تصاویر | ایران میں انقلاب اسلامی کے ثمرات اور اس کا مختصر جائزہ – 3

اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے اقتصادی شعبے کے ساتھ ساتھ دفاع کے شعبے میں بھی نمایاں ترقی کی ہے جس کی واضح مثال اس ملک کی میزائل ٹیکنالوجی اور جدید طرز کے ڈرون طیارے ہیں۔ 

تصاویر | ایران میں انقلاب اسلامی کے ثمرات اور اس کا مختصر جائزہ – 3

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، عشرہ فجر کی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران نے مہاجر6 نامی جدید ترین ڈروں طیارے کی نمائش کی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع اور سپاہ پاسداران کے سربراہ کی موجودگی میں مہاجر6 نامی ڈرون طیارے کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی۔

مہاجر6 نامی ڈرون طیارہ جدید ترین میزائل حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سے قبل صاعقہ اور سیمرغ نامی ڈرون طیاروں کا کامیاب تجربہ کرچکا ہے۔

وزیر دفاع جنرل امیر حاتمی نے افتتاحی تقریب کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کے بعد ایران نے اقتصادی شعبے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی خاص کر فوجی ساز وسامان تیار کرنے میں اہم ترقی کی ہے جس کی واضح مثال اس ملک کی میزائل ٹیکنالوجی اور جدید طرز کے ڈرون طیارے ہیں۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف بین الاقوامی سطح پر سخت ترین پابندیوں کے باوجود ہم نے ہر شعبے میں ترقی کی ہے اور آج ہم انقلاب اسلامی کی چالیسویں سالگرہ کے موقعے پر مہاجر6 نامی جدیدترین ڈرون طیارے کی نمائش کررہے ہیں جو کہ فوجی شعبے میں ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

واضح رہے کہ یہ ڈرون طیارے میزائل لے جانے کی صلاحیت کے حامل ہیں، اس کی تحقیق، تجربے اور آزمائش کے تمام  مراحل مقامی سطح پر ہی انجام پائے ہیں۔

انقلاب اسلامی کی سالگرہ کی مناسبت سے ایران نے میزائل سے لیس مقامی سطح پر تیارشدہ جدید ترین ڈرون طیارہ متعارف کرایا ہے۔

دفاعی شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ  نئے ڈرونز جنگی جیٹ، ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں سمیت مختلف اقسام کے طیاروں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران سنہ 2010ء سے ایسے ڈرونز تیار کررہا ہے جو ایرانی وزارت دفاع کے مطابق ایک ہزار کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران نے 1992ء میں اپنی دفاعی صنعت کو فروغ دیا تھا۔ وہ اب خود ہلکے اور بھاری ہتھیار تیار کررہا ہے۔ ان میں مارٹر گولوں سے لے کر ٹینک اور سب میرینز تک تیار کی جارہی ہیں۔ ایران نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کررکھے ہیں۔ یہ دو ہزار کلومیٹر تک مار کرسکتے ہیں اور اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو باآسانی نشانہ بنا سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ 4 دسمبر 2011 کو امریکہ کا آرکیو 170 ڈرون طیارہ ایران میں جاسوسی کے مشن پر آیا تھا جسے ایرانی افواج نے زمین پر اتار لیا تھا اور ایرانی سائنس دانوں نے نہایت ہنرمندی کے ساتھ اس کی ٹیکنالوجی کا مطالعہ کیا اور عین اسی قسم کا ڈرون تیار کرلیا۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی ایران خبریں
اہم ترین ایران خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری