ملک دشمنی اور پاکستان میں بھارت و امریکا کا ایجنڈا سیٹ کرنے کے الزامات؛ جنگ جیو گروپ اور عمران خان آمنے سامنے

ایڈیٹر انچیف و چیئرمین جنگ گروپ نے عمران خان کی جانب سے اس ادارے پر بیرون ممالک سے مالی مفادات حاصل کرنے، ملک دشمنی اور پاکستان میں بھارت و امریکا کا ایجنڈا سیٹ کرنے کے الزامات کیخلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔

ملک دشمنی اور پاکستان میں بھارت و امریکا کا ایجنڈا سیٹ کرنے کے الزامات؛ جنگ جیو گروپ اور عمران خان آمنے سامنے

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد سکندر خان نے جنگ جیو گروپ کے خلاف جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزامات لگانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 9 مارچ کو طلب کر لیا، انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، انڈیپنڈنٹ نیوز پیپرز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ، نیوز پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایڈیٹر انچیف و چیئرمین جنگ گروپ میر شکیل الرحمن نے  بغیر ثبوت الزامات لگانے پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق فاضل جج کے روبرو سماعت کے موقع پر درخواست گزاروں کی جانب سے عامر عبداللہ عباسی ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2014ءسے جنگ جیو گروپ اور اس کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمن پر بلا ثبوت الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، اس حوالے سے انہوں نے لیگل نوٹس کا جواب بھی نہیں دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہتک عزت کا عام کیس نہیں بلکہ عزت کے قتل عام کا مقدمہ ہے لہٰذا عمران خان کو بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر غیر مشروط معافی مانگنے ، اس کی تشہیر کے انتظامات کرنے اور ایک ارب روپے ہرجانہ کی ادائیگی کرنے کا حکم جاری کیا جائے۔ عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد مذکورہ احکامات جاری کرتے ہوئے سماعت 9 مارچ تک ملتوی کر دی۔

اخبار کاکہنا ہے کہ انڈیپنڈنٹ میڈیا کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، انڈیپنڈنٹ نیوز پیپرز کارپوریشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ ، نیوز پبلی کیشنز (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور ایڈیٹر انچیف و جنگ گروپ میر شکیل الرحمن نے سینئر وکیل عامر عبداللہ عباسی کے ذریعے دائر دعویٰ میں عمران خان کو بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کرنے پر غیر مشروط معافی مانگنے ، اس کی تشہیر کے انتظامات کرنے اور ایک ارب روپے ہرجانہ کی ادائیگی کرنے کا حکم جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جنگ گروپ کو بدنام کرنے کے لئے 2014 سے الزامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ، ادارہ جنگ نے غیر جانبدار معزز شہریوں پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے الزامات کی جانچ کے لئے خود کو پیش کیا مگر عمران خان نے اس پیشکش کو تسلیم کرنے کی بجائے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا اور مختلف اوقات اور مواقع پر جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف کو بلیک میلر، فرعون اور میڈیا گاڈ فادر قرار دیا۔ نوازشریف اور حکومت سے رقم اور اشتہارات لینے کے بھی الزامات لگائے، ان الزامات کا مقصد عوام کی نظر میں گروپ میر شکیل الرحمن اور ادارے سے منسلک صحافیوں کو متنازع، جانبدار بتانا ہے، عمران خان یہ الزامات 2014ءسو سو بار دہرا چکے ہیں۔

عمران خان نے جنگ جیو گروپ پر الیکشن 2013ءمیں دھاندلی میں ملوث ہونے، پاکستان سری لنکا کرکٹ سیریز کے رائٹس ملی بھگت سے حاصل کرنے، بیرون ممالک سے مالی مفادات حاصل کرنے، ملک دشمنی اور پاکستان میں بھارت و امریکا کا ایجنڈا سیٹ کرنے کے الزامات عائد کئے۔ عمران خان نے بھارت اور امریکا کے ساتھ گٹھ جوڑ اورفارن فنڈنگ کے ذریعے غیر ملکی بیانیے کو سپورٹ کرنے کے الزامات عائد کر کے حب الوطنی کے حوالے سے عوام کے دلو ں میں شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔ عمران خان نے اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لئے جنگ جیو گروپ پر حکومت سے مالی فوائد حاصل کرنے کا بھی الزام لگایا جبکہ یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ پاناما پیپرز اسکینڈل کو سب سے پہلے جنگ جیو گروپ نے عوام تک پہنچایا جسکے نتیجے میں منتخب وزیر اعظم کو اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑا۔ جنگ جیو گروپ قانون کے مطابق تمام مالی حسابات اور اثاثہ جات کا ریکارڈ رکھتا ہے۔

درخواست گزار کاکہناتھاکہ اس حوالے سے انہوں نے لیگل نوٹس کا بھی جواب نہیں دیا۔ عمران خان کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی وجہ سے نہ صرف عوام الناس کی نظر میں ادارہ جنگ کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ اسے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ ذہنی کوفت اور پریشانی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ جنگ گروپ نے معزز شہریوں پر مشتمل کمیٹی کے زریعے ان الزامات کی جانچ پڑتال کیلئے خود کو پیش کیا مگر عمران خان نے یہ پیشکش قبول کرنے کی بجائے الزامات کا سلسلہ جاری رکھا اور حب وطنی کے حوالے سے عوام میں گروپ کے بارے میں شکوک و شہبات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ 

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری