ایم کیوایم سمیت284 جماعتیں الیکشن کمیشن کی فہرست سے خارج

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان مسلم لیگ فنگشنل، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، سنی تحریک اور جمعیت علماء اسلام (سمیع الحق گروپ) سمیت 284 سیاسی جماعتوں کو انتخابی بل 2017 میں وضع کردہ نئے ضوابط پر عمل درآمد نہ کرنے پر خارج کردیا۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ای سی پی نے انتخابی بل 2017 کے سیکشن 202 (2) کے تحت کم ازکم 2 ہزار کارکنوں کے دستخط یا انگوٹھوں کے نشانات کے ساتھ قومی شناختی کارڈ کی نقول اور 2 لاکھ روپے فیس مقررہ وقت پر جمع نہ کروانے پر مذکورہ سیاسی جماعتوں کو فہرست سے خارج کردیا۔ای سی پی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق متاثرہ سیاسی جماعتیں 30 روز کے اندر عدالت سے اس فیصلے پر اپیل کرسکتی ہیں۔

حالیہ فیصلے کے بعد اس وقت ای سی پی کے پاس صرف 68 سیاسی جماعتیں درج ہیں جبکہ فہرست سے خارج ہونے والی جماعتوں میں سندھ ترقی پسند پارٹی اور سندھ نیشنل فرنٹ بھی شامل ہے۔
خیال رہے کہ انتخابی بل 2017 اس وقت متنازع حیثیت اختیار کرگیا تھا جب حکمراں جماعت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کے طور پر عہدہ رکھنے کے لیے راستہ ہموار کیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد انتخابی بل 2017 نومبر 2017 میں سینیٹ سے بھی منظور ہوا تھا۔ختم نبوت کے حالے سے متنازع الفاظ پر پارلیمنٹ میں فوری طور پر اس حوالے سے دو ترامیم کی گئی تھیں۔

دوسری جانب ای سی پی نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی مہم کے باعث صوبائی، ریجنل اور ضلعی الیکشن کمشنر ز کی ہفتے اور اتوار کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی ہیں۔

الیکشن کمیشن ملک بھر میں 15جنوری سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی مہم کا آغاز کررہا ہے جس کے تحت آئندہ عام انتخابات کے لیے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کی جارہی ہے۔

ای سی پی کی نظرثانی مہم میں 73 لاکھ نئے ووٹرز رجسٹر کیے جائیں گے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری