ہمالیا کے کسی قھوہ خانے میں امام خمینی کی تصویر سے لیکر خرمشہر کی آزادی کےلئے روزوں کی منت تک

«ایران، جان پاکستان»، «ثقافت، سیاست، اسلامی جمہوریہ» پراجیکٹ کی خصوصی دستاویزی رپورٹ ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ پاکستان پوری دنیا میں سب سے بڑا ثقافتی مرکز بن سکتا تھا اور اب بھی بن سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا. ایرانیوں اور پاکستانیوں نے ان سالوں میں کیا کیا؟

ہمالیا کے کسی قھوہ خانے میں امام خمینی کی تصویر سے لیکر خرمشہر کی آزادی کےلئے روزوں کی منت تک

"ایران، جان پاکستان" کی خصوصی دستاویزی رپورٹ جو کہ 37 اقساط پر مشتمل تسنیم نیوز ایجنسی کی فارسی سائٹ کے توسط سے عرصہ پہلے شائع ہوچکی ہے، ہمارے پاکستانی قارئین کے لئے تسنیم اردو سائٹ کے افتتاح کے موقع پر اردو زبان میں شائع ہورہی ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے عوام اور مقتدر حلقوں کے درمیان موجود دوریوں کو مٹاکر اتحاد بین المسلمین کو فروغ دینا ہے۔

پاکستان پوری دنیا میں سب سے بڑا ثقافتی مرکز بن سکتا تھا اور اب بھی بن سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا. ایرانیوں اور پاکستانیوں نے ان سالوں میں کیا کیا؟

یہ چونتیس سال پہلے کا پاکستان ہے

پاکستانیوں کی ابتدائی سہولیات پروجیکٹرز اور جنریٹرز ایرانی انقلاب کے آغاز میں انقلاب کو ترویج دینے کے لئے دنیا کے سب سے اعلیٰ درجے کے اوزار قرار پاتے ہیں. 1978ء کا ایرانیوں کا انقلاب جب کامیاب ہوجاتا ہے تو ایرانی سرزمین سے میلوں دور پاکستانیوں کا ایک گروہ، ایرانی انقلاب کو اپنی تمام امیدوں اور خوابوں کی علامت تصور کرتے ہوئے کام کرنے کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے۔ اس زمانے میں بہت سے مسلمان ملکوں میں ایک مسلمان ملک کے مسلمان حکمران کے خلاف مزاحمت کو بڑے پیمانے پر حرام جانا جاتا تھا اور یہی حرمت کا نظریہ رائج تھا اور پاکستان کے عوام کا ایک حصہ بھی اس نظریے سے مستثنی نہیں تھا۔ اسی زمانےمیں ایرانی انقلاب اور امام خمینی کےخلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈہ امریکی اور برطانوی میڈیا کی جانب سے پاکستانیوں کےلئے نشر ہورہا تھا۔ اس کے علاوہ وہابی انتہا پسندوں کے ایک گروہ نے بھی حضرت امام خمینی کے نورانی چہرے کو پاکستان میں بدنام اور مسخ کرنا شروع کر دیا تھا۔ پاکستان کے کئی حصوں میں اس وقت بجلی نہیں تھی. ایران سے عشق رکھنے والے پاکستانیوں کا ایک گروہ بڑی مشکل سے جنریٹرز سے بجلی پیدا کرتا ہے، ویڈیو پروجیکٹر پیدا کرتا ہے اور اپنی روزمرہ زندگی کے وسائل کو جمع کرکے بنیادی آلات کے ساتھ گاؤں سے گاؤں کا سفر طے کرتے ہیں۔ دیہاتیوں کو جمع کرتے ہیں، امام خمینی کی تقاریر اور پیغامات ان کے لئے نشرکرتے ہیں. گاؤں گاؤں میں ویڈیوز دکھانے کے پروگرام کراتے ہیں اور پھر لوگوں کے لئے اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ اس دوران پاکستانیوں کو پہلی بار پتہ چل رہا تھا کہ ایرانی انقلاب کیا ہے؟ یہ وہ دن تھے جب ایران کے اندر کوئی بھی ان چیزوں کے بارے سوچتا ہی نہیں تھا۔ سب سے پہلے تو انقلاب کو مضبوط ہونا تھا اور اس کے لئے دلیل بھی قابل قبول تھی، چونتیس سال قبل کے لئے۔۔۔۔۔۔۔

    *****

یہ تیس سال پہلے کا پاکستان ہے

پاکستانیوں کا خرم شہر کی آزادی کے لئے دو دن روزہ رکھنا دنیا کی جنگوں کی تاریخ میں کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ جون 1982ء میں پاکستان کی ایک جماعت کے لوگ پشاور میں جمع ہوتے ہیں۔ ان کے قائد سید عارف حسین الحسینی ہیں جو ایک چھوٹے سے ریڈیو کو اپنےکان سے دور نہیں کرتا تاکہ ایک پل بھی ایران کے جنوب کے دورترین علاقے خرم شہرکے قبضے کی تازہ ترین خبروں کو کہیں کھو نہ دیں۔ ہماری کہانی کے پاکستانی لوگ، خرم شہر کے قبضے کے بہت طویل ہونے کے میں بارے میں فکرمند اور پریشان تھے اس لئے منت مانتے ہیں کہ خرم شہر کی آزادی تک پاکستان میں روزے رکھے جائیں گے۔
دو دن کے بعد پاکستان میں خرم شہر کی آزادی کا اعلان سب سے پہلے اسپیکر پر ایک مقامی مسجد سے کیا جاتا ہے پورا شہر جوش و خروش کے ساتھ جشن مناتا ہے، پاکستانیوں کی پرانی روایت کے مطابق، خوشی کے موقع پر کی جانے والی ہوائی فائرنگ کی آوازوں سے پورا شہر گونج اٹھتا ہے مختصر یہ کہ پورا شہر جام ہوجاتا ہے۔ ایک ایرانی شہر کی آزادی کی مناسبت سے پاکستان کے ایک شہر میں تین دن کے لئےچھٹیاں منائی جاتی ہیں۔

   *****

یہ دو سال پہلے کا پاکستان ہے

مندرجہ ذیل تصاویر اسلامی جمہوریہ ایران کی عراق کے ساتھ جنگ میں کامیابی کے سلسلے میں منعقدہ تقریبات سے متعلق ہیں۔

انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کا جشن اکتیس برس بعد ایک ایسےملک میں منایا جاتا ہےجس کا نام پاکستان ہے۔

یہ ماجرا اتنا واضح ہے کہ اس کو عام طور پر بیان کی جانے والی طول و تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔

ہم سے میلوں دور دنیا کے ایک کونے چنیوٹ نامی علاقے میں چند پاکستانی نوجوان ایران کے نام سے کسی دوسرے ملک میں تیس سال پہلے رونما ہونے والے ایک واقعے کےتحفظ کے لئے جمع ہیں اور جشن مناتے ہیں۔ محدود ابتدائی سہولتوں کے ساتھ انقلاب کے واقعات اور اھداف کو دکھانے کے لیےایک تھیٹر منعقد کرتے ہیں، ایرانی انقلاب کے ترانے پڑھتے ہیں، پاکستانیوں کی ایک تعداد وہاں آ کر بیٹھتی ہے اور ایرانی انقلاب کے نعرے سنتے اور لگاتے ہیں۔

اس جشن میں ایرانی انقلاب کے مناظر کو نہایت سادہ طریقے سے امام خمینی، آیت اللہ خامنہ ای، ایرانی شہدا من جملہ شہید ھمت، شہید فہمیدہ ۔۔۔۔۔ کی تصاویر سے احاطہ کیا گیا ہے جس میں ایرانی ثقافتی نظام کی جانب سے کسی بھی قسم کی سپورٹ، حمایت اور موجودگی دکھائی نہیں دے رہی۔ ایران کے انقلاب کو ان کی اپنی سرزمین میں فروغ دینے کی پروجیکٹروں کی کوششوں کو 32 سال کا عرصہ گذر گیا ہے جبکہ اصل کہانی، پاکستانیوں کے ایران کے لئے محبت سے بھرے ہوئے دلوں کی ہے تاہم ثقافتی اداروں کی بے حسی کی وجہ سے ان دلوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

   *****

یہ آج کا پاکستان ہے

پاکستان میں پاکیزہ ثقافت کا شہر کراچی، جس کی گلیوں میں ایک تنگ سی گلی کا نام امام خمینی ہے یہ نام کراچی شہر کی بلدیہ کی جانب سے انتخاب نہیں کیا گیا ہے بلکہ گلی کے پرانے نام کے اوپر وہاں کے رہائشیوں نے ایک بورڈ تیار کیا ہے اور اس پر امام خمینی کا نام لکھا ہے۔ بیس برسوں سے اس گلی کا نام یہی تھا لیکن عرصہ پہلے کراچی کی بلدیہ نے اس گلی کے بورڈ کو اکھاڑا اور ایک نیا نام رکھ دیا لیکن اس محلے کے لوگوں کا امام خمینی سے عشق ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا اور یہاں کے لوگوں نے ایک بار پھر گلی کا نام تبدیل کرکے امام خمینی رکھ دیا۔ پاکستان میں اور بھی گلیاں اور عوامی مقامات موجود ہیں جو ملکوں یا مختلف ممالک کی مشہور شخصیات کے ناموں سے منسوب ہیں لیکن وہ سارے کراچی کی امام خمینی گلی کے ساتھ ایک بنیادی فرق رکھتے ہیں۔ یہ سڑکیں یا عوامی مقامات، ان ملکوں کے سرمایے سے بنے ہیں اور ان ملکوں نے ان سڑکوں یا عوامی مقامات کے نام بھی اپنے مشہور شخصیات کے ناموں سے ہی منسوب کر دئے ہیں۔ تمام ممالک میں عمومی سفارت کاری کا ایک عام طریقہ ہوتا ہے لیکن ۔۔۔ پاکستانی عوام یہ سارے اقدامات ایرانیوں کی محبت کی وجہ سے خود اپنی مدد آپ کے تحت  اٹھاتے ہیں ۔۔۔۔

ایک معروف ایرانی دستاویزی فلم ساز بیان کرتے تھے کہ جب وہ پاکستان میں تھے، ہمالیہ کے پہاڑوں کی سخت چٹانوں کے درمیان، ایک قہوہ خانےکو دیکھا، اندر گئے اور وہاں پر اس قہوہ خانے والے کےسر کے اوپر دیوار پر امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای کی تصویریں نظر آئیں، انہوں نے ان کے بارے میں پوچھا تواس قہوہ خانہ والے نے جواب دیا، یہ ہماری پہچان ہیں۔

پاکستان میں ایک قھو خانہ/ یہاں امام خمینی کی تصویر دیکھنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے

بات بڑی سادہ سی ہے لیکن ایرانی میڈیا میں یہ مسئلہ بڑا پیچیدہ نظر آتا ہے۔ پاکستان، ایرانی انقلاب کے بعد جذباتی اور نظریاتی تعلقات کی وجہ سے آسانی سے خطے میں سب سے اہم ثقافتی بنیاد بن سکتا تھا۔ بیس کروڑ کے قریب پاکستانی عوام ایرانی انقلاب کی ثقافت کے پیاسے تھے جبکہ ثقافتی مینیجمنٹ کے تیس سال دورانیے کے باوجود ظاہر ہے کہ ایرانی میڈیا پاکستان کے بارے میں خاموشی سے گزر گئی ہے۔ پاکستان میں جنوبی کوریا کے ثقافتی مراکز، پاکستان میں بہت سے ترک اسکولز، پاکستان میں امریکہ کے ساتھ وابستہ 30 سے زائد ٹی وی اسٹیشنز کا وجود، ایران کے ثقافتی نظام کی براہ راست کارروائی کا نتیجہ ہے۔

ہماری کہانی کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ انقلاب کے بعد، ان تمام سالوں میں پاکستانی عوام کے دلوں سے متعلق ایرانیوں کی نگاہ صرف اور صرف غربت، بھوک، سیلاب اور خودکش حملوں تک محدود ہے۔

ہم میڈیا والوں کی تصویر کشی کے عین مطابق، پاکستانی عوام ایرانیوں کےلئے سیاہ چہرے والے ایسے غریب لوگ ہیں جو سڑکوں اور گلیوں کے کونوں میں بکھرے ہوئے ہیں اور کبھی کبھار اپنے سروں پر مارتے ہیں اور ایک دھماکہ خیز بیلٹ خود کو باندھتے ہیں، چند اور کے ساتھ خود کو بھی دھماکے سے اڑا دیتے ہیں۔ پاکستان خشک صحرا اور گھاس ہے جہاں لوگ ہر روز غربت اور بھوک کی وجہ سے لڑ رہے ہیں اور مر رہے ہیں۔

اتنا واضح طور پر۔۔۔ اورظاہر ہے یہ توبہت فحش گوئی ہے ۔۔۔

خبررساں ادارے تسنیم کی خصوصی دستاویزی رپورٹ « ثقافت، سیاست، اسلامی جمہوریہ» کی اگلی قسط میں پاکستان کی جانب بڑھیں گے۔ آج سے انٹرویوز، رپورٹوں اور نوٹوں (یادداشتوں) کی شکل میں ایرانی عوام، میڈیا، ایرانی ثقافت کے منتظمین کی توجہ اسلامی جمہوریہ ایران کےعاشقوں کی سرزمین پاکستان کی طرف مبذول کرنے کے لئے، ایک ادنیٰ سی کوشش شروع کی جا رہی ہے۔ ایک ایسی کوشش جو ایرانی میڈیا میں سالوں پرانی خلا کو دور کرنے کے پیش نظر اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ عقیدتی تعلق رکھنے والی سرزمین (پاکستان) کی طرف توجہ مبذول کرانے کی ایک مثبت کردار ادا کرے۔

یہ ایرانی میڈیا میں موجود پاکستان کی دقیانوسی تصویر کو تبدیل کرنے کی ایک کوشش ہے اور ظاہر ہے کہ ایرانی ثقافتی مینیجمنٹ سسٹم کو ہزار بار جھٹکا دینے کی کوشش بھی ہے، ایسی مینیجمنٹ جس کو چند کلومیٹر اس طرف کچھ نظرنہیں آتا۔

واضح رہے کہ فائل کا نام ایک پاکستانی یونیورسٹی کے پروفیسر ظہیر احمد صدیقی کی کتاب سے لیا گیا ہے ظہیر احمد ایران کو جان پاکستان کا نام دیتے ہیں۔

محترم قارئین کو یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے کہ یہ رپورٹ تسنیم نیوز ایجنسی کے ایک ایرانی روزنامہ نگار حمیدرضا بوالی کی فارسی زبان میں شائع شدہ رپورٹ  سے ترجمہ کی گئی ہے۔

جاری ہے ۔۔۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری