امریکہ کا اصل ایجنڈا کیا ہے ؟

جو کچھ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا، اس میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔

امریکہ کا اصل ایجنڈا کیا ہے ؟

خبر رساں ادارہ تسنیم: یہ بات واضح ہے کہ امریکہ ایران کے حوالے سے مسلسل اپنے مطالبات اور اقدامات کی سطح کو بڑھاتا جارہا ہے۔

اگر ہم فرض کرتے ہیں کہ امریکہ کے موجودہ مطالبات کا جواب ایران کی جانب سے مثبت دیا جائے تو کیا اس کے بعد یہ مسائل ختم ہوجاینگے؟

یہ وہ بنیادی سوال ہے جو امریکہ کے اصل ایجنڈوں کو برملا کرتا ہے کیونکہ بنیادی طور پر امریکہ جو الزامات ایران پر لگارہا ہے اس کے بارے میں اسے خود بھی یقین ہے کہ وہ من گھڑت قسم کے الزامات ہیں جن کی کوئی زمینی حقیقت نہیں۔

اصل ہدف ایران کی وہ پالیسی ہے جو امریکی بالادستی کے آگے نہ صرف جھکنے کے لئے تیار نہیں بلکہ ایران کی کوشش ہے کہ خود وہ اور دوسرے بھی امریکہ کے اس گھمنڈ سے بھرپور بالادستی کی خواہش کے آگے نہ کہنے کی جرات پیدا کریں۔

اگر امریکی الزامات کو بغور دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ ایران میں موجود سسٹم کو ختم کرنے کی کوشش میں دکھائی دیتے ہیں گرچہ رسمی طور پر وہ یہ بات نہ بھی کہتے ہوں لیکن اصل مسئلہ یہی ہے۔

اپنے زعم میں امریکہ مسلسل اس بات کی کوشش میں ہے کہ ایرانی عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے ایجاد کرے لیکن یہ بات واضح ہے کہ امریکہ کی ان کوششوں کا نتیجہ بالکل الٹا نکل رہا ہے کیونکہ ایرانی عوام میں بیرونی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ایرانیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ گھر کے اندر آپس میں جس قدر چھریاں چلائیں لیکن خارجیوں کے مقابل سب کی چھریاں اکھٹی ہوجاتی ہیں۔

ایرانی عوام میں شیطان سے زیادہ امریکی حکومت کے لئے نفرت پائی جاتی ہے اور یہ نفرت ایک ایرانی بچہ اپنی ماں کی گود سے ہی سیکھ لیتا ہے۔

ایران جانے والے افراد کا تجربہ رہا ہے کہ ایرانی امریکی پالیسیوں اور اسرائیلی وجود کو فرعون اور یزید کی طرح نفرت انگیز نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ ایران میں چند ہزار ایسے افراد بھی ہوں جنہیں امریکہ کے بڑوں کی باتیں لبھاتیں ہوں لیکن بلاتفریق قوم و عقیدہ عوام کی واضح اکثریت میں امریکی بیانات کے لئے کسی قسم کی پذیرائی نہیں پائی جاتی۔

تو پھر امریکہ کے ان بیانات کا مقصد کیا ہے ؟

الف: امریکہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ وہ ایرانی عوام کا مخالف نہیں بلکہ نظام کا مخالف ہے۔ 

ب: امریکہ ایران پر لگائی جانے والی پابندیوں سے ممکنہ طور پرمتاثر ہونے والے عام ایرانی کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کا اصل سبب ان کا نظام اور پالیسی ہے۔

امریکہ کی تازہ ترین پابندیوں کا اصل مقصد کیا ہے اور کیا کیا اہداف اپنے اندر رکھتی ہیں؟

یہ بات تو واضح ہے کہ ایران پر پابندی لگانے سے امریکی معیشت کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن یورپ ضرور اس سے متاثر ہوگا جو ایران سے تیل خریدتا ہے اور بہت سی یورپی کمپنیوں نے ایران میں بڑے بڑے پروجیکٹ شروع کررکھے ہیں۔

لیکن ہم یہاں چند نکات کی شکل میں بعض مقاصد کا خلاصہ کرتے ہیں؛ 

الف: ایرانی بیلیسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی تحریکوں کی حمایت سے روکنے کا اصل مقصد اسرائیل کو فل پروٹیکشن فراہم کرنا ہے جو القدس کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے اور صدی کی سب سے بڑی ڈیل کی جانب جارہاہے اور اس کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ مزاحمتی تحریکیں اور ایران کی مضبوط دفاعی پوزیشن ہے۔

بغور دیکھئے کہ امریکہ نے کھلے لفظوں کہا کہ ’’ایران حزب اللہ، حماس، انصار اللہ کی مدد بند کردے‘‘، یہ تینوں جماعتیں اسرائیل مخالف ایجنڈا رکھتی ہیں۔

حزب اللہ اور حماس اسرائیلی غاصبانہ قبضے کے سبب وجود میں آئی جبکہ انصار اللہ یمن پر سامرجی ایجنڈوں کیخلاف وجود میں آئی اور ان کا بنیادی نعرہ اسرائیل مردہ باد ہے۔

امریکہ نے ایران پر الزام لگایا کہ اس نے عراق اور شام میں جماعتوں کی مدد کی اور کررہا ہے تو یہ واضح ہے کہ عراق اور شام میں جب سے داعش اور القاعدہ جیسی دہشتگرد تنظیمیں وجود میں لائی گئیں تب سے ایران نے دہشتگردی کیخلاف مقابلے کے لئے دونوں ملکوں کی قانونی حکومتوں کی جانب سے درخواست پر مدد کی اور کررہا ہے۔

دوسری بات وہاں مقدس مقامات کی حفاظت بھی ایران کی ذمہ داری بنتی ہے اور عالم اسلام اور خاص کر شیعہ مسلک کے لوگ ایران سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان مقامات کی حفاظت کرے گا۔

ب: امریکہ ایران سے کہتا ہے کہ شام و عراق سے اپنی یا اپنی حمایت یافتہ فورسز کو واپس بلائے۔ 

سوال یہ ہے کہ شام اور عراق کی قانونی حکومت ایران سے مدد چاہتی ہیں لہذا امریکہ کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ ایسا مطالبہ کرے؟

ج: کہا جاتا ہے کہ امریکہ درپردہ ایران کو یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ وہ روس سے بے وفائی کرے تو سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ 

بات دراصل یہ ہے کہ امریکہ کے تمام ایجنڈے باوجود کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے مغربی ایشیا میں یکے بعد دیگرے ناکامی کا شکار ہوچکے ہیں۔ 

جن مزاحمتی جماعتوں کیخلاف وہ پابندی کی بات کررہا ہے انہی جماعتوں نے اسے ان منصوبوں میں ناکام بنایا ہے۔

امریکہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا ہے کہ پروپیگنڈہ کرے اور اپنی جانب سے پابندیاں لگائے۔

امریکہ میدان معرکہ میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں وہ مزاحمتی بلاک کے ساتھ دوبدو ہونے کی بالکل بھی سکت نہیں رکھتے لہذا ان کےپاس اس وقت اس کے علاوہ کوئی آپشن باقی نہیں بچا۔

لیکن کیا وہ اس میں کامیاب ہونگے؟

ماضی کی تاریخ بتارہی ہے کہ وہ یہاں بھی ناکامی کا شکار ہونگے۔

بشکریہ:Focus on West & South Asia - URDU 

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری