شہرہ آفاق سائنسدان اور ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ کی موت ایک بڑا عالمی المیہ

شہرہ آفاق سائنسدان اور ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ کی موت ایک بڑا عالمی المیہ ہے،آپ نہ صرف اپنی سائنسی خدمات بلکہ اپنے سیاسی نظریات اور مختلف قسم کی سیاسی تحریکوں میں دلچسپی اور معاونت کی وجہ سے بھی کافی دیر تک یادرکھےجائیں گے۔

شہرہ آفاق سائنسدان اور ماہر طبیعیات اسٹیفن ہاکنگ کی موت ایک بڑا عالمی المیہ

خبررساں ادارہ تسنیم: آپ نے ہمیشہ اپنے سیاسی نظریات کا کھل کر اظہار کیا حالانکہ وہ وقت کی عالمی طاقتوں کے بیانیے سے یکسر میل نہیں کھاتے تھے، آپ عالمی پائے کے سائنسدان ہونے کے باوجود سیاسی طور پر ایک متحرک باغی کے طور پر آخر دم تک ڈٹے رہے، آپ نے1960ء کی دہائی کے اوآخر میں ویتنام کے خلاف امریکی جارحیت کے خلاف عوامی احتجاجوں میں شرکت کی اور ہمیشہ عالمی استعماری طاقتوں کی جانب سے مسلط کردہ جنگوں کی مخالفت کی، آپ اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں کی مصنوعات کیخلاف بائیکاٹ کی عالمی مہم کے پر زور حامی تھے، 2013 ء میں آپ نے کھل کر اسرائیل کے خلاف عالمی دانشوروں کے بائیکاٹ کی حمایت کی اسی سال آپ نے تل ابیب میں ’یروشلم میں اسرائیل کے مستقبل‘ پر ہونے والی عالمی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا جو اسرائیلی صدر شمعون پیریز کی صدارت میں منعقد ہونا تھی، کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے ہاکنگ نے کہا کہ انہوں نے یہ اقدام فلسطینی دانشوروں کی رائے کے احترام میں اٹھایا، آپ کے بائیکاٹ سے صہیونی حکومت کو کافی خفت اٹھانا پڑی یہاں تک کہ اسرائیلی وزارت خارجہ کو اعتراف کرنا پڑا کہ ’’اس سے پہلے کبھی بھی اس درجے کے سائنسدان نے اسرائیل کا بائیکاٹ نہیں کیا‘‘۔ اسرائیل کے حامی یہودیوں کی جانب سے ان کے اس اقدام کی سخت مذمت کی گئی تھی، اسرائیل کے مؤقر انگریزی روزنامے ہرٹز کے مطابق کئی اسرائیلیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ان پر رکیک حملے کئے، کچھ نے ان کو یہودی مخالف قرار دیا جبکہ کئی نے ان کی جسمانی ساخت کا مذاق اڑایا۔ 

آپ نے ہمیشہ فلسطینیوں کی جدوجہد کو جائز قرار دیتے ہوئے آخر دم تک اس کی حمایت کی، 2009ء میں اسرائیل نے غزہ پر ہولناک بمباری کی جس سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی، ہزاروں عمارتیں بشمول اسپتال، اسکول، دکانیں اور مکانات تباہ ہو گئے، ایک ہزار سے زائد افراد جان بحق ہونے کے علاوہ ہزاروں افراد زخمی اور معذور ہوگئے، اس وقت جب اسرائیل کے ایماء پر امریکہ اور اس کے یورپی حلیف 9/11سے پیدا شدہ حالات کی آڑ میں حماس کو دہشت گرد قرار دے چکے تھے، اس ماحول میں بھی ہاکنگ نے حماس کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے کہا’’حماس فلسطینیوں کی طرف سے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے لوگ ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ آپ نے کھلے الفاظ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور اس کو غیر مناسب اقدام قرار دیتے ہوئے اس صورتحال کو 1990ء سے پہلے کے جنوبی افریقہ کے حالات سے تشبیہ دی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسی صورتحال کو زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھا جاسکتا. الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے آپ نے حماس کی مزاحمت کو فطری قرار دے کر اس کی حمایت کی۔ ’’کوئی بھی مقبوضہ آبادی ہر ممکن طریقے سے مزاحمت جاری رکھے گی، اگر اسرائیل امن چاہتا ہے تو اسے حماس کے ساتھ بات چیت کرنا ہوگی جیسے برطانیہ کو آئرش ریپبلکن آرمی کے ساتھ بات چیت کرنا پڑی۔‘‘2003ء میں آپ نے عراق کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جنگی جارحیت پر کھل کر احتجاج کیا 2008میں امریکی جنگ کے خلاف ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتےہوئے آپ نے کہا کہ یہ جنگ دو بڑے جھوٹے بیانات کی بنیاد پر لڑی گئی، ایک یہ کہ عراق کے پاس وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں اور دوم یہ کہ 9/11کے حملہ آور اور صدام حسین آپس میں جڑے ہوئے تھے2014میں آپ نے شام کی خانہ جنگی اور اس سے ہونے والی وسیع تباہی کی تیسری سالگرہ کے موقعے پر شامی بچوں کیلئے چندہ جمع کرنے کی ایک مہم سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ شام میں ہونے والی بے پناہ قتل و غارتگری کو دنیا دور سے اور بڑی بےرخی سے دیکھ رہی ہے، آپ ہمیشہ فلسطینیوں کے حقوق کی خاطر مقدور بھر کوششیں کرتے رہے اور اس ضمن میں اپنے فیس بک پیج کا جا بجا استعمال کیا۔ گزشتہ سال آپ نے فلسطینی سائنسدانوں کی امداد کیلئے فیس بک پر اپنے لاکھوں مداحوں کو آمادہ کرنے کیلئے ایک پیغام جاری کیا تاکہ فلسطینیوں کیلئے دوسرا ایڈوانس فز کس اسکول قائم کیا جاسکے، ان کی موت سے فلسطینی بلا شبہ ایک عظیم اتحادی سے محروم ہو گئے ہیں۔                                 

قابل غور؟؟؟

ہاکنگ کی وفات پر اسرائیلی روزنامے ہرٹز نے ان کی زندگی پر شائع ایک رپورٹ میں ان کے اسرائیل کے ساتھ معاندانہ تعلقات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، ساتھ ہی یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی ماہر طبیعیات جیکب بکنسٹائن سے ہاکنگ نے ’’بلیک ہولز کے بارے میں ایک یا دو چیزیں سیکھیں‘‘، اس کے علاوہ اخبار نے یہ دعوی بھی کیا کہ جس کمپیوٹر سسٹم کے ذریعے ہاکنگ پوری دنیا سے رابطے میں رہتے تھے اس کا چپ بھی ایک اسرائیلی ٹیم نے ڈیزائن کیا تھا۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری