شرپسند عناصر پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کو پُرتشدد بنا سکتے ہیں، خفیہ اداروں کی رپورٹ

خفیہ اداروں نے لاہور پولیس کو ایک رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ 17 جنوری کو پاکستان عوامی تحریک کے مال روڈ پر ہونیوالے احتجاج کو پرتشدد واقعات میں تبدیل کرنے کیلئے بعض شرپسند عناصر سرگرم ہو گئے ہیں۔

شرپسند عناصر پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج کو پُرتشدد بنا سکتے ہیں، خفیہ اداروں کی رپورٹ

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق خفیہ اداروں نے لاہور پولیس کو ایک رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ 17 جنوری کو پاکستان عوامی تحریک کے مال روڈ پر ہونیوالے احتجاج کو پرتشدد واقعات میں تبدیل کرنے کیلئے بعض شرپسند عناصر سرگرم ہو گئے ہیں، جس میں ممکنہ شرپسندی پھیلائی جا سکتی ہے اور اس میں قانون میں ہاتھ میں لینے کیساتھ ساتھ سرکاری و غیر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے جبکہ ڈیوٹی پرموجود پولیس اہلکاروں ممکنہ حملے کی بھی رپورٹ دی گئی ہے۔

پاکستان عوامی تحریک کے 17 جنوری کو مال روڈ پر احتجاج سے نمٹنے کیلئے لاہور پولیس نے کمر کس لی ہے۔ جس کیلئے سی سی پی او لاہور کے دفتر میں کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے، شرپسندوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی، تھانوں میں آنسو گیس کے نئے شیل سمیت اینٹی رائٹ کا سامان پہنچا دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق خفیہ اداروں نے لاہور پولیس کو ایک رپورٹ میں آگاہ کیا ہے کہ 17 جنوری کو پاکستان عوامی تحریک کے مال روڈ پر ہونیوالے احتجاج کو پرتشدد واقعات میں تبدیل کرنے کیلئے بعض شرپسند عناصر سرگرم ہو گئے ہیں، جس میں ممکنہ شرپسندی پھیلائی جا سکتی ہے اور اس میں قانون میں ہاتھ میں لینے کیساتھ ساتھ سرکاری و غیر سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے جبکہ ڈیوٹی پرموجود پولیس اہلکاروں ممکنہ حملے کی بھی رپورٹ دی گئی ہے۔ جس پر لاہور پولیس نے عوامی تحریک کے 17 جنوری کو مال روڈ پر ہونیوالے احتجاج سے نمٹنے کیلئے اقدامات اور انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے جس میں لاہور پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور آج سے لاہور کے تمام تھانوں میں آنسو گیس اور اینٹی رائٹ کا سامان پہنچا دیا گیا ہے جبکہ لاہور سمیت فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، ملتان اور ساہیوال سمیت پنجاب کے 20 اضلاع سے ڈی پی اوز کی خدمات طلب کر لی گئی ہیں اور ان اضلاع میں تعینات ایلیٹ فورس اور کمانڈوز سمیت اینٹی رائٹ کے تربیت یافتہ دستے بھی طلب کر لئے گئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آج سے مال روڈ سمیت اہم شاہراہوں اور چوراہوں میں پولیس کے کمانڈوز اور تربیت یافتہ اہلکار تعینات ہوں گے اور گاڑیوں پر میگا فون کا استعمال کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے ممکنہ واقعہ سے نمٹنے اور ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے اینٹی رائٹ فورس اپنا کردار ادا کرے گی جس کیلئے لاہور کے ہر تھانہ میں 23 اہلکاروں پر مشتمل خصوصی دستے ریزرو کے طور پر موجود ہوں گے اور ان اہلکاروں کے پاس آنسو گیس اور اینٹی رائٹ کا سامان وافر مقدار میں موجود ہوگا۔

اس حوالے سے سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین کا کہنا ہے کہ عوامی تحریک کے احتجاج کے دوران ممکنہ شرپسندی پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور اس کیلئے سول لائن ڈویژن اور سٹی ڈویژن سمیت دیگر پولیس کی ڈویژنوں میں ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور سراؤں میں سرچ آپریشن بھی کئے جا رہے ہیں جبکہ 17 جنوری کو ہجوم اور مظاہرین سے نمٹنے کیلئے لاہور پولیس کو پرانے شیل کی جگہ آنسو گیس کے نئے شیل فراہم کر دئیے گئے ہیں۔ اس سلسلہ میں ڈی آئی جی آپریشن سمیت پنجاب کے 20 سے زائد ڈی پی اوز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں اور پولیس لائنز سمیت دیگر اضلاع سے اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری