بھارتی آرمی چیف نے مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی خواہش کا اظہار کردیا

آئے روز بے گناہ کشمیری مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے بھارتی فوج کے سربراہ نے ایسی حالت میں مقبوضہ کشمیر میں امن کی بحالی کیلئے سیاسی اقدامات کی خواہش کا اظہار کردیا کہ اس سے قبل بھی اس ملک سیاسی و عسکری حکام اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا دعوے کرتے آرہے ہیں۔

بھارتی آرمی چیف نے مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی خواہش کا اظہار کردیا

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بیپین روات نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے سیاسی اقدامات کی خواہش کا اظہار بھی کردیا۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے فوجی آپریشن کے ساتھ ساتھ سیاسی اقدامات بھی کیے جانے چاہیے۔

ایک انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا کہنا تھا کہ بھارتی آرمی چیف نے پاکستان پر ہمالیہ کے علاقوں میں مبینہ سرحدی دہشت گردی کو روکنے کے لیے فوجی آپریشنز کو بھی سراہا۔

جنرل بیپین روات کا کہنا تھا کہ خطے میں کام کرنے والی مسلح افواج خاموش نہیں رہ سکتیں بلکہ انہیں صورت حال سے نمٹنے کے لیے نئی پالیسی اور طریقہ کار اپنانا ہوگا جو ان کے مطابق گزشتہ سال ان کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب قدرے بہتر ہیں۔

پاکستان پر دباؤ بڑھائے جانے کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'جی، آپ خاموش نہیں رہ سکتے، آپ کو مسلسل سوچنا ہوگا اور آگے بڑھنا ہوگا، آپ کو اپنے نظریات اور سوچ کو اپنے کام کرنے کے طریقہ کار کے مطابق بدلنا ہوگا‘۔

خبر رساں ادارے نے مشاہدہ کیا کہ جنرل بیپین روات کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فوج مسلح تنظیموں سے نمٹنے کی پالیسی کو برقرار رکھے گی۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سیاسی و دیگر تمام اقدامات ایک ساتھ چلنے چاہیے اور اگر ہم سب اپنا کام کریں گے تو کشمیر میں دیر پا امن قائم کر سکیں گے اور اس کے لیے ہمیں سیاسی و فوجی نظریہ اپنانا ہوگا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال اکتوبر کے مہینے میں بھارتی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ دنیشور شرما کو کشمیر کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کے لیے خصوصی نمائندے کے طور پر بھرتی کیا تھا۔

اس حوالے سے بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے مزاکرات کے لیے خصوصی نمائندہ بھرتی کیا تو ان کا مقصد حکومت کی جانب سے کشمیری عوام تک پہنچ کر ان کے مسائل سننا اور ان کا سیاسی بنیادوں پر حل تلاش کرنا تھا۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری