پاکستان، افغانستان کے ساتھ تعاون سے کسی تیسرے فریق کو خطرہ نہیں، چین

چین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا پاک ۔ چین اقتصادی راہداری افغانستان کو شامل کرنے کا منصوبہ اور حالیہ سہ فریقی مذاکرات سے کسی ’تیسرے فریق‘ کو ہدف نہیں بنایا گیا جبکہ یہ منصوبہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

چون ینگ

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سی پیک منصوبے میں افغانستان کی شمولیت کو، جس سے چین کو وسطی ایشیا میں مزید رسائی حاصل ہوجائے گی، چند میڈیا اداروں کی جانب سے بھارت کو کارنر کرنے کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔

تاہم چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہُوا چُن ینگ نے پریس بریفنگ کے دوران زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر منفی نقطہ نظر کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ’سی پیک سے کسی تیسرے فریق کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ منصوبے سے تیسرے فریقوں اور پورے خطے کو فائدہ پہنچنے کے امکانات ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سہ فریقی مذاکرات اور تعاون سے کسی تیسرے فریق کو ہدف نہیں بنایا اور آئندہ بھی یہ مذاکرات بیرونی رکاوٹ اور مداخلت سے آزاد ہوں گے۔‘

سی پیک منصوبے کو افغانستان تک پھیلانے سے متعلق چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’افغانستان، چین اور پاکستان کا اہم پڑوسی ہے جو اپنی اقتصادی ترقی، لوگوں کے ذریعہ معاش میں بہتری لانا چاہتا ہے اور علاقائی رابطہ سازی کے عمل اور سی پیک کو وسطی چین ور مغربی ایشیا اقتصادی راہداری سے جوڑ کر اپنے جغرافیائی خدو خال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔‘

واضح رہے کہ رواں ہفتے چین، پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سہ فریقی مذاکرات کے دوران سیکیورٹی تعاون، انسداد دہشت گردی، افغان امن عمل اور تینوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

بیجنگ میں ہونے والے اس اجلاس سے قبل پاکستانی اور چینی وفود کی ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں سی پیک منصوبے میں ہونے والی پیش رفت سے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو آگاہ کیا اور سیکیورٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری