نائب امام کعبہ کا دورہ پاکستان ، پس پردہ مقاصد اور حقائق ۔۔۔

نائب امام کعبہ ڈاکٹر الشیخ صالح بن محمد آل طالب کے حالیہ دورہ پاکستان کو تجزیہ کاروں کے درمیان ایک خاص نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ اگر چہ امام کعبہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آئے ہیں لیکن مبصرین کے مطابق امام کعبہ کے دورہ پاکستان کے پیچھے کئی اہم مقاصد بھی پوشیدہ ہیں۔

نائب امام کعبہ کا دورہ پاکستان ، پس پردہ مقاصد اور حقائق ۔۔۔

خبررساں ادارہ تسنیم: نائب امام کعبہ کے پاکستان دورے کا تفصیلی جائزہ ملاحظہ ہو؛

اہل حدیث دھڑوں میں تاریخی تقسیم اور انضمام

پاکستان میں اہلحدیث متعدد دھڑوں میں تقسیم ہیں، تاہم نائب امام کعبہ کی آمد کے موقع پر 2 دھڑوں نے انضمام کر لیا ہے۔ احسان الٰہی ظہیر کے صاحبزادے ابتسام الٰہی ظہیر نے اپنی جماعت ختم کرکے علامہ ساجد میر کی قیادت پر غیر مشروط اعتماد کا اظہار ہے۔ جماعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نائب امام کعبہ کی خصوصی آمد اہلحدیث جماعتوں کے دھڑے بندی ختم کرنے کا باعث بنی ہے۔ اہلحدیث مکتب فکر پہلے تین بڑے گروہ میں تقسیم تھا جبکہ متعدد چھوٹے چھوٹے گروہ بھی موجود ہیں۔ ڈاکٹر اسرار احمد نے تحریک اسلامی پاکستان کے نام سے الگ پلیٹ فارم بنا رکھا تھا، ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے تحریک کی ذمہ داری سنبھالی۔ مولانا عبدالغفار روپڑی چوک دالگراں والوں نے اپنا الگ گروپ بنا رکھا ہے، ابتسام الٰہی ظہیر کا الگ گروپ تھا جبکہ علامہ ساجد میر مرکزی جمیعت اہلحدیث پاکستان کے نام سے جماعت چلا رہے تھے۔ اب ابتسام الٰہی ظہیر نے نائب امام کعبہ کی "خصوصی آمد" پر اپنی جماعت ختم کرکے علامہ ساجد میر کی مرکزی جمعیت اہلحدیث جوائن کر لی ہے۔ اب ابتسام الٰہی ظہیر علامہ ساجد میر کی قیادت میں کام کریں گے۔ پاکستان کے مذہبی و سیاسی رہنما پہلے بھی نائب امام کعبہ کے دورہ پاکستان کو تنقید کا نشانہ بناتے آئے ہیں کیونکہ وہ صرف ایک خاص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور بعد ازاں انہی کے ذریعے اپنے مذہبی و سیاسی ایجنڈے کو فروغ دیتے ہیں۔

شہباز شریف کو ہاں، نواز شریف کو ناں

نائب امام کعبہ ڈاکٹر الشیخ صالح بن محمد آل طالب نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کی۔ نائب امام کعبہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب اسٹریٹجک پارٹنر ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، ہم پاکستانی حکومت، عوام اورپاک افواج کے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب یکجان دو قالب ہیں، دونوں ملکوں کے تعلقات تاریخی اور مذہبی لڑیوں میں پروئے ہوئے ہیں، آپ کے دورے سے ان تعلقات میں مزید اضافہ ہوگا۔ شہبازشریف نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر اچھے برے وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب نائب امام کعبہ نے سیاسی شخصیات کے عنوان کے بہانے سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف سے ملنے سے انکار کردیا نائب امام کعبہ نے نواز شریف کی جانب سے ناشتے کی دعوت قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے نائب امام کعبہ ڈاکٹر صالح بن محمد آل طالب کو ناشتے پر رائیونڈ جاتی امرا مدعو کیا تھا۔ جس پر نائب امام کعبہ نے معذرت کر لی تو نواز شریف نے دوسرا آپشن دیتے ہوئے ہوٹل آ کر ملاقات کرنے کا کہا، جس پر نائب امام کعبہ نے پھر بھی معذرت کرلی۔ نائب امام کعبہ نے کہا کہ وہ سیاسی شخصیات سے نہیں ملنا چاہتے، ان کا یہ دورہ پاکستان مکمل طور پر مذہبی بنیادوں پر ہے جبکہ اس سے قبل نائب امام کعبہ نے نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف سے ملاقات کی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نائب امام کعبہ کے اس اقدام سے سعودی حکمرانوں کی نظر میں سابق نااہل وزیر اعظم میاں نواز شریف کی حیثیت واضح ہوگئی ہے اور اس اقدام سے مستقبل کے سیاسی منظر نامے کو بھی سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

نائب امام کعبہ کے مذہبی دورے پر سیاسی رنگ غالب، طاہر اشرفی کی ایران پر تنقید

نائب امام کعبہ کے دورہ لاہور کے حوالے سے کہا جا رہا تھا کہ یہ دورہ مکمل طور پر مذہبی ہے جبکہ اس دورے کے دوران نائب امام کعبہ سیاسی امور پر بھی بیان دیتے نظر آئے۔ نائب امام کعبہ نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مسلمانوں کیخلاف غلط پروپیگنڈا جاری ہے، پاکستان ہمارا دوست اور قریبی ملک ہے۔ نائب امام کعبہ نے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی دہشتگردی کیخلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کون ہمارا دوست اور کون دشمن ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نائب امام کعبہ اور سعودی سفیر کی خوشنودی کے حصول کیلئے تمام حدیں پار کر گئے۔ انہوں نے جہاں نائب امام کعبہ کو اپنی جماعت "پاکستان علماء کونسل" کی اعزازی رکنیت دی وہیں نائب امام کعبہ کے اعزاز میں دیئے گئے عصرانے میں انہوں نے ایران پر بھی خوب تنقید کرکے نائب امام کعبہ کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی۔ عصرانے سے خطاب میں طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ ایران سمیت حوثیوں کی مدد کرنے والی تنظیموں اور ممالک کو باز آنا چاہیے، ان کی ارض الحرمین الشریفین سعودی عرب کے امن سے کھیلنے کی کوششیں اُمت مسلمہ ناکام بنائے گی۔ طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ کل بھی سعودی عرب کیساتھ تھے آج بھی ساتھ ہیں۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر استاد نواف سعید المالکی نے طاہر اشرفی کی جانب سے ایران پر تنقید کو بھی خاموشی سے سنا تاہم اس حوالے سے انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ مبصرین نے طاہر اشرفی کے خطاب کو "شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری" قرار دیا۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ سعودی ڈالروں کیلئے طاہر اشرفی نے اخلاقیات کی حدیں پار کر دیں اور ایران پر بے جا تنقید کی جبکہ طاہر اشرفی نے یہ نہیں بتایا کہ یمن میں نہتے عوام، سکولوں، ہسپتالوں اور مساجد پر سعودی عرب کیوں بمباری کر رہا ہے۔

چور مچائے شور اور حقائق سے روگردانی

نائب امام کعبہ شیخ صالح بن محمد آل طالب نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب سے متعلق غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ تین روزہ دورے پر پاکستان میں موجود نائب امام کعبہ شیخ صالح بن محمد آل طالب نے اہل حدیث مرکز مریدکے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کسی بھی ملک کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے لیکن امن و استحکام کے قیام میں میڈیا اب پہلا ستون بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب سے متعلق غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔دونوں ممالک دہشتگردی کا ہدف ہیں نہ کہ دہشتگردی پھیلانے والے ممالک میں شامل ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام فتنوں اور مشکلات کا مل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔پاکستان دوست اور قریبی ملک ہے،کون سعودی عرب کا دوست ہے اور کون دشمن بخوبی جانتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نائب امام کعبہ نے سعودی عرب کی جانب سے یمن جنگ میں لاکھوں انسانوں کو قتل کرنے اور دنیا بھر میں اسلامی شدت پسندی یعنی تکفیری طرز تفکر کو فروغ دینے کے بعد عالمی سطح پر تنقید سے بچنے کیلئے چور مچائے شور کی پالیسی اپنانا شروع کردی ہے اور سعودی عرب جو دنیا بھر میں دہشت گردی کے پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اس کو اب دہشت گردوں کا ہدف قرار دینا شروع کردیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل کی بجائے شیطان ذمہ دار قرار

نائب امام کعبہ نے عراق، شام، کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جانے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسلام دشمنوں کیساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تاکید کی اور اپنے خطاب میں سعودی عرب کے اتحادی امریکا اور اسرائیل کا نام لینے کے بجائے مسلمانوں میں انتشار، فتنہ اور باہمی عداوت کا ذمہ دار شیطان کو ٹہرادیا۔ واضح رہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت اور عالم اسلام کی رہبری کا دعویٰ کرنے والے آل سعودی کی شاہی حکومت جہاں ایک طرف عراق، شام، کشمیر اور فلسطین میں مظلوم مسلمانوں کیساتھ زبانی اظہار یکجہتی کرتی ہے تو دوسری طرف اسلام دشمن ممالک اور مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والے ممالک بالخصوص امریکا اور اسرائیل کیساتھ نزدیک روابط جاری رکھتے ہوئے مسلمانوں کے مسائل پر خاموش تماشائی بنی بیٹھتی ہے۔عالم اسلام کا بچہ بچہ آل سعود کی پیٹرو ڈالر کی طاقت سے باخبر ہے لیکن سعودی حکام نے تاحال مظلوم مسلمانوں کی خاطر امریکا و اسرائیل کیخلاف ایک حرف تک نہیں بولا ہے بلکہ عالمی فورمز پر اگر دیکھا جائے تو سعودی عرب ہمیشہ سے امریکا کی حمایت میں رائے دیتا ہے۔

نتیجہ کلام

نائب امام کعبہ کے دورہ پاکستان کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ دورہ ماضی کی طرح مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کیلئے تھا، نائب امام کعبہ نے پاکستان میں عام انتخابات سے قبل اہل حدیث جماعتوں کے درمیان اتحاد کی فضا ایجاد کرکے عام انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ نائب امام کعبہ نے سابق وزیر اعظم کو ناں کہہ کر یمن جنگ میں بر وقت ساتھ نہ دینے پر سعودی ناراضگی کا ایک بار پھر اظہار کردیا ہے۔ نائب امام کعبہ نے حالیہ دورے میں دعووں کے برعکس سیاسی ایجنڈے کو توسیع دینے کی کوشش کی ہے اور ان کی موجودگی میں برادر اسلامی ملک ایران پر تنقید نے ان کے دعووں کو کھوکلا ثابت کردیا ہے۔ نائب امام کعبہ نے سعودی عرب کے حوالے سے عالمی رائے عامہ میں دن بدن اضافہ ہونے والے منفی پروپیگنڈے کو بھی زائل کرنے کی کوشش کی ہے اور سعودی عرب کو دہشت گردی کا شکار ملک قرار دے کر پاکستان کے عوام سمیت عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے اور ہمیشہ کی طرح سعودی عرب نے مسلمانوں کے ساتھ زبانی جمع خرچ کرکے داد وصول کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور عالم اسلام کے دشمن امریکا اور اسرائیل کی خوشنودی کی خاطر ان دونوں ممالک کے مظالم کو ابلیس کے خاطے میں ڈال دیا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری