تجزیہ | کیا ترکی ـ امریکہ لڑ پڑیں گے ؟؟؟ + نقشے

شام کے شمال میں ترکی ـ امریکہ تناؤ میں اضافہ ہوا ہے اور کچھ مبصرین کے خیال میں تناؤ کی یہ کیفیت عسکری تقابل میں بھی بدل سکتی ہے۔ 

تجزیہ | کیا ترکی ـ امریکہ لڑ پڑیں گے ؟؟؟ + نقشے

خبر رساں ادارہ تسنیم: دو ملکوں کے بیانات اور ایک دوسرے کے بارے میں تند و تیز لب و لہجے، شہر منبج ـ جہاں کچھ جنرل کی سطح کے امریکی افسران اور شاید 2000 کے قریب فوجی ـ جو چوری چپکے شام میں داخل ہوئے ہیں ـ پر ترکوں کے امکانی حملے سے محسوس ہورہا ہے کہ شاید ان دو پرانے حلیفوں کے باہمی تعلقات کی فضا کچھ زیادہ ہی بگڑ چکی ہے: جنگ کا خطرہ نیٹو کے دو رکن ممالک کے درمیان! 

"زیتون کی ٹہنی" ترک افواج کی اس کاروائی کا نام ہے جو انھوں نے شام کے شمالی شہر عفرین پر قبضہ کرنے کے لئے تین ہفتے قبل سے شروع کررکھی ہے، لیکن کچھ پہاڑی ٹیلوں اور چند دیہاتوں کے سوا کوئی خاص پیشقدمی نصیب نہ ہوسکی ہے گوکہ لوگ کافی سارے قربان ہوچکے ہیں: مرد، عورتیں اور بچے، جن کے لئے اب ہمارے یہاں کے لوگ بھی سوگ و ماتم کا اہتمام نہیں کرتے کیونکہ اس بار اس قتل عام کا الزام حکومت شام پر لگانا ممکن نہیں، مارنے والا اپنا ہے گویا تو مرنے والے کیسے اپنے ہوسکتے ہیں!

ترک حکومت نے 42 اگست 2016 کو بھی جنوبی سرحدی علاقوں کی "داعش [جو ان دنوں تک ترک حکومت کو شام اور عراق کا سستا تیل بیچتی آئی تھی] سے چھڑانے" کے بہانے، شام کے بعض دہشت گرد ٹولوں کے تعاون سے "فرات شیلڈ" کے عنوان سے 2000 کلومیٹر مربع کے علاقے میں ایک کاروائی کا آغاز کیا تھاـ منبج کے شمال میں فرات کے مغربی کنارے سے "اعزاز" اور "الباب" کے شہروں تک، جن پر سات مہینوں میں ترکی کے حلیف دہشت گرد ٹولوں ـ منجملہ فری سیرین آرمی ـ نے قبضہ کرلیا۔ 

ترکوں نے اس کاروائی کا مقصد علاقے کو داعش دہشت گرد ٹولے سے آزاد کرانا ظاہر کیا تھا لیکن یہ اعلان زمینی حقائق سے مختلف تھا کیونکہ ترکی کے جنوبی سرحدوں کے اس پار کے زیادہ تر علاقوں سے داعش کو بےدخل کیا جاچکا تھا اور ان علاقوں پر شامی کردوں کی جماعتوں "عوامی تحفظ یونٹس People's Protection Units" اور "سیرین ڈیموکریٹک فورسز Syrian Democratic Forces (یا SDF)" کا قبضہ ہوچکا تھا سوائے شہر الباب اور اس کے نواح کے جہاں داعش کا قبضہ تھا۔ گو کہ ترک حکام کی طرف سے یہ بیانات مسلسل آتے تھے کہ کردوں کو فرات کے مشرقی کنارے کی طرف پسپا ہونا چاہئے اور ان علاقوں کو ان کے اصل مالکان یعنی عربوں اور ترکمنوں کے حوالے کرنا چاہئے۔ 

امریکہ کو علاقائی پالیسیوں میں توقع سے زیادہ بڑی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، افغانستان اور عراق سے جانا پڑا تھا اور ایران اور روس کا اثر و رسوخ مغربی ایشیا میں بڑھ چکا تھا اور پھر بھی یہاں موجود رہنے کے لئے بہانے تلاش کررہا تھا، کیونکہ اب وہ زمانہ بھی نہ تھا کہ عراق اور افغانستان کی طرح یہاں بھی براہ راست لشکر کشی کرسکے، چنانچہ اس نے انسداد داعش کے عنوان سے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کیا داعش کو نشانہ بنانا مقصد بتایا گیا گوکہ زیادہ تر مواقع پر دیکھا گیا کہ اس اتحاد کا اصل مشن داعش کو بچانا ـ پھر بھی کبھی اور پھر بھی کہیں استعمال کرنے کے لئے ـ اور علاقے میں موجود رہنا تھا؛ داعش کی موجودگی ایک دستاویز کے سوا کچھ نہ تھی۔ امریکیوں نے شام کے شمالی کردوں کو اپنا حامی بنا لیا جنہیں ترکی کی طرف سے خطرات لاحق تھے اور انہیں کسی کی شہ کی اشد ضرورت تھی: دونوں ایک دوسرے کے حلیف بنے اپنے اپنے مقصد کے لئے۔ 

شام کی کرد ڈیموکریٹک فورسز کو امریکی ہتھیاروں سے لیس کیا گیا اور یہ عسکری امداد امریکہ کی علاقے میں بقاء کا جواز قرار پائی کیونکہ سامنے داعش کو دشمن فرض کیا گیا تھا جس کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا تھا اور امریکہ کو اس حوالے سے کسی بڑی بین الاقوامی مزاحمت یا تنقید کا سامنا نہ تھا؛ لیکن ایک چھپا ہوا امریکی مقصد یہ تھا کہ وہ ترکی کی سرحدوں پر کردوں کو طاقتور بنا کر رجب طیب اردوگان اور ان کے ہم فکر ترک حکمرانوں کی سلطنت عثمانی کی طرف پلٹنے کی خواہشوں کو لگام دینا چاہتا تھا: شاید رجب شاہ اوّل نے اس امریکی نیت کو بھانپ لیا تھا!

بایں وجود ترکی نے فرات شیلڈ نامی کاروائی کا آغاز کیا تو واشنگٹن نے چند مرحلوں میں بڑی تعداد میں اپنے فوجی داعش کے خلاف جنگ میں کردوں کی مدد کے بہانے بطور عسکری مشیران، منبج شہر میں تعینات کرلئے تاکہ ترکی اور اس کے حلیف اس شہر کی طرف ترچھی نظریں نہ اٹھا سکیں اور اس شہر کو کرد فورسز سے خالی نہ کرا سکیں۔

روزنامہ گارڈین نے نومبر 2017 میں ایک مضمون کے ضمن میں شام کے شمالی علاقوں میں امریکی فوجیوں کی تعداد کا تخمینہ لگاتے ہوئے لکھا کہ امریکہ نے یہاں دوہزار کے قریب فوجی تعینات کرلیئے ہیں اور پینٹاگون آنے والے دنوں میں اصل تعداد کا اعلان کرے گا؛ حالانکہ ترکی کی کاروائی کے دوران کہا گیا تھا کہ اس علاقے میں 500 امریکی فوجی تعینات کئے جاچکے ہیں۔ 29 مارچ 2017  ترکی نے فرات شیلڈ نامی کاروائی کے اختتام کا باضابطہ اعلان کیا۔ یہ کاروائی سات مہینے اور پانچ دن تک جاری رہی۔ 

اسی وقت سے ترکی نے امریکی عسکری موجودگی پر تند و تیز تنقید کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا اور ترکوں نے دھمکی دی کہ اگر امریکہ کردوں کی عسکری امداد کا سلسلہ بند نہ کرے تو فرات شیلڈ کی طرح کی نئی کاروائی اس بار کردوں کو فرات کے مشرقی کنارے تک دھکیلنے کے لئے شروع کی جائے گی۔ 

امریکہ نے ترکوں کے موقف کو یکسر نظر انداز کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے فرمان پر 9 مئی 2017 سے کردوں کے لئے عسکری امداد کی ترسیل کو جاری رکھا۔ 

داعش کے مقابلے میں کردوں کی حمایت اور عدم حمایت کے مسئلے پر ترکی ـ امریکہ اختلاف جاری رہا یہاں تک کہ شام میں جنگ کے بادل چٹتا دیکھ کر امریکیوں نے 21 جنوری 2018 کو نئی شرانگیزی کا آغاز اور 30 ہزار فوجیوں پر مشتمل کرد فوج کے قیام کا اعلان کیا؛ انقرہ مزید برداشت نہ کرسکتا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ جس کاروائی کی اس نے دھمکی دی تھی اس کے آغاز کا وقت آن پہنچا ہے۔ چنانچہ رجب طیب اردوگان نے 20 جنوری کو (امریکی اعلان کے ٹھیک 9 دن بعد) پھر بھی حکومت شام کے مخالف ٹولوں کی مدد سے "زیتون کی ٹہنی" نامی کاروائی کا آغاز کر ہی لیا: مقصد عفرین کو کردوں سے خالی کرانا بتایا گیا۔

عفرین پر قبضے کے لئے ترکی کی کاروائی پر ترک ـ امریکہ تقابل یہاں تک پہنچا کہ ٹرمپ نے بذات خود رجب طیب اردوگان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ان سے مطالبہ کیا کہ کاروائی کی رفتار کو بالکل سست کردیں اور رفتہ رفتہ اسے ختم کرکے اپنی فورسز کے انخلا کا انتظام کریں، اور جنگ کو صرف داعش پر مرکوز رکھیں۔ ٹرمپ نے اس رابطے کے دوران ترکی میں بڑھتے ہوئے امریکہ مخالف بیانات کا حوالہ دے کر اردوگان کو خبردار کیا اور دھمکی دی کہ یہ رویہ ان کی بدانجامی پر منتج ہوسکتا ہے!

ترک وزارت عظمی کے معاون اور ترجمان "بکر بوزداغ" نے کچھ دن قبل امریکی فوجیوں کو شہر منبج چھوڑنے کے حوالے سے خبردار کیا کہ اگر امریکی شہر منبج میں ترکی کے ساتھ ممکنہ تصادم کو ٹالنا چاہتے ہیں تو وہ شام میں عسکری موجودگی پر فوری نظر ثانی کریں کیونکہ ترکی بہر صورت اس شہر میں اپنی کاروائی سرانجام دے گا۔ 

ادھر امریکی افواج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل (Joseph L. Votel) نے ترکی کے انتباہات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا: امریکی وزارت دفاع کا منبج شہر سے انخلا کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ہماری فورسز اس شہر میں تعینات رہیں گی اور "عوامی تحفظ یونٹس" کی حمایت جاری رکھیں گی۔ 

اردوگان نے بھی 6 فروری کو ایک خطاب کے دوران کہا: ہم شام میں کردوں کے لئے امریکی ہتھیاروں کی ترسیل کے سلسلے میں ضروری اقدامات کررہے ہیں۔ 

انھوں نے امریکیوں سے پوچھا: 
٭ شام کا شمالی علاقہ داعش سے خالی ہوچکا ہے، اس کے باوجود تم یہاں ہتھیار کیوں بھجوا رہے ہو؟ 
٭ تم ابھی تک یہاں کیوں ہو؟
٭ یقینا تمہارا کوئی منصوبہ ہے ترکی کے خلاف، ایران کے خلاف یا پھر روس کے خلاف!

بعدازاں ترک وزیر خارجہ "مولود چاؤش اوغلو" نے اعلان کیا: ہم نے زیتون کی ٹہنی نامی کاروائی کے سلسلے میں امریکیوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی ہے اور نہ ہی ایسی کسی بات چیت کا ارادہ ہے۔۔۔ ہمیں توقع ہے کہ امریکہ دہشت گردوں کی حمایت بند کرے اور ہمارے راستے میں حائل نہ ہو ۔۔۔ ان [عوامی تحفظ یونٹس] کے سامنے دو راستے ہیں: یا ہتھیار ڈالیں یا پھر ہلاکت کا راستہ چن لیں۔

ادھر امریکی اتحاد کے ایک اعلی عہدیدار نے "الحدث" چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ہم چھ مہینوں سے منبج میں موجود ہیں اور کسی بھی طاقت کو اس شہر میں داخل نہیں ہونے دیں گے؛ عفرین میں ترکوں کی کاروائی نے داعش! کے خلاف ہونے والی کوششوں میں خلل ڈال دیا ہے؛ اس نے دعوی کیا کہ ہم ترکوں کو جو ہتھیار دے رہے ہیں اس کا مقصد داعش کا مقابلہ کرنا ہے!!

تناؤ کے اس تسلسل میں منبج میں موجود امریکی لیفٹننٹ جنرل پال فنک (Paul E. Funk) نے نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے، ترکی کو شدید ترین دھمکی دی اور کہا: اگر ترکی امریکی فوجیوں پر حملہ کرے تو ترک افواج کو بھی شدید جوابی حملے کا سامنا کرنا پڑے گا اور ہم ترکوں کو نشانہ بنائیں گے۔ 

بے شک امریکہ نیٹو میں اپنے شریک ملک ترکی کی زیتون کی ٹہنی سے ناراض ہے، اور دو طرفہ سیاسی مجادلات کی بنا پر دو ملکوں کے تعلقات ممکنہ بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ 

ادھر امریکہ کی طرف سے عوامی تحفظ یونٹس نامی کرد جماعت کی عسکری حمایت کے بعد، ترک رائے عامہ دہشت گردی اور نیم عسکری کرد جماعتوں کے خلاف جنگ کو امریکہ کے خلاف جنگ سمجھ رہی ہے۔ زمینی تبدیلیوں کے پیش نظر، منبج پر قبضے کے منصوبے سے ترکوں کی پسپائی کا امکان بہت کم ہے۔ دوسری طرف سے امریکی بھی ترک افواج کو نشانہ بنانے کے امکانات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں؛ جنگ ناگزیر دکھائی دے رہی ہے لیکن کچھ مبصرین پھر بھی اس قسم کے ٹکراؤ کے امکان کو کچھ زیادہ قوی نہیں سمجھتے: لیکن دو ملکوں کے حکمرانوں کی نفسیاتی کیفیات کو مد نظر رکھا جائے تو شاید اس سلسلے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ 

ترکی زیتون کی ٹہنی کو اپنی سلامتی اور علاقے کے سیاسی جغرافیے پر اثرانداز ہونے کے لئے ایک حیاتی منصوبہ سمجھ رہا ہے جس کی اسے کچھ نہ کچھ قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے۔ عوامی تحفظ یونٹس نے تین ہفتوں کے دوران کم از کم 90 راکٹ ترکی کی طرف داغے ہیں اور ترکی کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 120 ترک شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ـ جبکہ کردوں کا دعوی ہے کہ ہلاک شدگان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ترکوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عفرین کے اطراف کی لڑائی میں اب تک 17 ترک فوجی کام آئے ہیں اور 50 زخمی ہوئے ہیں جبکہ کرد مدافعین کے مطابق 500 سے زائد ترک فوجی ہلاک کئے جاچکے ہیں۔ 

ادھر ترک افواج کے جنرل سٹاف نے کردوں کی ہلاکتوں کے سلسلے میں مبالغہ آمیزی سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ گویا عفرین شہر کے اطراف میں اب تک 1100 کرد ہلاک کئے جاچکے ہیں؛ حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ترک افواج تین ہفتوں پر محیط کاروائی کے باوجود ابھی تک شہر عفرین سے کافی دور ہیں۔ 

زمینی حقیقت یہ ہے کہ ترکی اب تک عملی میدان میں فضائی حملے کررہا ہے، توپخانے کی گولہ باری کررہا ہے، لیکن میدان جنگ میں کوئی قابل توجہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے اور ترک افواج صرف چند دیہاتوں اور کچھ ٹیلوں پر قبضہ کرسکی ہیں ہاں مگر عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، عورتوں اور بچوں سمیت 150 عام شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 300 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم:  مہدی خدابخش و فرحت حسین مہدوی

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری