گلگت بلتستان میں بیک وقت 2 دھرنے، تیسرے کا اعلان اور چوتھے کا امکان

عارضی ملازمین کے خلاف حکومت نے جب کریک ڈاون کی کوشش کی تو عوامی ایکشن کمیٹی جی بی کے سربراہ نے واضح کیا کہ کسی بھی ملازم کے خلاف حقوق مانگنے پر طاقت کا ناجائز استعمال کیا گیا تو ایکشن کمیٹی بھی دھرنے میں شامل ہوگی۔

گلگت بلتستان میں بیک وقت 2 دھرنے، تیسرے کا اعلان اور چوتھے کا امکان

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گلگت بلتستان کا صدر مقام گلگت دھرنوں کا شہر بن گیا۔ سال رواں کے پہلے مہینے میں ہی تیسرے دھرنے کے لیے عوام پر تولنے لگ گئے۔ تفصیلات کے مطابق ٹیکس کے خلاف سولہ روزہ دھرنے کے اختتام کے ساتھ ہی عارضی ملازمین نے اپنی مستقلی کے لیے شدید سردی میں دھرنے کا آغاز کر دیا۔

عارضی ملازمین کی مستقلی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت نے ایک مذاکراتی کمیٹی ترتیب دی ہے اور مذاکرات جاری ہے۔ امید ہے کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کا مسئلہ فوری طور پر حل ہوگا۔ اب تیسرے گروہ نے بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سیپ اساتذہ نے عدم مستقلی کے خلاف احتجاج کرنے اور دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر حکومت کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ان کو مستقل کرنے کے بہت سارے دعوے کئے گئے مگر عملاً کچھ نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث اساتذہ مایوس ہوگئے ہیں اور دھرنا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے پر دھرنے حکومت کے لئے نیک شگون نہیں ہیں اس لئے حکومت کو فوری طور پر مسئلے کا حل نکالنا چاہیے بصورت دیگر ہم غیر معینہ مدت تک کے لئے دھرنے دیں گے۔

دوسری طرف حکومت کے لیے عوامی ایکشن کمیٹی گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ ہر مسئلے پر عوامی ایکشن کمیٹی بھرپور حمایت کا اعلان کرکے سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی حکومت کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔

عارضی ملازمین کے خلاف حکومت نے جب کریک ڈاون کی کوشش کی تو عوامی ایکشن کمیٹی جی بی کے سربراہ مولانا سلطان رئیس میدان میں آگئے اور حکومت کو واضح کیا کہ کسی بھی ملازم کے خلاف حقوق مانگنے پر طاقت کا ناجائز استعمال کیا گیا تو ایکشن کمیٹی بھی دھرنے میں شامل ہوگی۔

انہوں نے حکومت کو یہ بھی بتا دیا کہ کچھ دنوں بعد چوتھی پارٹی بھی اپنے حق کے لیے میدان میں آ رہی ہے اور ہم تمام مظلومین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایکشن کمیٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت تمام مسائل کو حل کرے اور غریب ملازمین کو سڑکوں پہ آنے سے قبل ہی انکا حقوق انکو پہنچا دیا جائے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری