اگر یمنی فوج کے پاس میزائل ایرانی ہوتے، تو ہم فخر اور پوری طاقت کیساتھ اس کا اعلان کرتے

ایران کی نیشنل سیکورٹی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ سعودیوں کو جواب دینا ہو گا کہ اہل یمن پر جو بم گرائے گئے ہیں وہ کس ملک سے آئے اور ان ممالک نے کس کی اجازت سے ان مہلک بموں کو یمنیوں کی نسل کشی لئے سعودی عرب کو حوالے کیا ہے۔

اگر یمنی فوج کے پاس میزائل ایرانی ہوتے، تو ہم فخر اور پوری طاقت کیساتھ اس کا اعلان کرتے

تسنیم خبر رساں ادارے کے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے ایرانی پارلیمینٹ کی خارجی پالیسی اور نیشنل سیکورٹی کمیشن کے ترجمان "سید حسین نقوی" نے بتایا کہ امریکی نمائندے کا کہنا ہے کہ یمن میں ریاض سے چلنے والے میزائل ہم نے دئے ہیں جبکہ "ہم نے بار بار یہ کہا ہے کہ یمن کی افواج اور اہل یمن کی ایران حمایت کرتا ہے اور ہم آج بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے یمن کو میزائل نہیں دئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اگرچہ، اسلامی جمہوریہ ایران اتنی جرات، اتھارٹی اور صداقت رکھتا ہے کہ اگر اس ملک کو میزائل دینا چاہے تو آشکار طور پر دے سکتا ہے اور سعودیوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر ایرانی میزائل، یمنی فوج اور اہل یمن کے پاس ہوتے تو جنگ کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔

نیشنل سیکورٹی کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ سعودیوں کو جواب دینا ہو گا کہ اہل یمن پر جو بم گرائے گئے ہیں وہ کس ملک سے آئے اور ان ممالک نےکس کی اجازت سے ان مہلک بموں کو یمنیوں کو مارنے کے لئے سعودیہ کے حوالے کئے ہیں؟

سب سے زیادہ دیکھی گئی انٹرویو خبریں
اہم ترین انٹرویو خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری