پانچ تصویروں اور ایک خبر کا نوحہ۔۔۔۔۔۔!

آزادی ان لوگوں کے لیے ایک لفظ سے زیادہ کچھ نہیں جن کو یہ وراثت میں ملی ہے لیکن اگر آزادی کی قیمت پوچھنی ہے تو اس ماں سے پوچھو جس نے اپنے سات میں سے چھ بیٹے وطن کی مٹی پر قربان کر دیے اور ساتویں کو بنا سنوار کر دشمن کے سامنے یہ حکم دیتے ہوئے بھیجتی ہے کہ "جا بیٹا! وطن کی مٹی پراپنے لہو سے انسانی تاریخ کا سب سے متبرک لفظ 'آزادی' لکھ دے"۔

پانچ تصویروں اور ایک خبر کا نوحہ۔۔۔۔۔۔!

خبر رساں ادارہ تسنیم: اس میں کوئی دو رائے ہی نہیں کہ آزادی ہر محکوم و مجبور کی منزل ہے۔ لیکن آج میں آزادی کی اہمیت پرزمین و آسمان کے قلابے ملانے کے بجائے کچھ غیر اہم سطحی باتیں کرنا چاہوں گا۔ غیر اہم اس وجہ سے کہ ان باتوں کا پیش منظر آپ سب جانتے ہیں لیکن ایک نادیدہ قوت آپ کو اس پر لب کشائی سے روکے رکھتی ہے۔ چونکہ آپ نے اس تحریر کو پڑھنے کے بعد خود کو یہ احساس دلانا شروع کر دینا ہے کہ ہم کتنے بے بس ہیں اور اختیارات ہم سے کتنے دور ہیں لہذا یہ تحریر شاید تاریخ کی غیراہم ترین تحریر ہے لیکن نمرود کی آگ کو بجھانے کی کوشش کرنے والی ہدہد کی مانند راقم بھی اپنا انسانی فریضہ ادا کرنا چاہتا ہے۔ 

لیکن آپ پہلے تصاویر دیکھ لیں:

یہ ایک تصویر ہے جس میں ایک فلسطینی بچہ ایک ہاتھ میں دودھ کا فیڈر اور ایک ہاتھ میں پتھر لیے مستعد کھڑا ہے! 

فلسطینی بچہ اسرائیلی فوجی کے سامنے تن تنہا کھڑا ہے۔ اس کے ہاتھ سے کچھ اوپر اس کا پھینکا ہوا پتھر دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ اسرائیلی فوجی کی بندوق کا نشانہ بھی بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ 

یہ نیچے تصویر فادی ابوالصلاح کی ہے جو کہ اسرائیلی فوجی بمباری کے نتیجہ میں اپنی دونوں ٹانگیں کھو بیٹھا تھا۔ غزہ کی آخری سرحد پر اسرائیلی ناجائز فوجی قبضہ کے خلاف مصلح مزاحمت کرتے ہوئے۔ 

یہ فادی ابوالصلاح کی کفن میں لپٹی لاش ہے۔ اسرائیلی فوج پر سنگ باری کرنے کے جرم میں اسے ابدی نیند سلا دیا گیا۔ شہادت کا درجہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اللہ اس کی قربانی قبول کرے۔ 

ایک فلسطینی بہن اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی بمباری کے جواب میں پتھر پھینک رہی ہے۔ 

یہ تھیں پانچ تصاویر اور خبر یہ ہے کہ جس وقت راقم یہ تحریر لکھ رہا ہے اب تک اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے صرف اس واقعہ میں 62 فلسطینی شہید جبکہ 2700 سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ فلسطینی احتجاج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر تل ابیب سے امریکی سفارتخانہ گزشتہ دنوں بیت المقدس منتقل کردینے کے بعد شروع ہوئے ہیں۔

یہاں سوال یہ ہے کہ انہیں کیا مسئلہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کو تیار ہو گئے ہیں۔ جناب والا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ باضابطہ طور پر یہ تسلیم کر چکا ہے کہ بیت المقدس اسرائیل کا حصہ ہے فلسطین کا نہیں ۔یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ جس طرح تل ابیب جو کہ اب تک اسرائیل کا دارالحکومت ہے اس کی بجائے بیت المقدس کو تل ابیب کا درجہ دیا جانا طے ہے یعنی دارالحکومت کا۔ 

دل اس وقت خون کے آنسو رو رہا ہے اور ہاتھ اس تحریر پر ساتھ نہیں دے پا رہے۔ ہماری مذہبی و ملی اساس دشمن کے قبضہ میں ہے۔ ایک ارب سے زائد مسلمان، دنیا کے امیر ترین لوگ مسلمان، اسرائیل کی ناجائز ریاست کے گردہا گرد ریاستیں مسلمان، دنیا میں سب سے زیادہ جنگجو پہچانے جانے والے مسلمان، دنیا کی بہترین افواج کے حامل ممالک مسلمان، دنیا کی طاقتور شخصیات مسلمان، اور حالت زار یہ کہ قبلہ اول بیت المقدس طاغوت کے نرغے میں۔ 

شرم نہیں آتی ! ڈوب کے نہیں مر جاتے وہ جنہوں نے امریکی خاتون اول میلانیاٹرمپ کی ایک مسکراہٹ پر کروڑوں روپے عطیہ کر دیے لیکن فلسطین کے لیے ایک روپیہ ان کی جیب سے نہ نکل سکا۔ 

شرم آتی ہے مجھے انہیں اپنا رہنما کہتے ہوئے جنہیں امریکی خاتون اول کے گردے کی رسولی کی فکر تو ہے لیکن مسلمان بیٹیوں کی لٹتی عصمتوں کی ذرہ برابر بھی پروا نہیں۔ 

یہ دودھ پیتا بچہ جس نے اپنے ایک ہاتھ میں پتھر پکڑا ہوا ہے اور اپنی قومی ہمیت کے تحفظ کے لیے سینہ تانے کھڑا ہے ! کیا اس بے غیرت و بے حس سربراہ مملکت سے زیادہ قابل عزت و تکریم نہیں جو اپنے قومی وقار کو بالائے طاق رکھ کر چند ٹکوں کی خاطر ملت کا سودا کر چکے ہیں اور جن کی موجودگی میں ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں، خوف محسوس کرتی ہیں۔ 

ڈوب مرنے کا مقام ہے ان تمام ممالک کے سربراہان کے لیے جو خود کو تعلیم یافتہ اور انسانی حقوق کا علمبردار تو گردانتے ہیں لیکن انہیں عرصہ دراز سے جاری انسانی حقوق کا قتل عام کبھی نظر ہی نہیں آیا۔ 

پورے فلسطین کی نہیں صرف غزہ کے علاقہ کی بات کر لیتے ہیں۔ پچانوے فیصد پانی پینے کے قابل نہیں، صرف چار گھنٹے بجلی میسر ہے، پینتالیس فیصد لوگ بے روزگار ہیں، چھیالیس فیصد بچے امراض کا شکار ہیں، پچاس فیصد بچوں میں زندہ رہنے کی خواہش ہی ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود بیس لاکھ لوگ نقل مکانی کو ترک کر چکے ہیں، کیوں ؟ جناب والا! وطن کی مٹی! ۔ کیا یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ نہیں ۔ پورے فلسطین کے حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ 

مورخ نوٹ کر لے: کل کے روز جبکہ بیت المقدس میں سفارتخانہ کا افتتاح ہوا ۔ یہ وہ تاریخ ہے جس دن بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا۔ 

انتہائی افسوس ان سب مسلمانوں کی رہبری کے دعویداروں پر ہے کہ جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ طاغوت سے مذاکرات کے ذریعہ فلسطین آزاد کروا لیں گے۔ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں آپ۔ ایک فلسطینی نوجوان سے جب میری گفتگو ہوئی اور میں نے سوال کیا کہ میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں ؟ اسکا جواب تھا "مجھے اسلحہ دیں تاکہ میں بیس پچیس اسرائیلی مار کر فلسطین کی متبرک زمین کو اپنے لہو سے تر کر سکوں"۔ میں ایسا نہیں کر سکتا! میرے پاس وسائل نہیں۔ ہوتے بھی تو میں پر امن حل پر زور دیتا۔ لیکن جس کسمپرسی میں فلسطینی مائیں، بہنیں، بیٹیاں ایک سپر پاور کے ایک ناجائز بچہ کے سامنے مدمقابل ہیں، میں ہر اس مسلمان سے جو اپنا کردار برا یا چھوٹا، کم یا زیادہ، ادا کر سکتا ہے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کرتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے۔ 

بلند حوصلہ فلسطینی بہن بھائی بہت مشکل میں ہیں اور ان کے وسائل انتہائی محدود۔ ان کے پہاڑ جیسے حوصلوں کو سلام لیکن یہ ہمارا فرض ہے کہ ان کے حوصلوں کو ٹوٹنے نہ دیں تاکہ اسرائیل کے ناپاک ارادوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار ہمیشہ قائم رہے۔ یار رکھیں! اگر یہ حوصلوں کی دیوار گر گئی تو نہ کوئی عرب اور نہ ہی عجم کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ آدھے مسلمان ممالک میں تو پہلے ہی اپنے ایجنٹوں کی مدد سے آگ لگائی جا چکی ہے۔ باقی ماندہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اس سے آگے میرا قلم خاموش ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری