ایل این جی ٹرمینل سکینڈل: نیب کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیخلاف انکوائری کا اعتراف

نیب نے 220 ارب روپے کے اینگرو ایل این جی ٹرمینل سکینڈل میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اورسابق سیکرٹری پٹرولیم سمیت 8سے زائد افسران کے خلاف بالاخر انکوائری کا اعتراف کرلیا ہے۔

ایل این جی ٹرمینل سکینڈل: نیب کا وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کیخلاف انکوائری کا اعتراف

خبر رساں اداے تسنیم کے مطابق نیب راولپنڈی نے سکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے نیب کراچی کو سفارش کی ہے کہ سابق چئیرمین اوگرا سعید احمد خان اور ممبر گیس اوگرا عامر نسیم کے خلاف اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے اینگرو کمپنی کو ٹرمینل تعمیر کرنے کا لائسنس دینے کی انکوائری بھی شروع کی جائے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر افسران کے خلاف اینگرو کمپنی کو خلاف قواعد ٹرمینل کی تعمیر کا ٹھیکہ دینے اور قومی خزانے کو اربوں روپے نقصان کی انکوائری جاری ہے۔ سابق چئیرمین نیب قمرزمان چودھری نے ایل این جی ٹرمینل سکینڈل میں بااثر شخصیات کو بچانےکیلئے انکوائری رکوادی تھی۔

نیب راولپنڈی نے اینگرو ایل این جی ٹرمینل سکینڈل کی انکوائری بند کرنے کے دعووں کا پردہ چاک کردیا ہے۔حیران کن طور پر ترجمان نیب نے یکم اگست کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی حلف برداری کے دن انکوائری دسمبر2016میں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دستاویز کے مطابق نیب کراچی نے 2015میں خلاف قواعد اینگرو کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کی انکوائری شروع کی۔ نکوائری کے دوران انکشاف ہوا کہ اینگرو کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکے دینےمیں اختیارات کاغلط استعمال اور پیپرارولز کی خلاف ورزیاں کی گئیں جس کےباعث قومی خزانے کوآئندہ 15سالوں میں 2ارب ڈالرسے زائد نقصان ہوگا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی دعوی کیاتھا کہ نیب کراچی کسی قسم کی انکوائری نہیں کررہا جبکہ نیب راولپنڈی نے اینگروایل این جی ٹرمینل کی انکوائری جاری رہنے کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔

نیب کراچی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بطور وزیراعظم پٹرولیم سمیت دیگر افسران اور اوگرا اتھارٹی کے ممبران سے بھی تفتیش کرے گا۔ نیب کراچی نے سابق چئرمین نیب قمرزمان چودھری سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کےممبران تفتیش کرنے کی اجازت مانگی تھی تاہم چئرمین نیب نے یہ درخواست مسترد کردی تھی۔ نیب کراچی نے نے ایل این جی ٹرمینل منصوبے کی تحقیقات میں سوئی سدرن،انٹرسٹیٹ گیس سسٹم اور پورٹ قاسم اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو شامل تفتیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا ۔

رپورٹ کےمطابق 2013 میں ای سی سی کے سامنے ٹرمینل کے سمری پیش کرنا بدنیتی ظاہر کرتا ہے۔ ابتدائی انکوائری میں وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی ، سابق سیکرٹری پٹرولیم عابد سعید، ایم ڈی انٹرسٹیٹ گیس سسٹم مبین صولت، سابق ایم ڈی سوئی سدرن زوہیرصدیقی اور ڈپٹی ایم ڈی سوئی سدرن شعیب وارثی پر ذمہ داری عائد کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق ایل این جی ٹرمینل کا ٹینڈرانٹرسٹیٹ اورسوئی سدرن بورڈ منظوری کے بغیر جاری ہوا ہے۔ ٹینڈر جاری ہونے کے بعد سوئی سدرن بورڈ کی منظوری کے بغیر ترمیم کی گئی۔ وزارت پٹرولیم کی ماتحت کمپنی انٹرسٹیٹ گیس سسٹم نے قواعد کو نظرانداز کرتے ہوئے زبانی احکامات پر سارا کام کیا۔ اربوں ڈالر کے منصوبے میں شفافیت کے لئے خصوصی اقدامات کرنے کی ضرورت تھی۔ ابتدائی طورپر ٹرمینل کی لاگت 30سے 40ملین ڈالر تھی جو بعد ازاں 120سے 130ملین ڈالر کردی گئی۔ اینگرو کمپنی منصوبے کی لاگت 12تا13 ارب روپے آئندہ 14ماہ میں پوری کرلے گی۔

سوئی سدرن ایل این جی نہیں خرید رہی جبکہ ادائیگیاں سوئی سدرن کے ذریعے کروائی جارہی ہیں۔ ایل این جی سوئی نادرن خریدرہی ہیں جبکہ سوئی سدرن اور سوئی نادرن کے درمیان مطلوبہ معاہدہ نہیں ہے۔ اینگرو کمپنی کو کوالیفائی کرنے کیلئے ٹیکنیکل رپورٹس پر دستخط موجود نہیں.

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری