ایرانی عوام نے امریکہ اور برطانیہ کو 70 کی دہائی میں اپنے ملک اور حالیہ برسوں کے دوران خطے سے نکال باہر کردیا

اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں شہریوں سے امام خامنہ ای نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ایرانی عوام آج بھی امریکہ اور برطانیہ کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔"

ایرانی عوام نے امریکہ اور برطانیہ کو 70 کی دہائی میں اپنے ملک اور حالیہ برسوں کے دوران خطے سے نکال باہر کردیا

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، شمسی سال 19 دی کی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس شہر قم میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں شہریوں سے امام خامنہ ای نے خطاب کرتے ہوئے کہا: "پُرامن احتجاج اور وحشیانہ حرکتوں میں فرق کو سمجھنا چاہئے۔"

امام خامنہ ای نے قم میں عوامی اجتماع سے خطاب میں حالیہ مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عوام کے جائز اور برحق مطالبات میں اور ہنگامے اور مقدسات کی اہانت کرنے والوں کے اقدامات میں فرق ہے۔

امام خامنہ ای نے کہا: "اگر کوئی انسان اپنے حق سے محروم رہ جائے اور اپنے حق کے لئے آواز بلند کرے یا کہیں دس بیس یا سو دوسو افراد جمع ہوجائیں اور اپنے حقوق کے لئے بات کریں تو یہ نہایت اچھی بات ہے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اس قسم کے اجتماعات سے غلط فائدہ اٹھا کر قرآن پاک کو غلط کہنا، مساجد کی توہین کرنا اور ملک کے پرچم کی توہین کرنا یا حکومتی اور عوامی عمارتوں کو نقصان پہنچانے میں بڑا فرق ہے۔ ان سب کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا ہے، ملک میں احتجاج کرنے والے پہلے بھی تھے اور آج بھی ہیں، کچھ اداروں نے بعض لوگوں کو ناراض کرایا ہے۔ اس قسم کے مشکلات کے ازالہ کے لئے احتحاج کرنا عوام کا حق ہے۔

امام خامنہ ای نے کہا: "اکثر اوقات ملک کے مختلف شہروں اور قصبوں میں سرکاری عمارتوں کے سامنے احتجاج کیا جاتاہے اور اپنی مشکلات کا ذکر کیا جاتا ہے اس قسم کا احتجاج پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہے، اس قسم کے مظاہروں کا کوئی بھی مخالفت نہیں کرتا اور حکومت کو چاہئے کہ عوام کے شکوے اور شکایات کا ازالہ کرے۔

رہبر انقلاب نے کہا: "کچھ شر پسند عناصر اس قسم کے مظاہروں سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کے عقائد پر حملہ کریں اور قومی پرچم کو نذر آتش کریں، اسلام کے خلاف نعرہ بازی کریں، قرآن کے خلاف بولیں اور اسلامی نظام کے خلاف باتیں کریں، پس یہ سب اغیار کے اشاروں پر کیا گیا اور یہ اچانک بھی نہیں ہوا بلکہ اس کی منصوبہ بندی بہت پہلے کی جاچکی تھی۔"

رہبر انقلاب نے مزید فرمایا: "امریکہ اور اسرائیل ملکر چند مہینوں سے اسلامی نظام کے خلاف منصوبہ بندی کررہے ہیں، انہوں نے ایران کے چھوٹے شہروں سے اسلامی نظام کے خلاف منصوبوں کا آغاز کیا جس کے لئے پیسے کسی خلیجی ملک سے لئے، یہ تو سب کو معلوم ہے کہ جب تک ان کو پیسہ دینے والے ملیں گے تب تک امریکی پیسہ خرچ نہیں کرتے۔

امام خامنہ ای نے فرمایا: "یہ منصوبے کئی مہینے پہلے تیار کئے گئے تھے جس کے بارے میں خود منافقین نے بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم چند مہینوں سے مختلف لوگوں سے مل کر منصوبہ بندی کررہے تھے اور مہنگائی کے نام پر عوام کو احتجاج پر آمادہ کرنے کی کوششیں کرتے رہیں۔ مہنگائی کے خلاف آواز بلند کرنا ہر کسی کے دل کی بات ہوتی ہے، بہت سارے لوگ اسی وجہ سے سڑکوں پر نکل آئے۔ بہت ساروں کو جب پتہ چلا کہ ایک غلط منصوبے کے تحت یہ سب کچھ ہورہا ہے تو انہوں نے اپنے آپ کو شرپسندوں سے الگ کردیا اور ملک دشمن عناصر کے خلاف احتجاج شروع کیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملادیا۔"

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے دشمن کی ناپاک سازشوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے، ملک کے مختلف شہروں خاص کر قم، اهواز، همدان، کرمانشاه، مشهد، شیراز، اصفهان، اور تبریز سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شرپسند عناصر کے خلاف مظاہرے کرکے دشمن کو ایک بار پھر ذلیل و رسوا کردیا ہے۔

امام خامنہ ای نے ایران سے امریکی حکام کی عداوت و ناراضگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "امریکا ایرانی عوام اور حکومت سے اس لئے سخت ناراض ہے کہ اس کو اسلامی انقلاب اور ایرانی عوام سے شکست ہوئی ہے۔"

رہبر معظم نے فرمایا کہ ایران کی حکومت اپنے عوام پر ہی بھروسہ کرتی ہے کیونکہ یہ حکومت، ایرانی عوام کی اپنی منتخب اور بنائی ہوئی حکومت ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکی حکام کے اس قسم کے بیانات کو بےہودہ قرار دیتے ہوئے کہ جن میں وہ کہتے ہیں کہ ایران امریکا کی طاقت سے ڈرتا ہے، فرمایا کہ اگر ہم تم سے ڈرتے تو انیس سو ستر کے عشرے کے آخر میں ہم نے تمہیں ایران سے کیسے باہر نکال دیا اور ابھی چند سالوں میں تمہیں پورے خطے سے کیسے باہر نکال دیا؟

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی امریکہ اور برطانیہ کی سازشوں کے خلاف استقامت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی عوام آج بھی امریکہ اور برطانیہ کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری