حکومت پاکستان میری ٹائم کے شعبے کی ترقی میں سنجیدہ نہیں، ناصر خان جنجوجہ

مشیر برائے قومی سلامتی امور لیفٹننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوجہ نے کہا ہے اقتصادی ترقی میں بحرہند کی جغرافیائی حیثیت تجارت اور تجارتی نظام کے لیے مربوط پلٹ فارم کی مانند ہے۔

حکومت پاکستان میری ٹائم کے شعبے کی ترقی میں سنجیدہ نہیں، ناصر خان جنجوجہ

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مقامی یونیورسٹی میں بعنوان "بحری اقتصادیات اور بحر ہند میں جغرافیائی سیاست، پاکستان کے لیے مشکلات" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے ناصر خان جنجوعہ نے واضح کیا کہ قدرتی و انسانی وسائل، تجارتی منڈی کے اعتبار سے ایشیا دنیا کا سب سے بڑا خطہ ہے جہاں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں اور یہ خطہ بیشتر ممالک کے مابین رابطے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو دنیا سے منسلک کرنے کے لیے بحرہند ایک بڑی آبی گزرگاہ ہے۔

ناصر خان جنجوجہ نے کہا کہ ایشیائی مارکیٹ تعاون کے فروغ سے زیادہ مسابقت کے خدو خال میں ڈھل چکی ہے تاہم بحرہند اور طاقت ور سیاست کی بدولت اب کوئی چیز پوشیدہ یا تنہا نہیں لیکن افسوس ہے کہ پاکستان بحری وسائل سے فائدہ اٹھانے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سمجھنا چاہیے کہ بحرہند ایک تجارتی راہداری کی حیثیث اختیار کر چکا ہے اور پاکستان کو اپنی اقتصادی صلاحیت بڑھانے کے لیے ایران، افغانستان، وسطیٰ ایشیائی ممالک سمیت روس اور چین کے ساتھ بہتر روابط استوار کرنے ہوں گے۔

سیمینار انسٹیٹوٹ آف اسٹراٹیجک اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) میں بحریہ یونیورسٹی کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔

آئی ایس ایس آئی کے چیئرمین ایمبیسڈر خالد محمود نے میری ٹائم سے متعلق کہا کہ گوارد پورٹ کی اہمیت اگلے چند برسوں میں سب پر عیاں ہو جائے گی، گوادر پورٹ اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور اس میں بحری معیشت کو درپیش چینلجز کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ بحرہند پاکستان اور دیگر ممالک کے مابین تجارتی فروغ میں مرکزیت کا حامل ہے اور پاکستان ضرور بھرپور انداز میں اس کا فائدہ اٹھائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں ایشیائی خطے میں ایک مثالی ریاست کے طور پر ابھرنا ہے تو اپنے بحری شعبوں کو جدید خطوط پر ترقی دینی ہو گی۔

اس موقع پر مقررین نے اس امر اظہار کیا کہ بحرہند میں سیکیورٹی کے تمام امور مغربی ملک (امریکا) کے پاس ہیں جس کے باعث بحرہند سے منسلک ممالک خود کو کمزور محسوس کرتے ہیں اور کثیر فریقی سیکیورٹی کے بجائے دوطرفہ سیکیورٹی انتظامات کے لیے زور دیا جاتا ہے۔

مقررین نے زور دیا کہ پالیسی سازوں کو بحری معیشت کے فروغ کے لیے مربوط حکمت عملی مرتب کرنی ہوگی جبکہ اس کے لیے پاک چین مشترکہ سائنٹیفک گروپ تشکیل دیا جائے جو بحری معیشت پر مفصل رپورٹ شائع کرے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری