سردار عبدالمجید دستی کو آئی جی سندھ بنانے کی منظوری

وفاقی کابینہ نے سردار عبدالمجید دستی کو سندھ کا نیا انسپیکٹر جنرل مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔

سردار عبدالمجید دستی

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق سردار عبدالمجید کو موجودہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کو تبدیل کرکے اس عہدے پر مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں شامل وزیر نے 22 گریڈ کے پولیس افسر عبدالمجید دستی کو نیا آئی جی سندھ بنانے کی منظوری کی تصدیق کی۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں سندھ حکومت سے آئی جی سندھ کے لیے گریڈ 22 کے افسران طلب کیے تھے، جس پر صوبائی حکومت نے آئی جی سندھ کے لیے عبدالمجید دستی سمیت تین نام بھجوائے تھے۔

سندھ حکومت ایک سال سے زائد عرصے سے اے ڈی خواجہ کی تبدیلی کے لیے سرگرم تھی۔

اے ڈی خواجہ کا سندھ حکومت سے جھگڑا

خیال رہے کہ اے ڈی خواجہ کو سندھ حکومت کی جانب سے غلام حیدر جمالی کی برطرفی کے بعد مارچ 2016 میں آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم مخصوص مطالبات کو ماننے سے انکار کے باعث اے ڈی خواجہ سندھ کی حکمراں جماعت کی حمایت کھوتے گئے۔

محکمہ پولیس میں نئی بھرتیوں کا اعلان کیا گیا تو اے ڈی خواجہ نے میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی، جس میں فوج کی کور فائیو اور سٹیزنز پولیس لائزن کمیٹی (سی پی ایل سی) کے نمائندے بھی شامل تھے۔

اے ڈی خواجہ کے اس اقدام نے سندھ حکومت کے اُن ارکان کو ناراض کردیا جو ان بھرتیوں میں اپنا حصہ چاہتے تھے تاکہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ووٹرز کو خوش کرسکیں۔

دسمبر 2016 میں صوبائی حکومت نے اے ڈی خواجہ کو جبری رخصت پر بھیج دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اے ڈی خواجہ کو ہٹانا چاہتی ہے، لیکن وفاقی حکومت اس کے خلاف ہے۔

تاہم وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا اس معاملے پر کہنا تھا کہ آئی جی سندھ 15 دن کی چھٹی پر گئے تھے اور انھوں نے خود اس کی درخواست دی تھی۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو اے ڈی خواجہ کو رخصت پر بھیجنے سے روک دیا تھا، جس کے بعد جنوری 2017 میں اے ڈی خواجہ نے اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھال لی تھیں۔

اپریل 2017 میں حکومت سندھ نے اے ڈی خواجہ کی خدمات واپس وفاق کے حوالے کرنے کے بعد 21 گریڈ کے آفیسر سردار عبدالمجید کو قائم مقام انسپکٹر جنرل سندھ مقرر کردیا۔

اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری