذرائع نے آصف کی شہادت کو غلط شناخت کا معاملہ قرار دیا ہے جبکہ سرینگرمیں پولیس ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایاکہ ٹھنڈی پورہ کپوارہ میں ایک نوجوان کی شہادت کے سلسلے میں پولیس تھانہ کرالہ پورہ میں باضابطہ طور پر ایک ایف آئی آر درج کیاگیا۔

ترجمان کے مطابق کپوارہ پولیس نے پوسٹ مارٹم اور دیگر لوازمات کو پورا کرنے کے بعد شہید نوجوان کی نعش لواحقین کے سپردکردی۔

بھارتی فوج کے ہاتھوں 22سالہ نوجوان آصف کی شہادت کی خبر جوں ہی ضلع کپواڑہ میں پھیل گئی تو متعدد دیہات میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا۔

احتجاجی جلوس جیسے ہی کرالہ پورہ سے ٹھنڈی پورہ کی طرف بڑھنے لگا تو راستے میں خواتین و مرد اور نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد جلوس کے ساتھ شامل ہو گئی اور مظاہرین فوج کیخلاف زوردار نعرے بازی کرتے ہوئے آگے بڑھے۔

مظاہرین جب رائے شماری کے حق میں نعرے بازی اور آصف کے قتل میں مبینہ طورپر ملوث فوجی افسر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹھنڈی پورہ کے قریب پہنچے تو پولیس کی بھاری جمعیت نے جلوس کو آگے بڑھنے سے روک کر کارروائی عمل میں لائی۔

اس دوران احتجاجی مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے پولیس نے آنسوگیس کے کئی گولے داغے۔ انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی منقطع کردی ہے۔

دریں اثناء اتوار کو بعد دوپہر لوگوں کی ایک بڑی تعداد سخت ٹھنڈ کے باوجود ٹھنڈی پورہ میں جمع ہوئی اور اس کے بعد 22سالہ نوجوان آصف اقبال کی نمازجنازہ انجام دی گئی۔

نوجوان کی نعش کوایک جلوس کی صورت میں قریبی قبرستان پہنچایاگیا جبکہ اس دوران لوگوں نے آزادی واسلام کے حق میں اور بھارتی فوج کیخلاف نعرے بازی جاری رکھی۔ بعدازاں سینکڑوں اشکبار آنکھوں کی موجودگی میں معصوم آصف اقبال کی میت سپرد لحد کردی گئی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری