تجزیہ | امریکہ بہادر کے اشاروں پر ناچتا بے چارہ افغانستان

چالیس سال کے شوقیہ جنگ و جدل، ساٹھ لاکھ افغانوں کے بےگھر کرنے، تین نسلوں کے مستقبل کے برباد ہونے، لاکھوں بےگناہوں کے خون ناحق کی بلی چڑہانے اور سولہ سال کی مہم جوئی کے بعد بھی آج امریکہ بہادر خطہ میں ایک نئے کھیل کی ابتدائی کی تیاری کر رہا ہے۔ اگر ابھی بھی افغان سمجھتے ہیں کہ امریکہ بہادر انہیں کوئی فائدہ دے سکتا ہے تو معذرت کے ساتھ وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

تجزیہ | امریکہ بہادر کے اشاروں پر ناچتا بے چارہ افغانستان

خبر رساں ادارہ تسنیم: آج یہ بات روز روشن کی مانند عیاں ہو گئی ہے کہ اسلام آباد دھرنے کو افغانستان کے صدر اشرف غنی کے پاکستان مخالف حالیہ بیانات کی وجہ سے نقصان ہوا ہے۔ محسود اور وزیر قبائل کے تین مطالبات جن کا تسلیم کیا جانا نزدیک تھا، صرف اشرف غنی کے بیانات نے انہیں دو مطالبات پر معاہدہ کی صورت میں اختتام پذیر ہونے پر مجبور کر دیا۔ لیکن اس افغانی پتلی بادشاہ کا پشتون قوم کے دکھ پر تلملا اٹھنا اور انتہائی سمجھداری کے ساتھ افغان، پشتون، اور پاکستانی قبائلی کے فرق کو ختم کردینا بلا سبب نہیں تھا۔ اس تمام معاملہ پر اگر چند دن پہلے قلم اٹھاتا تو پاکستان میں موجود ہمارے پشتون بھائیوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ اب جبکہ ہمارے قبائلی عمائدین اور حکومت وقت کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے تو چند اہم حقائق آپ کے گوش گزار کیے دیتا ہوں۔

تفصیلات میں جانے سے اشرف غنی جنہیں مغربی دنیا فلسفی بادشاہ کے نام سے بھی جانتی ہے، انکا مختصر تعارف انتہائی ضروری ہے۔ جناب افغانستان کے صوبہ لوگر میں 19 مئی 1949 میں احمدزئی قبیلہ میں پیداہوئے۔ لیک اوکسویگ ہائی سکول امریکہ سے 1969 میں گریجویٹ ہوئے۔ امریکہ یونیورسٹی بیروت سے 1973 میں بیچلرز کیا۔ اور پھر کولمبیا یونیورسٹی امریکہ سے 1977 میں ماسٹرز اور 1983 میں پی ایچ ڈی مکمل کی۔ کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران ہی اپنی بیگم رولا ایف ساداہ جنکا عوامی طور پر شکریہ الیکشن مہم 2014 کے دوران اشرف غنی صاحب نے آبدیدہ ہو کر شکریہ ادا کیا اور افغانی نام بی بی گل سے پکارا، سے ملاقات ہوئی جو کہ ایک امریکی لبنانی عیسائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ آج ٹائم میگزین کے مطابق دنیا کی سوسب سے زیادہ اثرو رسوخ رکھنے والی خواتین کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان کی ایک بیٹی مریم غنی بروکلین امریکہ میں آرٹسٹ ہیں جبکہ بیٹا طارق ایک امریکی لابنگ فرم کے ساتھ وابسطہ ہے۔ اشرف غنی نے بہت سی امریکی جامعات میں تدریس کی جن میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے، اور جان ہاپکنس یونیورسٹی شامل ہیں۔ آپ 1991 میں ورلڈ بنک کے ساتھ منسلک ہوئے اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں جو ایک بار منسلک ہو گیا وہ تاحیات منسلک رہا خواہ وہ دنیا میں کسی بھی اور جگہ گیا اور کسی بھی حکومت کے لیے کام کیا وہ ورلڈبنک کے ساتھ منسلک بہر حال رہا۔ ظاہرا تو عہدہ چھوڑ دیا جاتاہے لیکن خاموش تعلق قائم رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوبیس سال بعد آپ افغانستان واپس لوٹے اور یکم فروری 2002 کو حامد کرزئی کے چیف ایڈوائیزر تعینات کر دیئے گئے۔

وزیر خزانہ بن جانے کے بعد کا کیریئر تمام لوگ ہی جانتے ہیں۔ میں بیان کردہ معلومات کی روشنی میں یہ بات انتہائی وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ مغربی طاقتوں کا ایک معمولی پیادہ ہی ہے۔

اشرف غنی ایک ایسا پتلی بادشاہ ہے جس کے پاس طاقت تو پورے ملک پر حکمرانی کرنے کی ہے لیکن جسے امریکہ بہادر یہ بتانا بھی گوارا نہیں کرتا کہ تمام مخالفین کے ساتھ معاملات کیسے طے کیے جا رہے ہیں۔ اس بات کے ثبوت کے طور پر صرف ایک واقعہ بیان کیے دیتا ہوں تاکہ میرے موقف کی تائید ہو سکے۔

11اکتوبر 2017 کو ایک خبر پاکستانی اخبارات کی زینت بنی کہ افغانستان نے یکطرفہ طور پر Afghanistan-Pakistan Transit Trade Coordination Authority (APTTCA) کی میٹنگ کینسل کر دی ہے۔ اس معاملہ پر پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زاخیلوال نے 16اکتوبر 2017 کو ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ مجھے یہ بات آپ سے معلوم ہو رہی ہے اور میں کوشش کرتا ہوں اور ان مذاکرات کو شروع کروا دیتے ہیں۔ لیکن تاحال یہ نہیں ہو سکی۔ باوجود اس کے کہ یہ افغانستان کے فائدہ میں تھی اور معاملات طے پانے کے نزدیک تھے لیکن اس معاملہ پر پاکستان آج تک افغانستان کا انتظار کر رہا ہے۔ چونکہ امریکہ بہادر کی جانب سے جواب نہیں آیا لہذا پاکستان کو بھی کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ جبکہ دوسری جانب امریکہ پاکستان کے ساتھ افغانستان سے متعلق ہر معاملہ میں نہ صرف گفت و شنید کر رہا ہے بلکہ پاکستان سے اپنے مفادات حاصل بھی کر رہا ہے۔

اب بات کرتے ہیں حال اور مستقبل کے امریکی ارادوں کی اور اس تناظر میں افغانستان کے استعمال کیے جانے کی؟

امریکہ کو افغانستان میں سولہ سال ہو چکے ہیں۔ اس عرصہ میں اس نے ایک کھرب ڈالر سے زیادہ کے اخراجات برداشت کیے ہیں جبکہ سی آئی اے کی منشیات اور اسلحہ کی فروخت کی کمائی اور اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ جبکہ افغانستان کو فتح کرنے کے شوق میں امریکی مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2350 امریکی فوجی اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ 20092 زخمی ہوئے ہیں۔ جبکہ طالبان کی جانب سے مہیا کردہ اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر ہم امریکی مہیا کردہ اعداد و شمار پر ہی اکتفا کر لیں پھر بھی یہ اعداد و شمار کسی طور بھی ایک کامیاب مہم کے نظر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ جیسے تیسے کر کےافغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔ خواہ اس کی بٹھائی ہوئی پتلیاں اپنی بادشاہت قائم رکھیں لیکن اس کا نقصان کم ازکم ہو جائے۔ کیونکہ جس پوست کی فصل کے لیے وہ یہاں آیا تھا اب وہ اس کے اپنے ملک میں بھی بڑے وسیع پیمانہ پر اگائی جاسکتی ہے۔ بہت سے قارئین کو یہ جملہ کافی سخت لگ سکتا ہے لیکن مافیا کا حقیقی مقصد تو یہ ہی تھا۔ یہ ہی وجہ ہے۔ اس پر بہت سا کلام پہلے ہی ہو چکا ہے اور اگر قارئین کو تفصیلات درکار ہوں گی تو راقم الحروف بہم مہیا کر دے گا۔

لیکن دوسری جانب وہ تین کام کر کے جانا چاہتا ہے۔

نمبر ایک کہ ایسے نکلا جائے کہ بدنامی ویتنام کی جنگ کے مقابلے میں انتہائی کم ہو۔ افغانستان میں عسکری سربراہان کی کانفرنس اور حالیہ امریکی نئی عسکری حکمت عملی اسی ہدف کی جانب ایک قدم ہے۔ پاکستان اس معاملہ میں ایک انتہائی اہم شراکت دار ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایران، ترکی اور دیگر دوستوں سے مشاورت کے بعد 'باہمی و مسلسل طریقہ' کا نظریہ پیش کیا۔ گو کہ اہم فیصلہ جات افغانستان کی بجائے امریکہ کے وائٹ ہائوس اور پینٹاگون میں ہوتے ہیں لہذا کانفرنس کسی اعلامیہ کے بغیر ہی اختتام پذیر ہو گئی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ امریکہ کو جنرل باجوہ کی تجویز بالکل پسند نہیں آئے گی کیونکہ انہوں نے پورے خطہ کے امن کی بات کی ہے جبکہ امریکی اہداف اس کے بالکل برعکس ہیں۔

دوسرا یہ کہ جنگجو جیت کی خوشی میں امریکہ پر ہی نہ چڑھ دوڑیں بلکہ آپس میں اس حد تک الجھے رہیں کہ امریکہ کے مفادات بھی حاصل ہوتے رہیں اور اسکا نقصان بھی نہ ہو۔ صرف اس مقصد کی خاطر افغانستان کو تین لڑاکا گروہوں کے درمیان چھوڑا جانا طے کیا گیا ہے۔ داعش، طالبان، اور حکومتی افواج۔ حکومتی افواج کی امریکہ ظاہری طور پر خود سربراہی کرے گا اور لڑنے مرنے کے لیے افغان عوام کو چارے کے طور پر استعمال کرے گا۔ جبکہ داعش کی پس پردہ رہ کر حمایت کی جائے گی اور ظاہر یہ ہی کیا جائے گا کہ اس کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ جیسا کہ امریکہ پہلے بھی ایسا کرتا آیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کو شجر ممنوعہ قرار دے دیا ہے۔ باوجود اس کے کہ فلسفی بادشاہ نے اپنی پہلی تقریر میں اپنے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ انکا مقصد تمام مسلح گروہوں کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ اس وقت وہ چورن بک رہا تھا تو استعمال کیے گیے الفاظ کا مطمع نظر بھی کچھ اور تھا جبکہ آج چونکہ پالیسی میں واضح تبدیلی موجود ہے لہذا آج گفتگو کا مبداء ان مقاصد سے بالکل مختلف ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ دو گروہوں کے تصادم کی صورت میں بھی امریکہ کے مقاصد مکمل طور پر حاصل نہیں ہوں گے کیونکہ امریکہ یہ کھیل پہلے ہی شمالی اتحاد اور طالبان کی لڑائی کی صورت میں افغانستان میں کھیل چکا ہے اور اس کھیل کے تمام پہلو آج سب جانتے ہیں لہذا اسے کھیلا جانا انتہائی دشوار ہے۔ اس وجہ سے کھیل کے مہرے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مقاصد بھرپور انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔ جو لوگ افغانستان کو جانتے ہیں وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ یہاں بڑے مسلح گروہوں کو ہمیشہ سے چھوٹے مسلح گروہوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے تاکہ علاقہ پر کنٹرول برقرار رکھنے میں آسانی ہو۔ داعش کا افغانستان میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور سی آئی اے کی امداد دونوں اسی نئی صف بندی کی جانب دلالت کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں طالبان کے پاس بہت جلد اسلحہ کی کمی ہو جائے گی کیونکہ اسے اسلحہ دو مخالفین کے درمیان استعمال کرنا ہو گا اور اسلحہ کا سب سے بڑا بیوپاری تو خود امریکہ ہی ہے۔ لہذا اس صورت میں سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ہی ہو گا۔

تیسرا اور سب سے اہم کام خطہ پر اپنا تسلط قائم رکھنا ہے۔ اس ضمن میں ہی حالیہ چند دنوں میں اشرف غنی کو پشتون قومیت کی یاد نے آلیا ہے۔ پاکستان اور ایران کے پشتونوں کو قومیت کی آگ کا لبادہ اوڑھا کر یہ بھیڑیے چاہتے ہیں کہ وہ ہی کھیل دوبارہ کھیلا جائے جو طاغوت نے خلافت عثمانیہ، عرب ریاستوں اور دیگرمیں کھیلا گیا تھا اور اتنے ٹکڑے کیے گئے کہ آج پورا خطہ ہی آپسی انارکی کا شکار ہے۔ اس صورت کی ہی ایک کڑی اشرف غنی کے حالیہ بیان ہیں۔ پاکستان کے پشتون بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سب بیان بازی کے پیچھے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ لاپتہ افراد کے مطالبہ سے دست بردار ہو کر انہوں نے اپنے اسلام آباد دھرنے کو مختصر کر کے ایک واضع پیغام اشرف غنی کے لیے بھیج دیا ہے جبکہ دوسری جانب ایران میں موجود پشتون بھی اس بڑھتے ہوئے پشتون ازم سے بالکل واقف ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ ناکام رہیں گے اور نہ تو پاکستان اور نہ ہی ایران میں دہائیوں سے موجود پشتون بھائی ان بھیڑیوں کے منہ کا تر نوالہ بنیں گے لیکن اس تمام صورتحال میں نقصان بے چارے افغانستان کا ہو گا۔ امریکہ اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ امریکہ اس خطہ میں اپنے ایجنٹ تو پیدا کر ہی رہا ہے لیکن وہ یہ بھی جان گیا ہے کہ پشتو بولنے والے کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کے درد میں شریک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ بس اسی بات کا وہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اب تک تو افغانستان امریکہ بہادر کے اشارے پر ناچتا ہی آیا ہے لیکن ان الفاظ کو ببانگ دھل ہر خاص و عام کے گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہی ہے کہ اپنی طاقت اور کمزوری کو پہچانیں اور اپنے دوست اور دشمن کو بھی۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری