سعودی عرب؛ خواتین کے حرام ڈرائیونگ سے کریم اور اوبر میں حلال ڈرائیونگ کی ملازمت تک

سعودی حکام نے ایسی حالت میں دنیا بھر میں آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی عالمی کمپنیوں کریم اور اوبر میں خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کی اجازت دی ہے کہ اس ملک میں بن سلمان کے حکم سے قبل خواتین کی ڈرائیونگ کو حرام سمجھا جاتا تھا۔

زنان عربستان

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق دونوں کمپنیوں نے خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد کیا۔

سعودی حکومت نے گزشتہ برس ستمبر میں پہلی بار خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی تھی۔حکومتی منصوبے کے تحت جون 2018 تک خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری کردیے جائیں گے، جس کے بعد وہ گاڑیاں چلا سکیں گی۔

امریکن نشریاری ادارے سی این این نے اپنی خبر میں بتایا کہ خواتین کو گاڑیاں چلانے کی اجازت ملنے کے بعد اوبر اور کریم نے عورت ڈرائیورز کو بھرتی کرنے کے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مختلف شہروں میں ٹریننگ سیشنز کا آغاز کردیا۔

کریم نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض، جدہ اور الخوبر میں خواتین ڈرائیورز کی بھرتی کے لیے 90 منٹ کے ٹریننگ سیشنز کا انعقاد کیا، جس دوران سیکڑوں خواتین کو سرٹیفائڈ کرلیا گیا۔ان سیشنز کے دوران ان خواتین کی ڈرائیونگ کے لیے تصدیق کی گئی، جن خواتین کے پاس پہلے ہی ڈرائیونگ لائسنس موجود تھا۔۔

اوبر کے جنرل مینیجر زید ہریس کے مطابق ان کی کمپنی نے بھی خواتین کو بھرتی کرنے کے حوالے سے ملک کے مختلف شہروں میں سیشنز کا انعقاد کیا۔زید ہریس کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی بھی خواتین ڈرائیورز کو بھرتی کرے گی، تاکہ خواتین صارفین کو محفوظ اور آرامدہ سفر کی سہولیات پہنچائی جاسکیں۔

دونوں کمپنیوں کے مطابق ان کے خواتین صارفین کی تعداد مردوں کے مقابلے کہیں زیادہ ہے، جب کہ دونوں کمپنیوں کے پاس اس وقت صرف مرد ڈرائیورز خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اوبر اور کریم کے مطابق ان کے زیادہ تر مرد ڈرائیورز کا تعلق سعودی عرب سے ہی ہے، جو اپنی گاڑیوں کے ذریعے اپنی مالی پوزیشن مضبوط کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس وقت سعودی عرب کی 80 فیصد خواتین اپنی سفری سہولیات کے لیے امریکی کمپنی اوبر جب کہ 70 فیصد خواتین دبئی کی کمپنی کریم کی سروس استعمال کرتی ہیں۔

آن لائن سفری سہولیات فراہم کرنے والی کریم اس وقت سعودی عرب، مشرق وسطی و افریقی ممالک اور پاکستان سمیت دنیا کے 13 ممالک میں کام کر رہی ہے۔

جبکہ اوبر بھی سعودی عرب، پاکستان، مشرقی وسطی و افریقی ممالک سمیت یورپ و امریکی ممالک میں بھی خدمات سر انجام دے رہی ہے۔

واضح رہے کہ بن سلمان کی ولی عہدی سے قبل سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ ایک حرام فعل تھا تاہم اس ملک کے مفتیوں نے شہزادے کا لحاظ رکھتے ہوئے خواتین کو گاڑی چلانے کا فتوی صادر کرکے اسے حلال قرار دیا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری