یادداشت | ریڈیو؛ ایک دم توڑتی روایت

آج13 فروری ہے عالمی یوم ریڈیو۔اس دن کو منانے کی باقاعدہ منظوری اقوام متحدہ کے ادرہ برائے تعلیم و ثقافت UNESCOنے 3نومبر 2011کواپنے چھتیسویں سالانہ اجلاس میں دی جبکہ 14 جنوری 2013 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے سرسٹھویں اجلاس میں یونیسکو کے فیصلہ کی توثیق کر دی۔

یادداشت | ریڈیو؛ ایک دم توڑتی روایت

خبر رساں ادارہ تسنیم: اس دن کو منانے کی تجویز سپین ریڈیو اکیڈمی کے صدر نے UNESCOکے ڈاریکٹر جنرل کے نام 2008میں ایک خط لکھ کر دی تھی ۔اس خط کی تائید میں انہیں 48ممالک کی براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشنز کی تحریری حمایت بھی حاصل تھی جبکہ جب UNESCO نے تمام ممبران سے رائے لی تو 91 فیصد نے اس دن کو منانے کی اہمیت کے حق میں رائے دی۔ اس کے بعد ہر سال 13فروری کوعالمی یوم ریڈیو کے طور پر منایا جانے لگا۔ یاد رہے کہ 13فروری 1946 کو اقوام متحدہ کے ریڈیواسٹیشن نے باقاعدہ اپنی نشریات کا آغاز کیا تھااور اسی دن کی مناسبت سے ڈائیریکٹر جنرل یونیسکو نے عالمی یوم ریڈیو منانے کی تجویز پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ 
اقوام متحدہ اس دن کو منانے کے مقاصد کی وضاحت کے طور پر یہ جملہ تحریر کرتا ہے کہ :

The objectives of the Day will be to raise greater awareness among the public and the media of the importance of radio; to encourage decision makers to establish and provide access to information through radio; as well as to enhance networking and international cooperation among broadcasters.

ریڈیو دنیا میں زیا دہ ترین لوگوں تک معلومات پہنچانے کا سب سے سستا زریعہ گردانا جاتا ہے ۔ یہ رابطہ کا ایک انتہائی طاقتورزریعہ بھی ہے ۔ لیکن وقت کی گر د نے جہاں دیگر زرائع آگاہی کو مشکلات کاشکار کر رکھا ہے وہاں ہی ریڈیو کوبھی وہ مقام حاصل نہیں رہا جو کسی زمانہ میں حاصل تھا۔آج یہ بات سب جانتے ہیں کہ تار کے بغیر معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کا تصورEssay on Magnetism (1784) میں جارج ایڈمز نے پیش کیا جبکہ اس نظریہ پر اپنے اپنے طور پر کام کرنے والوں میں لوئی گلوانی (1791) پیٹر سیمیول منک (1835) جوزف ہینری (1842) سیمیول ایلفرڈ ویلری (1852) ایڈون ہوسٹن ، ایلہو تھومسن ، تھامس ایڈیسن (1875) اور ڈیوڈ ایڈورڈ ہگیز (1878) شامل تھے ۔ جبکہ اس معاملہ میں پہلی بڑی کامیابی جیمز میکسویل کے اس فارمولہ سے 1864 میں گردانی جاتی ہے جس کی مدد سے انہوں نے واضع کیا کہ کسطرح برقی مقناطیسی لہروں کو آزاد فضا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا جاسکتا ہے ۔ اس وقت جب ہگیز نے برقی مقناطیسی لہروں کی پانچ سو قدم تک سنائی دے سکنے کی خوشخبری عوام کو سنائی تھی تو اخبارات نے پہلے صفحہ پر بڑی بڑی سرخیوں سے اس کام کو سراہا تھا ۔ یہ سفر جاری رہا لیکن 1894وہ سال تھا جب ریڈیو درحقیقت پیدا ہو گیا۔ گو کہ اولیور لاج ، جگدیش جندرا بوس، ایلیکزینڈر اسٹیفنووچ پوپوو نے امتیازی کام کیئے لیکن گلیلمو مارکونی بغیر تار کے ریڈیائی لہروں پر منحصر ٹیلیگراف سسٹم کو پیٹنٹ کروانے میں کامیاب ہو گئے اور اس کے بعد یہ ایجاد کمرشل بنیادوں پر فروخت کے لیئے پیش کر دی گئی ۔ گو کہ آج کا ریڈیو اس ریڈیو سے بہت زیادہ جدید ہے اور ریڈیائی لہروں کا استعمال اس دن کی بنسبت کئی گنا زیادہ ہو رہا ہے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس زیادتی نے نہ صرف انسان کو ایکدوسرے سے دور کردیا ہے بلکہ آج ہم اسطرح سے فائدہ بھی نہیں اٹھا پا رہے جسطرح سے پچھلی صدی کے لوگوں نے اٹھایا۔ گو کہ کہا جاتا ہے کہ آج کی تیز رفتار ترقی ہر خاص و عام تک پہنچ گئی ہے اس کے باوجود بھی آج دنیا میں ایک ارب کے لگ بھگ لوگ ایسے ہیں جن تک ریڈیائی لہروں کے زریعہ سے بھی معلومات نہیں پہنچ سکیں ۔ یعنی اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ آج بھی انسان کا انسان سے رابطہ کا خلاء موجود ہے جسے پر کرنے کی ضرورت موجود ہے۔

پاکستان کی تاریخ سے مصطفی علی ہمدانی کے 13اور 14اگست 1947 کی درمیانی شب کہے گئے الفاظ ’’السلام علیکم! پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس‘ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔ تیرہ اور چودہ اگست 1947کی درمیانی رات‘ بارہ بجے ہیں۔ طلوع صبح آزادی۔‘‘ کبھی بھی فراموش نہیں کیئے جا سکتے ۔ انہیں الفاظ کے ساتھ ہی پاکستان براڈکاسٹنگ کمپنی کا وجود عمل میں آگیا جو آگے چل کر ریڈیو پاکستان ہو گیا۔ ریڈیوپاکستان نے اپنے نشریاتی سفر کا آغاز صرف تین میڈیم ویوز ٹرانسمیٹرز کے ساتھ کیا جو لاہور‘ پشاور اور ڈھاکہ میں نصب تھے۔ نشریاتی سفر کے آغاز کے وقت عملے کی تعداد انتہائی کم اور آلات انتہائی پرانے تھے۔ ریڈیو پاکستان کے پروگراموں کی سماعت میں اس وقت وسعت پیدا ہوئی جب 1948میں کراچی اور راولپنڈی میں نئے ریڈیو اسٹیشنوں کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد کراچی میں 1950 میں نئے براڈ کاسٹنگ ہاؤس کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بعد 1951میں حیدرآباد اور 1956میں کوئٹہ میں نئے ریڈیو اسٹیشن قائم کئے گئے۔ 1970میں اسلام آباد میں ٹریننگ سینٹر اور ملتان میں ریڈیو سٹیشن قائم کیا گیا۔ 1974اور 75میں خیرپور اور بھاولپورمیں1977میں گلگت اور سکردو میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے۔1981میں تربت اور 1982میں ڈیرہ اسماعیل خان،خضدار اور فیصل آباد میں ریڈیو سٹیشن قائم ہوئے۔ان ریڈیو اسٹیشنوں کے قیام نے ریڈیو پاکستان کو ایک انتہائی مؤثر ذریعہ ابلاغ بنا دیا۔ پاکستان میں نشریات کی دنیا میں طویل عرصے تک ریڈیو پاکستان کی ہی حکمرانی رہی۔ ماضی میں ریڈیو کا دوسرا نام ریڈیو پاکستان ہی تھا کیونکہ یہ صرف ریڈیو پاکستان ہی تھا جو ملک بھر میں نشریاتی خدمات انجام دیتا تھا۔ ایف ایم 93 پرپورے پاکستان میں ریڈیوپاکستان اپنی نشریات پیش کر رہا ہے۔دستیاب معلومات کے مطابق اس وقت ایف ایم 93 کے پورے ملک میں 22سٹیشن ہیں۔
پاکستان میں 1994میں تجرباتی بنیادوں پرپہلے ایف ایم ریڈیو ایف ایم گولڈ نے نشریا ت کا آغاز کیاجس کینشریات صبح سات بجے سے دن 1بجے تک ہوتی تھی۔ تجرباتی نشریا ت کی کامیابی کے بعد 1996میں پاکستان براڈ کاسٹینگ کارپورشن نے ایف ایم 101کی باقاعدہ نشریا ت کا آغازکر دیا۔پورے پاکستان میں اس وقت 143ایف ایم چینل کام کر رہے ہیں۔

ریڈیو کا سنہری دوروہ تھاجب ریڈیو حقیقی معنوں میں تقریباً ہر خاندان کا فرد ہوا کرتا تھا۔ بیوٹی فل،مرفی یا فلپس کمپنیوں کے ریڈیو 1950کے عشرے میں ڈرائنگ رومز کی زینت ہوا کرتے تھے اور انہیں گھر میں ایک خاص مقام حاصل تھا۔پورا خاندان اس پر اپنے پسندیدہ پروگرام سنا کرتا تھا۔ جس میں ڈرامہ، موسیقی اور ریڈیو شوز شامل تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ریڈیو پر پروگرام کرنے والے فنکار و صداکار سامعین میں بہت مقبول ہوا کرتے تھے اور ہر ریڈیو اسٹیشن کو روزانہ ہزاروں کی تعداد میں سامعین کے خطوط موصول ہوا کرتے تھے۔ ریڈیو ایک استاد یا رہنما کی طرح لوگوں کی تربیت کیا کرتا تھا اور سامعین ریڈیو کے ذریعے دی جانے والی تربیت پر ایک طالب علم کی طرح عمل کیا کرتے تھے۔ ریڈیو نے عوام کی ذہنی نشوونما اور اخلاقی تربیت میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریڈیو تفریح کا بھی بہت بڑا ذریعہ تھا۔ پاکستان کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے گلوکار‘ موسیقار‘ سازکار‘ شاعر اور مصنفین ریڈیو پاکستان کے ساتھ وابستہ رہے اور ملک میں ثقافتی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ۔ وہ سامعین جو 1950اور 1960کے عشروں میں کرکٹ کمنٹریز سنا کرتے تھے وہ عمر قریشی اور جمشید مارکر کی کمنٹریز کو یاد کرتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ انگریز ی کمنٹری سامعین کو کھیل میں ہونے والی پیش رفت کو سمجھنے میں مدد دیتی تھی۔ کرکٹ کی اصطلاحات جیسا کہ گگلی‘ ہاؤزیٹ وغیرہ مانوس اصطلاحات بن گئیں اور عمر قریشی کا انداز کرکٹ کمنٹری میں معیار تسلیم کیا گیا۔ حالانکہ ریڈیوسیٹ کی تعداد بہت زیادہ نہ تھی اور ریڈیو بڑی تعداد میں دستیاب نہ تھے لیکن اس کے باوجود ریڈیو پر نشر ہونے والا پیغام پل بھر میں ملک کے طول و عرض میں پھیل جاتا تھا۔ دکانوں پر سکور بورڈ آویزاں کر دیئے جاتے تھے اور ان بورڈز پر تازہ ترین سکور درج کیا جاتا تھا۔ اگرہاکی کے کھیل کی کمنٹری کی بات کی جائے تو ایس ایم نقی کو اردو کمنٹری کا باوا کہاجائے تو بے جا نہ ہو گا اور یہ واحد اردو کمنٹیٹر ہیں جنہیں پاکستان کے ہاکی کے سنہری دور کے دوران قومی ہاکی ٹیم تک رسائی حاصل تھی۔ ان دنوں مرد‘خبروں اور حالات حاضرہ کے پروگرام زیادہ سنتے تھے اور خواتین ڈرامہ اور موسیقی کے پروگرام جبکہ نوجوان سکول براڈ کاسٹ‘ بچوں کی دنیا‘ زیادہ ذوق و شوق سے سنتے تھے اور بڑی تعداد میں لوگ مباحثوں‘ تقریری مقابلوں‘ مشاعروں‘ بیت بازی اور ڈراموں میں شرکت کرتے تھے۔ ریڈیو نے پاکستان میں فلم اور آرٹ کو فروغ دینے والے ادارے کی ذمہ داری سنبھالی ہوئی تھی۔ ٹی وی اور فلم کے اکثر مقبول فنکاروں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو سے کیا۔ انہیں ملک میں ایسا کوئی ادارہ یا اکیڈمی میسر نہ تھی جہاں سے وہ فنی تربیت حاصل کر سکتے۔ لہٰذا انہیں ریڈیو پر ہی انحصار کرنا پڑا اور اس طرح جو کردار وہ ریڈیو ڈراموں میں ادا کرتے گئے وہی ان کی تربیت کا ذریعہ بنے۔ 

پھر کیا ہوا؟ شاید ہمیں ترقی نے آلیا۔ آج ہماری نوجوان نسل کے پاس لامحدود و لامتناہی آپشنز موجود ہیں ۔ سینکڑوں ریڈیو اسٹیشنز ہزاروں طرز کی معلومات فراہم کر رہے ہیں لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خاندانوں کے درمیان وہ محبت اور خلوص جس کا سبب ریڈیو بنتا تھا اب نہیں رہا۔ ہم نے اپنی روایات کو بھلا دیا۔ اب ہم نہیں جانتے کہ بیٹی کس گانے پر اپنے مستقبل کے تانے بن رہی ہے اور بیٹا کس کی تربیت میں نشونما پا رہا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ریڈیو ختم ہو گیا یا ختم ہو جائے گاکیونکہ جو کام ریڈیو پاکستان کیا کرتا تھا اب بہت سے مختلف ادارے وہی کام انتہائی شد و مد کے ساتھ کر رہے ہیں لیکن کمرشل ازم کا ایک مسئلہ پیسہ بنانا بھی ہوتا ہے۔ براڈکاسٹنگ کے دوران سامع کو اپنی طرف مائل رکھنے کی تگ و دو نے پروگراموں کے معیار کو اس حد تک گرا دیا ہے کہ اب فحش گوئی اور سرحد پار سے درآمدی موسیقی جس میں جزبات کو ابھارنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اس تواتر کے ساتھ پیش کیئے جا رہے ہیں کہ گننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ظاہر ہے جو بکتا ہے وہ ہی بنایا جاتا ہے اور وہ ہی پیش بھی کیا جاتا ہے ۔ یہ بک رہا ہے ۔لیکن بک تو اور بھی بہت کچھ سکتا ہے لیکن اتنا وقت کس کے پاس ہے کہ ایک ایک پہلو پر کام کیا جائے۔ یہ بحث تو ایک طرف ہے کہ ہمارا موسیقار اور ڈرامہ نگار اس تمام دوڑ دھوپ میں بے روزگار ہو کر رہ گیا ہے لیکن معاشرتی اقدار و روایات دم توڑتی جا رہی ہیں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہمارے بڑوں کے پاس تو ان چھوٹے چھوٹے مسائل کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ عالمی یوم ریڈیو ہمیں ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم صرف ایک روز کے لیئے ہی سہی اپنے خاندان کے ساتھ انہیں روایات کا مزہ دوبالا کریں جنہیں ہم نے چکا چوند تیز رفتار ترقی کی نظر کر دیا ہے۔ وگرنہ یہ روایت بھی دیگر کئی روایات کی مانند دم توڑ جائے گی اور ہمیں خبر تک نہ ہو گی۔

تحریر و تحقیق : مسعود چوہدری ۔۔ بیان و کلام

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری