ایران کا اسلامی انقلاب-----سامراجی طاقتوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار -1

ایران کے اسلامی انقلاب کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک اس انقلاب کے خلاف امریکه کی دیرینه دشمنی ہے۔

ایران کا اسلامی انقلاب-----سامراجی طاقتوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار -1

خبر رساں ادارہ تسنیم: ایران سے امریکه کی دشمنی کی بنیادوں کو اگر تلاش کرنا هے تو دیکھنا پڑے گا که اسلامی انقلاب سےپهلے مشرق وسطی اور  خطے میں ایران کی کیا حیثیت  تھی اور امریکه اور ایران کے درمیان تعلقات کی  کیا نوعیت  تھی. اسلامی انقلاب سے پهلے ایران کو خطے میں سیکورٹی اور سیاسی مسائل میں امریکه کا سب سے قریبی اتحادی تصور کیا جاتا  تھا اور ایران سینٹو جیسے دفاعی اتحاد کے فعال رکن کی حیثیت سے نیٹو  ممالک اور مشرق وسطی کے ممالک کے درمیان ایک واسطه کا کام انجام دیتا تھا اور اس وقت کی سپر طاقت سویت یونین کے خلاف علاقے میں ایک اهم امریکی اتحادی شمار هوتا تھا. ایران پر امریکی تسلط کے زمانے میں امریکی حکام ایران میں کسی طرح کی جمهوری اقدار اور روایات کو اهمیت نهیں دیتے تھے. امریکی خطے کی صورت  حال اور ایران کی اسٹرٹیجک پوزیشن کیوجه سے ایران پر اپنے تسلط کو کسی بھی صورت میں کمزور یا ختم نهیں کرنا چاهتے تھے. انهوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران کو اپنے تسلط میں رکھنے کے لیے وسیع سرمایه گزاری اور بھرپور اقدامات انجام دے رکھے تھے. تسلط کو مضبوط کرنے کے لیے  امریکه نے 1953 میں مصدق حکومت کا خاتمه کر کے نه صرف جمهوری اقدار کو پامال کیا بلکه ایران میں جمهوریت کی تحریک کو بھی اندھی اور بند گلی  میں دھکیل دیا. 1953 کی بغاوت اور ڈاکٹر  مصدق کی حکومت کے خاتمے کے بعد امریکه اور برطانیه کی ملی بھگت س رضا شاه پهلوی کو واپس ایران لایا گیا اور ایک استبدادی حکومت اور ڈکٹیٹر  کو ایرانی  قوم پر مسلط کر دیا گیا محمد رضا شا ہ کی ڈکٹیٹر شپ  کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے  اور حکومت مخالف تحریک کچلنے کے لیے ساواک کی صورت میں ایک خفیه ایجنسی کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس خفیه اور بدنام زمانه جاسوسی کے محکمے کی تشکیل میں بنیادی کردار امریکه اور اسرائیل  کا تھا۔

 امریکه نے اپنے مشیروں اور اهلکاروں کی فعالیت اور سرگرمیوں کو وسیع کرنے کے لیے   (captulation) کے قانون کو منظور  کرانے کی بھرپور کوشش کی اور اس قانون کے تحت امریکی مشیروں اورحکام کو ایران میں هر طرح کا عدالتی استثناء حاصل هو جاتا.  اس وقت ایران میں هزاروں کی تعداد میں امریکی حکام مختلف اداروں میں ایرانی نظام کے مختلف شعبوں من جمله سیاست، اقتصاد،  تعلیم اور سیکورٹی کے شعبوں میں مشیروں کے نام پر موجود تھے. ایران میں جب اسلامی انقلاب کامیاب هوا تو اس وقت تیس هزار امریکی مشیر مختلف محکموں میں سرگرم عمل تھے . ویت نام اور جزیره کوریا کی ناکامیوں سے  امریکی حکام نے یه تجربه حاصل کیا تھا که برائے راست حکومت کرنے کے بجائے اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے  زیر تسلط حکومتوں کو چلایا جائے اور  ان ایجنٹوں  کے ذریعے امریکی مفادات حاصل کیے جائیں .  اسی منصوبه بندی کے تحت ایران نے شاه   کو خطے میں اپنے پولیس مین کا کردار دے دیا. وسیع معدنی دولت، بڑی آبادی ، مضبوط دفاع اور منفرد علاقائی اسٹریجک اهمیت کے پیش نظر ایران کو خلیج فارس کے دیگر ممالک پر برتری حاصل تھی. یهاں پر امریکی صدر نیکسن نے  two pillarٹوپلر تھیوری  کی منصوبه بندی کی. رچرڈ نکسن کے اس ڈاکٹرائن کے مطابق ایران اور سعودی کو مشرق وسطی میں  امریکی پالیسی کے دو ستون قرار دیا گیا تھا. امریکه  ان دو ممالک کے ذریعے  اس خطے کو دور بیٹھ کر کنٹرول کرتا تھا. امریکه دونوں کی اقتصادی سے زیاده فوجی مدد کرتا تھا تاکه ان کے ذریعے دوسروں  پر اپنا رعب و دبدبه برقرار رکھ سکے. ٹوپلرتھیوری میں ایران کو سعودی عرب پر ترجیح حاصل تھی . مشرق وسطی میں امریکی جب بھی  کوئی پلاننگ شروع کرتے یا  اسے عملی جامہ پهناتے تو ایران کو سعودی عرب پر ترجیح دی جاتی۔

1973 میں جب ایران میں تیل کے زخائر عملی صورت میں سامنے آئے تو امریکه نے اس تیل کے بدلے سب سے زیاده هتھیار ایران کو فروخت کیے  یهاں تک که  ایف 16 جنگی  طیارے ایران کو فراهم کیے گئے  حالانکه اس وقت تک یه جنگی  طیارے اسرائیل کو بھی سپلائی نهیں کیے گئے تھے. امریکه ایران کو خطے کا اپنا مستحکم ترین قلعه سمجھتا تھا تاهم جب ایران میں اسلامی انقلاب کامیاب هوا تو گویا خطے میں امریکه کے خلاف ایک زلزله آگیا. اس انقلاب نے خطے اور عالمی سطح پر امریکه کو کئی چیلنجوں سے دوچار کر دیا۔ اور یه وهی بنیادی دشمنی هے جو امریکه کو ایران اور اسکے اسلامی انقلاب  اور اسلامی جمهور ی نظام سے هے۔

 ایران کے اسلامی انقلاب کے نتیجے میں خطے میں امریکه کا ایک ستون   گر گیا اور اسکا اثر و نفوذ کم هو گیا. اسلامی  انقلاب کی کامیابی اور نئے نظام کی امریکی ڈکٹیشن کو قبول نه کرنا خطے میں امریکه کی ایک بهت بڑی شکست تھی۔

(جاری ہے)

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری