سعودی مداخلت پاکستانی عوام کے لئے قابل قبول نہیں، پاکستانی تجزیہ کار


پاکستانی تجزیہ کار نے اس بیان کیساتھ کہ آل سعود بعض ممالک کے حکام کو باقاعدہ طلب کرکے ہدایات اور حکم دیتے ہیں، کہا کہ "پاکستان ایک ایٹمی ریاست ہے اسے قطعاً زیب نہیں دیتا کہ کسی دوسرے کی ڈکٹیشن پر چلے۔ ہمیں اپنے فیصلے ملک میں کرنے چاہیں۔"

معروف تجزیہ نگار اسد تقوی نے تسنیم نیوز کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے خطے کے معاملات میں اپنی مداخلت کو بڑھا رکھا ہے، خصوصا جب سے محمد بن سلمان ولی عہد بنا ہے، سعودی عرب کی جانب سے مختلف ممالک کے اندر مداخلت بڑھ گئی ہے، جیسا کہ یمن، بحرین، لبنان، قطر پر پابندیاں لگائیں، حتیٰ کے فلسطین کے معاملے پر محمود عباس کو خصوصی طور پر بلایا جاتا ہے اور اسے ہدایات دی جاتی ہیں، اسی طرح پاکستان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا، جو جو ممالک ان کے کاسہ لیس ہیں، انہیں باقاعدہ طلب کرکے ہدایات اور حکم دیا جاتا ہے، یہ اقدام ان ممالک کے ساتھ خود سعودیہ کے لئے بھی درست نہیں ہے، چونکہ کئی ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے، اس نے دیکھ لیا ہے کہ قطر نے اس (سعودیہ) کی مخالفت کی ہے، یمن نے آج تک اسے تسلیم نہیں کیا، پاکستان ایک ایٹمی ریاست ہے اسے قطعاً زیب نہیں دیتا کہ کسی دوسرے کی ڈکٹیشن پر چلے۔ ہمیں اپنے فیصلے ملک میں کرنے چاہیں۔

اسد تقوی نے کہا کہ 1947 سے اقوام عالم اس حقیقت کو تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ بیت المقدس فلسطین کا دارالخلافہ ہے، اس پر مسلمانوں کا اکٹھے نہ ہونا اسرائیل کا ساتھ دینے کے برابر ہے۔