یمن کیخلاف سعودی جارحیت کی مذمت پر نبیل رجب کو 5سال قید کی سزا آزادی اظہار کو کچلنے کی بدترین مثال

بحرین انسٹی ٹیوٹ آف رائٹس اینڈ ڈیموکریسی کے رہنماسید احمد الوداعی نے انسانی حقوق کے ممتاز بحرینی رہنما نبیل رجب کو عدالت کی جانب سے یمن کیخلاف سعودی بربریت کی مذمت کی پاداش میں سنائی جانے والی سزا کی شدید مذمت کی ہے۔

یمن کیخلاف سعودی جارحیت کی مذمت پر نبیل رجب کو 5سال قید کی سزا آزادی اظہار کو کچلنے کی بدترین مثال

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق بحرین انسٹی ٹیوٹ آف رائٹس اینڈ ڈیموکریسی کے رہنما سید احمد ا لوداعی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکمرانوں کے سیاسی انتقام کے تحت عائد کردہ ان الزامات پر نبیل رجب کے خلاف عدالتی فیصلہ ایک بد ترین مثال ہے کہ کس طرح بحرین کی عدالتیں حکمرانوں کے خلاف تنقید کرنے اور بحرینی شہریوں آزادی اظہار کو کچل کر رہے ہیں۔

منگل کو امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان ہتر نووٹ نے نبیل رجب کو بحرین میں انسانی حقوق کے ایک اہم کارکن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت مسلسل اس مقدمہ کے بارے میں بحرینی حکومت کو اپنے سنگین خدشات کا اظہار کرتی ہے۔

واضح رہے کہ آل خلیفہ کی قائم کردہ عدالت نے بحرین کے انسانی حقوق کے ممتاز رہنما نبیل رجب کو یمن پر جارحیت کی مذمت پر مبنی ٹویٹ کرنے کی پاداش میں5 سالہ قید کی سزا سنادی ہے۔

نبیل رجب نے یمن میں سعودی قیادت کی جانب سے جارحیت ، اور بحرینی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی اپنے ٹویٹ پر مذمت کرنے کا الزام تھا۔

نبیل رجب بحرین سینٹر برائے انسانی حقوق(بی ایچ سی آر آر) کے بانی صدر ہیں ۔ بحرینی پولیس نے انہیں 2016 کے موسم گرما میں گرفتار کیا گیا تھا اور پہلے ہی انہیں ایک ٹی وی انٹرویو کو بنیاد بناتے ہوئے انہیں 2 سالہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران نبیل رجب نے کہا تھا کہ حکومت صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں پربحرین میں داخل ہونے پر پابندی لگا رکھی ہے تاکہ ان کی انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کے بارے میں دنیا حقائق نہ جان سکے۔

بدھ کو عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں کی جانب سے نبیل رجب کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے مطالبے کے فورا بعد سنائی گئی ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین اسلامی بیداری خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری